اسپرین کے استعمال کینسر سے بچا جاسکتا ہے

بہت سارے مطالعات اور سائنسی رپورٹوں کے تجزیاتی جائزے یعنی میٹا اسٹڈی سے معلوم ہوا ہے کہ اسپرین نظامِ ہاضمہ اور معدے وغیرہ کے سرطان کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس ضمن میں بعض طبی آزمائشیں بھی کی گئی ہیں۔
اطالوی سائنسدانوں نے اپنی توجہ اسپرین کے طویل عرصے تک استعمال اور نظامِ ہاضمہ کے سرطان کے درمیان تعلق کا بطورِ خاص مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے میں کل 113 تحقیقات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اسپرین لبلبے اور جگر کے سرطان کو بھی روکتی ہے۔ معلوم ہوا کہ اگر ہفتے میں ایک سے دو مرتبہ اسپرین کا استعمال کیا جائے تو کئی طرح کے کینسر کو لاحق ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔ یعنی آنتوں کے سرطان میں 27 فیصد، معدے کے کینسر میں 36 فیصد اور لبلبے کے کینسر میں 22 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔ اگر اسپرین کی خوراک کی مقدار اور اسے کھانے کا دورانیہ بڑھا دیا جائے تو اس سے مزید فائدہ بھی ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر 75 سے 100 ملی گرام اسپرین استعمال کی جائے تو استعمال نہ کرنے والے کے مقابلے میں اس سے کینسر کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح 325 ملی گرام اسپرین اس خطرے کو 35 فیصد تک ٹال دیتی ہے جب کہ 500 ملی گرام اسپرین کی خوراک 50 فیصد تک سرطان کو روک سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس کےلیے ضروری ہے کہ آپ مسلسل پانچ سے دس برس تک اسپرین کھانے کو معمول بنائیں کیوں کہ جیسے جیسے دورانیہ بڑھے گا اسپرین کا فائدہ بھی بڑھتا جائے گا۔
