اس برس سوات کی لاکھوں ٹن ٹراوٹ فش کھانے والا کوئی نہیں

دہشتگردی کی وجہ سے پچھلے کئی برسوں سے ہچکولے کھاتا سوات کی ٹراؤٹ فش فارمنگ کا کاروبار اب بہتری کی طرف گامزن ہوا ہی تھا کہ اس برس کرونا وباء نے اسے مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ کرونا وائرس کے باعث سوات میں سیاحوں کی آمد پر پابندی کی وجہ سے اس برس 400 ٹن ٹراؤٹ مچھلی ضائع ہونے جا رہی ہے جس سے فش فارم مالکان کو کروڑوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔ یاد رہے کہ سوات ميں پھلوں اور سبزيوں کے بعد سب سے زيادہ ریونیو ٹراؤٹ مچھلی کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔ سوات ٹراؤٹ کی افزائش اور اسکے مزیدار ذائقے کی بدولت عالمی شہرت رکھتا ہے۔ سوات میں پہلی ٹراؤٹ فش ہیچری 1950 میں قائم ہوئی تھی جبکہ سب سے بڑا ایکوا کلچر یعنی آبی کلچر بھی سوات میں قائم ہے۔ سوات میں تین قسم کی ٹراؤٹ مچھلیوں کی افزائش ہوتی ہے جن میں کیم لوپ، رین مبو اور براؤن شامل ہیں، جن کی قیمت بالترتیب آٹھ سو، ایک ہزار اور 13 سو روپے فی کلو تک ہے۔
ٹراؤٹ مچھلی پیدائش کے بعد 14ماہ میں فروخت کے لئے تیار ہوجاتی ہے جس کا وزن 250 گرام تک ہوتا ہے۔ سوات کی ٹھنڈی آب و ہوا ٹراؤٹ فش کی افزائش کے لیے موزوں تر قرار دی جاتی ہے۔ سوات میں گرمی اور سردی دونوں موسموں میں ٹراؤٹ کا کاروبار عروج پر ہوتا تھا ۔ تاہم اس برس کاروبار کو کرونا لے ڈوبا ہے۔ ایک ٹراوٹ فارم کے مالک نے بتایا کہ گرمیوں میں انکہ اوسطا ماہانہ ایک ہزار کلو تک مچھلی فروخت ہوتی ہے جبکہ سردیوں میں اسلام آباد اور دیگر شہروں کے بیوپاری تھوک کے حساب سے خریداری کرتے ہیں جس سے سیل بہت بڑھ جاتی ہے۔ تاہم اب کرونا پھیلنے کے بعد تو ان کے پاس نہ ٹورسٹ آرہا ہے اور نہ ہی تھوک کا گاہک جس سے انکا کاروبار تباہی کا شکار ہے۔
محکمہ فشریز سوات کے مطابق خیبر پختونخوا میں سوات ٹراؤٹ کی پیداوار میں پہلے نمبر ہے جہاں اس کی پیداوار پانچ سے چھ ٹن ہے، تاہم سوات میں دہشت گردی کے باعث اس اس شعبے کو بہت نقصان ہوا تھا اور ٹراوٹ فش فارمز تقریبا ختم ہوگئے تھے۔ لیکن کچھ برسوں سے یہ فارمز بحال ہونا شروع ہوئے رھے۔ تاہم کرونا کی وجہ سے ایک بار پھر ٹراؤٹ کی فارمنگ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور مچھلی تیار ہو کر مرنے کا خدشہہ ہے کیونکہ نہ تو اسے کوئی خریدنے والا ہے اور نہ ہی کھانے والا کیونکہ سیاحت پر پابندی ہے اور مقامی افراد جتنی بھی مچھلی کھا لیں، لاکھوں کلوگرام پھر بھی بچ جائے گی۔
سوات ٹراؤٹ فش فارمنگ ایسوسی ایشن کے مطابق سوات میں دو سرکاری اور 150 سے زیادہ نجی ٹراؤٹ فارمز موجود ہیں، جن میں ایک اندازے کے مطابق اس وقت 4 لاکھ کلوگرام ٹراؤٹ مچھلی موجود ہے۔ کرونا کی وجہ سے سیاحوں کے آنے پر پابندی اور ہوٹل و ریسٹورنٹس کی بندش سے ان مچھلیوں کے مرنے کا خدشہ ہے۔ فارم مالکان کے مطابق رواں سال ٹراؤٹ مچھلی کی پيداوار بہت اچھی ہوئی ہے۔ اس وقت صرف سوات ميں ايک لاکھ کلو سے زائد ٹراؤٹ مچھلی دستياب ہے۔ تاہم کرونا کے سبب خريدار نہ ہونے کی وجہ سے ٹراؤٹ فارمز کے مالکان اور یہاں کام کرنے والے افراد شديد مالی بحران کا شکار ہو گئے ہيں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کے کاروبار کا انحصار سياحت پر ہوتا ہے۔ گزشتہ سال عيد الفطر پر 20 لاکھ سے زائد افراد نے وادی سوات کا رُخ کيا تھا جس وجہ سے علاقے کے کاروبار ميں بہت زیادہ بہتری آئی تھی۔ لیکن رواں برس اب تک صرف چند سو سياحوں نے سوات کا رُخ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات کے ٹراؤٹ فارمز ميں مچھلی تيار ہونے کے باوجود خريدار نہيں ہيں۔ خريداروں کی عدم موجودگی کی صورت ميں انہيں مچھلی کو خوراک زيادہ فراہم کرنی پڑتی ہے۔ ایک طرف مچھلی کے گاہک نہیں ہیں دوسری طرف مچھلیوں کی خوراک بھی مقامی سطح پر دستیاب نہیں کہ انہيں اپنے فارم کے لیے لاہور اور کراچی سے خوراک منگوانی پڑتی ہے۔ ذرائع آمد و رفت کے مسائل ہونے کی وجہ سے خوراک کی قيمت ميں کئی گنا اضافہ ہو گيا ہے جس کی وجہ سے وہ لاکھوں روپے کے مقروض ہو چکے ہیں۔ سياحوں کی غير موجودگی ميں ان کے قرضے ميں مزيد اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث وہ غير يقينی صورت حال سے دوچار ہيں۔۔
انھوں نے مزید خدشہ ظاہر کیا کہ جولائی، اگست اور ستمبر ميں تيز بارشوں کے باعث یہ فارمز کہیں سيلاب کی نظر نہ ہو جائيں۔ ياد رہے کہ 2010 کے تباہ کُن سيلاب سے سوات کے علاقوں بحرين اور مدين کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ سيلابی ريلے نے متعدد ٹراؤٹ فش فارم کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔ قبل ازیں 2006 سے 2009 کےدرمیان دہشت گردی کے باعث سوات ميں مچھلی کے کاروبار کو شديد نقصان پہنچا تھا اوربڑی تعداد میں مچھلياں ضائع ہو گئی تھيں۔ ياد رہے کہ ٹراؤٹ مچھلی صاف شفاف اور معتدل درجہ حرارت والے پانی ميں ہی زندہ رہ سکتی ہے جبکہ یہ پانی کے بہاؤ کے مخالف سمت ميں تیرتی ہے۔ اس لیے اسے زيادہ طاقت ور مچھلی تصور کيا جاتا ہے۔ ٹراؤٹ مچھلی بہت حساس ہوتی ہے اور اس کی افزائش پر بہت وقت لگتا ہے۔ 500 گرام کی مچھلی کو تيار ہونے ميں تقريبا ڈيڑھ سال لگ جاتا ہے۔ سوات ميں ٹراؤٹ مچھلی کے لیے فارم دريائے سوات کے ٹھنڈے اور برفيلے پانی کے کنارے بنائے گئے ہيں۔ خيبر پختونخوا ميں ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش سوات کے علاوہ دير، شانگلہ، چترال، کوہستان اور مانسہرہ ميں بھی کی جاتی ہے۔
