اس دفعہ جان بچا کر عید کیسے منائی جائے؟


عیدالاضحی تو ہر برس آتی ہے لیکن اس مرتبہ پاکستانی عوام کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بقرعید کو کیسے منایا جائے اور ایسا کرتے ہوئے خود کو کرونا سے کیسے بچایا جائے؟ اس برس کرونا کی وجہ سے مویشی منڈی جانے، جانور خرید کر لانے، قصائی کے پہلو میں بیٹھ کر گوشت بنوانے، کھانے کھلانے اور ملنے ملانے میں بہت احتیاط برتنا ہوگی۔ یاد رہے کہ چھوٹی عید کے موقع پر بے احتیاطی سے پاکستان میں کرونا کے پھیلاو میں تیزی آگئی تھی اور اموات میں اضافہ ہو گیا تھا۔ اب پھر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جس طرح عیدالفطر کے بعد کرونا کے کیسز میں اچانک نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا اسی طرح عیدالاضحیٰ پر بھی اس وائرس کا پھیلاؤ ایک مرتبہ پھر شدت پکڑ سکتا ہے۔
عیدالفطر کے موقع پر لوگوں کی جانب سے بے خوف و خطر انداز ميں خریداری، مساجد میں اجتماعات اور دیگر میل ملاپ میں سماجی فاصلے کے ضوابط کا خیال نہ رکھنے پر کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ میں اچانک تیزی دیکھی گئی تھی۔ ملک میں عیدالفطر سے قبل سماجی فاصلے اور بندشوں میں نرمی کے اعلانات کی قیمت اگلے چند ہی دنوں میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں نمایاں اضافے کے صورت میں سامنے آئی تھی۔22 کروڑ آبادی والے ملک پاکستان میں جون میں کرونا وائرس کے مصدقہ نئے کیسز کی تعداد چھ ہزار یومیہ تک دیکھی گئی جب کہ قریب ڈیڑھ سو افراد یومیہ ہلاک ہوئے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اس وقت دو لاکھ ستر ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے جب کہ اب تک ساڑھے پانچ ہزار سے زائد افراد اس بیماری کے باعث لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر مویشیوں کی خریداری کے مقامات پر اجتماعات اور پھر قربانی کے دنوں میں بھی عام میل ملاپ ممکنہ طور پر اس وائرس کے پھیلاؤ کے بڑے محرکات بن سکتے ہیں۔ حالیہ کچھ ہفتوں میں پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد قریب ڈھائی ہزار یومیہ رہی جب کہ اوسطاً ستر افراد یومیہ ہلاک ہوئے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے کیسز میں کمی کا رجحان اصل میں بیماری کے پھیلاؤ میں کمی نہیں بلکہ ٹیسٹوں کی تعداد میں کمی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں اس وقت عمران خان حکومت کی ‘اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ کی پالیسی کے تحت فقط ان علاقوں کو بند کیا جاتا ہے، جہاں کورونا وائرس کا پھیلاؤ واضح حد تک زیادہ ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ پر ممکن ہے کہ عام افراد ماسک کا استعمال مستعدی سے نہ کریں اور میل جول میں سماجی فاصلے کے ضوابط کا خیال نہ رکھ سکیں۔ عمران خان نے چند روز قبل اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ میں تمام قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی کے اس رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل پيرا رہیں۔ عیدالاضحیٰ ضرور منائیں مگر سادگی کے ساتھ تاکہ ویسا دوبارہ نہ ہو جیسا عیدالفطر پر ہوا۔
عمران خان کے مطابق صحت سے متعلق ہدایات کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ملکی نظام صحت اور ہسپتالوں پر شدید دباؤ پڑ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سماجی فاصلے کے ضوابط پر سختی کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔ پاکستان میں مویشی منڈیوں کے لیے بھی ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں، جب کہ مویشی فروخت کرنے والوں سے کہا گیا ہے کہ اگر ممکن ہو، تو جانوروں کی فروخت کے لیے آن لائن طریقے متعارف کرائیں۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ عیدالفطر کے موقع پر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد میں کوتاہی کورونا وائرس کیسز کے حوالے سے ایک نئی بلندی کا موجب بن سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button