اشتعال انگیز نعرے عورت مارچ کا تاثر خراب کر رہے ہیں

معروف پاکستانی شوبز سلیبرٹی ماہرہ خان نے عورت مارچ پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ضروری اور نامناسب نعرے اور گمراہ کن پوسٹرز ز دراصل اس کا تاثر خراب کر رہے ہیں اور عورت مارچ کو حقوق نسواں کے اصل ایجنڈے سے دور کر رہے ہیں۔
ماہرہ خان نے عورت مارچ کے حوالے سے تجاویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا ہم ایسے پلے کارڈز نہیں اٹھا سکتیں اور ایسے نعرے نہیں لگا سکتی جو عورت کے حقوق کے بارے میں آگہی کے اصل مقصد سے متعلق ہوں، ہم ایسے سلوگنز کیوں نہ لے کر چلیں جو ہمارے اصل مسائل کے حل سے متعلق ہوں اور عورت کے ان بنیادی حقوق اور ضروریات کے متعلق ہوں جس کے لیے عورت مارچ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ یہ تجاویز دے کر دراصل ماہرہ خان ان میرا جسم میری مرضی اور کھانا تم گرم کرو، بستر میں گرم کرو کروں گی جیسے متنازعہ نعروں پر بالواسطہ اعتراض کر رہی ہیں۔
عورت مارچ کے حوالے سے پاکستانی معاشرہ اس وقت واضح طور پر تقسیم دکھائی دیتا ہے۔ حمایت اور مخالفت کرنے والے کھل کر میڈیا اور سوشل میڈیا پر اپنے رائے کا اظہار بھی کررہے ہیں، دراصل عورت مارچ اس وقت متنازع حیثیت اختیار کرگیا تھا جب اس میں کچھ ایسے پلے کارڈز سامنے آئے جس پر عوام کی جانب سے شدید تنقید کی گئی، تاہم عورت مارچ کے منتظمین کی جانب سے ان قابل اعتراض پلے کارڈز کا غیر ضروری دفاع کیا گیا۔ اعتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ میرا جسم میری مرضی کی بجائے میرا وجود میری مرضی کا نعرہ بھی لگایا جاسکتا تھا لیکن میرا جسم میری مرضی کے نعرے پر اصرار سے پورے عورت مارچ کو ہی متنازع کیا جارہا ہے۔
پاکستانی فلم اسٹار ماہرہ خان نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ہونے والے ’عورت مارچ‘ میں کیا ہو اور کیا نہ ہو کے متعلق تجاویز دی ہیں۔ ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں ماہرہ خان نے لکھا کہ ’وہ یکسو ہیں کہ عورت مارچ کے منتظمین تجربہ کار ہیں، خواتین کےلیے برسوں سے کام کر رہے ہیں۔ انہیں بہتر اندازہ ہے کہ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے کچھ مشاہدات لکھے ہیں۔ شوبز کے علاوہ مہاجرین اور انسانی حقوق سے متعلق موضوعات پر فعال رہنے والی ماہرہ خان نے اپنی ٹویٹ کے ساتھ #WhyIMarch کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے ایک تحریر شیئر کی۔
ماہرہ خان نے لکھا کہ ہم مارچ کیوں کرتے ہیں؟ وسائل و سہولیات رکھنے والی ایک خاتون ہونے کے ناطے میں ان خواتین کے لیے مارچ کرتی ہوں جو میرے جیسی پوزیشن میں نہیں، جنہیں وہ بنیادی حقوق حاصل نہیں جو مجھے پیدائش سے ہی میسر ہیں۔ پس منظر بیان کرنے کے بعد انہوں نے مزید لکھا کہ ’کیا ہم اپنے نعروں اور الفاظ کے انتخاب میں محتاط ہو سکتے ہیں۔ کیا ہم ایسے پلے کارڈز اٹھا سکتی ہیں جو اصل مقصد سے متعلق ہوں، جن مسائل کا حل چاہتے ہیں ان کے بارے میں ہوں، ان لوگوں کی بنیادی حقوق اور ضروریات کے متعلق ہوں جو ان سے ناواقف یا محروم ہیں‘۔
کیا ہم ایسے بینرز اٹھا سکتی ہیں جو ضروری قوانین کو روبہ عمل لانے اور خواتین کے لیے نقصان دہ قوانین کے خاتمے پر مبنی ہوں؟ کیا ہم نہیں چاہتے کہ لوگوں کی اکثریت جان سکے کہ ہم مارچ کیوں کرتے ہیں؟۔
ماہرہ خان نے تجاویز اور سوالات پر مبنی اپنی ٹویٹ میں لکھا ‘اگر ایسا ہی ہے تو ہم ایسے پوسٹرز کیوں اٹھاتی ہیں جو دوسروں کو بھڑکانے والے ہوتے ہیں؟ ہم ایک ایسا ملک ہیں جو مساوی حقوق، ’می ٹو‘ اور ’ٹائم از اپ‘ جیسے خیالات سے متعارف ہو رہے ہیں۔‘
مارچ کے شرکا اور اثر رکھنے والے افراد کو تلقین کرتے ہوئے ماہرہ خان نے لکھا ’موثر پوزیشنز پر موجود یا طاقت اور اختیار رکھنے والوں کو ایسی زبان بولنی چاہیے جو عام فرد کی سمجھ کے مطابق ہو۔ ہم اپنے لیے مارچ نہیں کرتے، ہم ان کے لیے مارچ کرتے ہیں جو اپنے لیے مارچ نہیں کر سکتے‘۔
عورت مارچ پر ٹیلی ویژن پروگرامز میں ہونے والی گفتگو اور مختلف آرا رکھنے والوں کی شدید بحث اور بدکلامی کے حوالے بھی ماہرہ خان کی ٹویٹس میں دکھائی دئیے۔ متعدد صارفین نے ماروی سرمد اور ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمن قمر کی حالیہ بحث کا حوالہ دیتے ہوئے ماہرہ خان کی رائے جاننا چاہی، جس پر اداکارہ نے دونوں کرداروں کی گفتگو میں نامناسب الفاظ کی ادائیگی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button