اشتیاق بیگ نے نازیہ حسن کے حوالے سے الزامات رد کر دیے

ممتاز صنعت کار اور سماجی شخصیت مرزا اشتیاق بیگ نے گلوکار زوہیب حسن کی جانب سے لگائے گئے سنگین الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان پر ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کر دیا۔ زوہیب حسن نے مرزا اشتیاق بیگ پر اپنی بہن نازیہ حسن کی 21 ویں برسی کے موقع پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ نازیہ جیتے جی یہ بیان دیا تھا کہ انکے شوہر نے انہیں زہریلی چیز کھلائی تھی جس کے بعد وہ کینسر کا شکار ہوئیں۔ تاہم اب مرزا اشتیاق بیگ نے زوہیب حسن کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے ان پر ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کر دیا۔
اشتیاق بیگ نے زہیب کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک عام آدمی بھی جانتا ہے کہ کینسر ایک ایسا لاعلاج مرض یے جو خود بخود ہوتا ہے اور کسی کو لگایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نےدعویٰ کیا کہ زہیب ان سے پیسے ہتھیانے اور انہیں بلیک میلنگ کرنے کے لیے ایسے بیہودہ اور تکلیف دہ الزامات لگا رہا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے مرتے دم تک نازیہ حسن کو طلاق نہیں دی تھی اور وہ آخری لمحے تک ان کی اہلیہ تھیں۔ مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق زوہیب حسن چاہتے تھے کہ نازیہ حسن کسی سے شادی نہ کریں کیونکہ ان کی کمائی پر ہی ان کے بھائی کا گزر بسر ہوتا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ مجھ سے شادی کرنے کے بعد جب نازیہ نے گلوکاری کو خیرباد کہا تو زوہیب حسن کا کیریئر ختم ہو گیا اور وہ مالی طور پر کمزور ہوگیا۔ لہازا اس نے انکا گھر اجاڑنے کی سازش شروع کر دی اور تب سے وہ ان کے پیچھے پڑے ہوا ہے اور بلیک میلنگ کے ذریعے ان سے پیسہ ہتھیانا چاہتا ہے۔
معروف صنعت کار کا کہنا تھا کہ زوہیب نے پہپے نازیہ حسن فاوٌنڈیشن بنا کر فنڈز بٹورے اور اب انہیں بلیک میل کرنے کے لیے ان پر الزامات لگا رہامہے۔ مرزا اشتیاق بیگ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نازیہ حسن کی وفات سے ایک ہفتہ قبل ان کی طلاق کا ڈرامہ اس لیے رچایا گیا کہ ان کی اور ان کی اہلیہ نازیہ کی برطانیہ، دبئی اور مراکش میں مشترکہ جائیداد تھی اور بینک اکاؤنٹس میں لاکھوں پاؤنڈز پڑے ہوئے تھے جنہیں زوہیب حسن اور ان کے اہل خانہ ہتھیانا چاہتے تھے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ نازیہ حسن کے والد نے ان سے انکے بیٹے کی حوالگی کے لیے تب 10 لاکھ پاؤنڈز طلب کیے تھے۔
مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق جب نازیہ حسن کے اہل خانہ نے یہ سب کچھ کیا، تب ان کی اہلیہ بے ہوشی کے عالم میں ڈیتھ بیڈ پر تھیں، اور انہیں کسی چیز کا کچھ علم نہیں تھا۔ تب تک ڈاکٹرز نے بھی ہمیں جواب دے دیا تھا۔اسی حوالے سے مرزا اشتیاق بیگ نے بتایا کہ ان کی طلاق آختی لمحے تک نہیں ہوئی تھی۔ اس ضمن میں جھوٹی معلومات اور خبریں پھیلائی جاتی رہی ہیں صنعت کار کا کہنا تھا کہ انہوں نے نازیہ سے کینسر کی تشخیص کے بعد ہی شادی کی تھی اور یہ بھی غلط بات ہے کہ ان کی اہلیہ کو بیضہ دانی کا کینسر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نازیہ کو پھیپھڑوں کا کینسر تھا۔
مرزا اشتیاق بیگ نے دعویٰ کیا کہ زوہیب حسن ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن اور سابق گورنر عشرت العباد کے ترجمان رہ چکے ہیں، وہ بھتہ خوری اور بلیک میلنگ میں بھی ملوث رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا میرے پاس ایسے شواہد اور دستاویزات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نازیہ اور ان کے درمیان طلاق نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس وقت پاکستان سے باہر ہیں اور ملک واپس آ کر تمام شواہد پیش کریں گے۔ مرزا اشتیاق بیگ نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ نازیہ حسن کی 21 ویں برسی کے موقع پر ان پر اسطرح کے جھوٹے الزامات لگائے گئے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے زوہیب حسن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بہن نازیہ اور مرزا اشتیاق کے درمیان طلاق ہو چکی تھی اور نازیہ نے شوہر پر تشدد اور قید کے الزامات لگائے تھے۔ تاہم اشتیاق بیگ نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے زوہیب حسن پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ نازیہ حسن نے 1995 میں میاں اشتیاق بیگ سے شادی کی جن سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔ نازیہ حسن کینسر کے علاج کے دوران برطانیہ میں 13 اگست 2000 کو چل بسی تھیں۔
