اشرافیہ ٹیکس چوری کیلئے کونسے طریقے اپناتی ہے؟

تاجر چھوٹا ہو یا بڑا، ٹیکس بچانے میں دونوں ہی ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے ہیں، مالدار افراد نے تو اس مقصد کے لیے پوری پوری ٹیم ہائر کر رکھی ہوتی ہے، جوکہ ٹیکس بچانے کیلئے نت نئے آئیڈیاز مالک کو پیش کرتے ہیں، بہت امیر لوگ ہر چیز کو کاروباری اخراجات کے طور پیش کرتے ہیں مثلاً نجی جہاز، جس کا کاروباری استعمال دکھا کر اخراجات کو ٹیکس سے منہا کیا جا سکتا ہے۔کیا آپ کم ٹیکس ادا کرنا چاہتے ہیں؟ زبردست۔ پہلا کام یہ کریں کہ امیر شخص بنیں۔ پھر ایک کشتی خریدیں یا سپورٹس ٹیم. خیرات میں بہت کچھ دیں۔ کچھ رقم سٹاک مارکیٹ میں کھو دیں۔ سب سے بڑھ کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا زیادہ تر پیسہ اثاثوں کی شکل میں ہو نہ کہ نقد رقم کی شکل میں۔ اس حوالے سے سٹاک مارکیٹ، ریئل اسٹیٹ، مہنگی ڈچ پینٹنگ کی خریداری، عمدہ زیورات، یا جو کچھ بھی آپ کے دماغ میں آتا ہے۔ویب سائٹ ووکس ڈاٹ کام کے مطابق کہا جاتا ہے کہ پیسہ آفاقی زبان ہوتا ہے لیکن یہ مختلف انداز میں بات کرتا ہے۔ جب آپ کے پاس بے تحاشا دولت ہوتی ہو تو زیادہ خرچ کر کے زیادہ بچانا سمجھ میں آتا ہے۔ جب تک پیسہ بہت زیادہ نہ ہو اس کی بہت زیادہ اہمیت نہیں ہوتی۔ آپ کے پاس بہت سا پیسہ ہونے کی صورت میں آپ اس طرف توجہ دینا شروع کر دیتے ہیں وہ آپ کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے، خاص طور پر جب ٹیکس بچانا ہو۔ اس لیے بہت زیادہ امیر لوگ ایسے کام کرتے ہیں جو ہو سکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو بہت زیادہ مہنگا لگتے لیکن اصل میں انہیں ٹیکسوں میں بہت زیادہ بچت ہوتی ہے۔ یہ کہنا ہے ایسا کہ ’بہت زیادہ کیوں نہ خرچ کیا جائے جب اس کا مطلب یہ ہو کہ آپ بہت زیادہ بچا لیں گے۔یہی وجہ ہے کہ بہت زیادہ امیر لوگ اکثر مہنگے ٹیکس وکیلوں، ویلتھ مینیجرز کی خدمات حاصل کرتے ہیں، یا یہاں تک کہ ٹیکس پالیسی کے لیے پورا دفتر بھی قائم کرتے ہیں۔ ٹیکس اکاؤنٹنٹ اور فوکو گروپ کے ڈائریکٹر پال ویسینک کہتے ہیں کہ ’یہ کام صرف گوشوارہ تیار کرنا نہیں۔ منصوبہ بندی، جمع، تفریق، اور ٹیکسوں کو ممکنہ حد تک کم کرنے کی کوشش میں بہت کچھ شامل ہے۔ایک امیر شخص پر ایک سال میں کتنا ٹیکس واجب الادا ہوتا ہے، یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے جس میں استثنیٰ، کٹوتی، کریڈٹ اور پوشیدہ خامیاں شامل ہیں جن کے بارے میں آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا۔تحققی صحافت کرنے والے ادارے پرو پبلکا کے مطابق شیئرز پر اس وقت تک ٹیکس نہیں لگایا جاتا جب تک کہ وہ فروخت نہ کیے جائیں اور پھر بھی جس چیز پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے وہ فروخت پر حاصل ہونے والا منافع ہے۔ اس ٹیکس کو کیپیٹل گین ٹیکس کہا جاتا ہے۔ ٹیکس میں کمی کا ایک اور طریقہ ٹیکس کی شرح میں فرق کا فائدہ اٹھانا ہے جو اثاثے کی قسم اور کسی کے پاس اس کی موجودگی کی مدت کی بنیاد پر مختلف ہوتا ہے۔ شیئرز اور بانڈز کی فروخت سے طویل مدتی منافع یعنی ایک سال سے زیادہ عرصے تک رکھے گئے اثاثوں پر صفر فیصد اور 25 فیصد تک کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔جب آپ بہت امیر ہوں ہر چیز کو کاروباری اخراجات کے طور پر لینا اہم ہے۔ مثال کے طور پر نجی جیٹ طیاروں کو لیجئے اگرچہ وہ مہنگی عیش و عشرت ہے لیکن اگر جیٹ طیارہ بنیادی طور پر کاروباری مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اخراجات کو ٹیکس سے مکمل طور پر منہا کیا جا سکتا ہے۔خیرات ایک ایسا طریقہ ہے جس سے انتہائی امیر افراد اپنے ٹیکسوں کو کم کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کی ساکھ بھی بہتر ہوتی ہے۔ ارب پتی افراد کی قائم کردہ بہت سی خیراتی تنظیمیں ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتی ہیں لیکن عطیات پر ٹیکس کٹتا ہے۔پہلے ذکر کیے گئے کچھ طریقے قانونی حیثیت کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ واضح طور پر قانونی یا غیر قانونی نہیں۔ وہ ٹھیک ہیں یا نہیں یہ ہر انفرادی صورت حال پر منحصر ہے، اگرچہ کچھ امیر لوگ خطرہ مول لینے کے لئے تیار ہوسکتے ہیں لیکن جب ٹیکس حکام کی طرف سے آڈٹ کی بات آتی ہے تو قسمت پر انحصار کرنا سمجھ داری نہیں ہوتی۔ کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

Back to top button