مریم نواز شریف کو جان سے مارنے کی اعلیٰ سطحی سازش کا انکشاف


وزیراعظم عمران خان کو کھلے عام روزانہ للکارنے والی مریم نواز شریف کو انتہائی اعلیٰ حکومتی سطح پر جان سے مار دینے کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔ مریم کو انکے خیر خواہوں نے اطلاع دی یے کہ اُنہیں کسی حادثے میں پار لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے اور کوشش کی جائے گی کہ ان کی موت حادثہ لگے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ اپنی تازہ تحریر میں یہ خبر بریک کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مریم اِس طرح کی اطلاعات کو دھمکی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی سمجھنے میں حق بجانب ہیں، کیوںکہ جب سیاسی ماحول ہی شک اور سازش کا ہو تو ایسے میں مریم شک کو حقیقت کیوں نہ سمجھیں؟ سہیل وڑائچ کے مطابق جب شفافیت نہیں ہوتی، جبر اور ظلم کی دھند چھائی ہوتی ہے تو پھر جسٹس وقار احمد سیٹھ، جج ارشد ملک اور علامہ خادم حسین رضوی کی موت بھی مشکوک بن جاتی ہے۔
ہر طرف سازش اور شک کا دور دورہ ہے، جب ریاست میں قانون کی عملداری اور انصاف کی بالا دستی نہ ہو تو سازش اور شک کا کلچر پروان چڑھتا ہے، ہر ایک کو دوسرے پر شک ہے کہ وہ اُس کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کو اعلانیہ شک ہے کہ اپوزیشن اُنکے خلاف سازش کر رہی ہے، اپوزیشن کو شک ہے کہ حکومت اس کے خلاف سازش کر رہی ہے اور اُس کی طاقت کو مٹانے کے لیے کوشاں ہے۔ اسٹیبلشمینٹ کو حکومت اور اپوزیشن دونوں پر شک ہے، اسے اپوزیشن پر شک ہے کہ وہ حکومت اور فوج کو لڑوا کر اُنہیں الگ کرنا چاہتی ہے تاکہ دونوں کمزور ہو جائیں۔
دوسری طرف اسٹیبلشمینٹ کو حکومت سے گلہ ہے کہ وہ اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کو آمنے سامنے لاکر اور لڑوا کر خود کو محفوظ بنانا چاہتی ہے جس کا نقصان ادارے کی ساکھ کو ہو رہا ہے۔ سازش اور شک کے اِس ماحول میں جہاں پارٹیاں اور ادارے ابنارمل ہو جاتے ہیں وہاں سازش اور شک افراد کو بھی غیرمحفوظ بنا دیتا ہے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سازش کے اسی ماحول میںمریم نواز کو اُن کے کسی بہی خواہ نے اطلاع دی ہے کہ اُن کو انتہائی اعلی سطح پر جان سے مار دینے کی سازش سوچی جا رہی ہے اور کوشش یہ کی جائے گی ان کے انکی موت حادثاتی لگے۔
یاد رہے کہ جسٹس وقار سیٹھ، جج ارشد ملک اور علامہ خادم حسین رضوی کی اموات بظاہر کرونا وائرس سے ہوئیں لیکن سازشی نظریہ رکھنے والی یہ الزام لگا رہے ہیں کہ ان کو سازش کے تحت قتل کیا گیا گیا کیونکہ تینوں کے پاس ایسے دھماکہ دار راز تھے جو کھل جاتے تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا پراگندہ چہرہ مزید داغدار ہو جاتا۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جج ارشد ملک کی اچانک اموات کے بعد اب پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے جن کے بارے چند ماہ پہلے ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے ایک نام نہاد عالم دین نے آن کیمرا قتل کا فتوی جاری کیا تھا۔
دوسری طرف سہیل وڑائچ یاد دلواتے ہیں کہ قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک کے کئی بڑے واقعات سازش اور شک کی داغدار چادر سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ بیمار قائداعظم محمد علی جناح کو سازش کے تحت خراب ایمبولینس بھیجی گئی اور ملک کا بانی کئی گھنٹے سڑک پر دوسری ایمبولینس کا انتظار کرتا رہا۔ شک کا پھن پھیلائے سانپ ہمارے دو وزرائے اعظم لیاقت علی خاں اور بےنظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے اندر اور باہر قتل کیے جانے کو بھی سازش قرار دیں تو اسے حقیقت مانے بغیر بھی چارہ نہیں۔ اِسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی اور دوسرے کئی وزیراعظموں کی اسمبلیوں کو صدور اور عدالتوں کے ذریعے جبراً قتل پر اگر ایک سازش اور شک کا الزام لگے تو کون اِس سے انکار کرے گا؟ اِسی طرح یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کے خلاف مرضی کے عدالتی فیصلوں کے ذریعے اُنہیں وزارتِ عظمیٰ سے نکالنے کو سازش اور شک کے زمرے میں شامل کئے جانے کے علاوہ چارہ کار کیا ہے؟
سہیل وڑائچ کا استدلال ہے کہ شک اور سازش کی عمومی صورتحال کے باوجود ریاست سے یہ سوال اُٹھانا پڑتا ہے کہ اسکا کا پہلا فرض تو فرد کے جان و مال کی حفاظت ہے، ایسے میں مریم نواز کو اگر حکومت اور ریاست سے ہی اپنی جان کا خطرہ ہو تو کون ہے جو اُسے دلاسہ دے اور کون ہے جو اُسے اِس پریشان کن صورتحال سے امان دے؟ نہ یہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے غیرجانب دار نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی عدل و انصاف فراہم کرنے والے ایوانوں پر مسلم لیگ ن کا اعتماد ہے۔ جب اداروں پر اتفاقِ رائے نہ ہو، نہ ہی کوئی ضمانتی یا متفق علیہ ہو، ہر کسی کو دوسرے پر شک اور سازش کا گمان ہو تو پھر گھڑمس، تصادم اور کشمکش سے کیسے بچ سکیں گے؟ کسی ریاست کے جمہوری اور انصاف پسند ہونے کا معیار یہ ہوتا ہے کہ وہاں اقلیتوں اور مخالفوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ مریم نواز کے والد لندن میں، چچا اور چچا زاد بھائی یعنی شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف جیل میں ہیں، وہ اپوزیشن کی اہم رہنما ہیں، اکیلی جنگ لڑ رہی ہیں، اگر ایسے میں اُنہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں یا واقعی اُنہیں جان سے مارنے کی سازش ہو رہی ہے تو یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
ان حالات میں سہیل وڑائچ اصرار کرتے ہیں کہ ریاست کے اعلیٰ ترین عہدیداروں اور وزیراعظم کو خود یہ اعلان کرنا چاہئے کہ مریم نواز کی جان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اور جو کوئی، جس بھی سطح پر اس بارے میں کچھ منفی سوچ رہا ہے، اُس کا احتساب کرنا چاہئے۔
حکومت اور ریاست یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں کہ مریم نواز کو محض وہم ہے، اُن کا شک ناجائز ہے، حکومتی یا ریاستی سطح پر اُنہیں مارنے کی کوئی سازش نہیں ہو رہی مگر کیا اتنا کافی ہے؟ اگر ریاستی اور حکومتی لوگوں میں اِس وقت کوئی بھی ایسا نہیں جو مریم نواز کی جان لینے کا ارادہ رکھتا یے تو بھی ریاست اور حکومت کے دشمن غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لئے ایسے وسوسے اور شک تو ڈال سکتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق ہو سکتا ہے کہ حکومت، اپوزیشن پر سازش کا جو الزام لگا رہی ہے، وہ بھی صرف شک ہو اور اپوزیشن، حکومت سے جن سازشوں کا سامنا کر رہی ہے وہ بھی محض شک ہوں مگر فرض کریں کہ ریاست کے کسی ادارے یا ملک کے کسی فرد کے ساتھ کوئی حادثہ ہو گیا، کسی سازشی نے، کسی ملک دشمن نے، کسی غدار نے، کسی لڑائی کروانے والے نے بےنظیر بھٹو جیسا کوئی نیا حادثہ کر دیا تو پھر ذمہ داری کون لے گا؟
عظیم قومیں اپنے کارناموں اور غلطیوں دونوں سے سیکھتی ہیں، ہمیں اپنے ماضی کی غلطیوں سے اپنے مستقبل کو بہتر بنانا ہے تو غلطیوں کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔
بےنظیر بھٹو کا قتل ہماری اجتماعی غلطی ہے، ریاست نے محترمہ کی حفاظت کا فریضہ حرزِ جان سمجھ کر پورا نہیں کیا، حکومتِ وقت نے اطلاعات ہونے کے باوجود سربراہِ مملکت جیسا سیکورٹی باکس بنانے پر توجہ نہیں دی، عوام نے محترمہ کی سیکورٹی کو یقینی نہ بنانے پر حکومت اور ریاست کا احتساب نہیں کیا، اور تو اور پارٹی کے رہنمائوں نے بھی محترمہ کو گاڑی سے نکلنے کی اجازت دیدی حالانکہ اُنہیں محترمہ کو روکنا چاہئے تھا۔ سہیل وڑائچ کے مطسبق اجتماعی غلطیوں کا کفارہ تبھی ادا ہو سکتا ہے کہ دوبارہ سے وہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں، ہم نے جو سلوک مشرقی پاکستان کے ساتھ کیا وہی سلوک چھوٹے صوبوں سے کرینگے تو نتیجہ بھی وہ ہی نکلے گا جو بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں نکلا۔ اِس اجتماعی غلطی سے یہ سبق سیکھنا چاہئے کہ صوبوں کے ساتھ مساوی اور منصفانہ سلوک کیا جائے تاکہ دوبارہ ایسی غلطی کا اعادہ نہ ہو سکے۔بےنظیر بھٹو کے قتل کی اجتماعی غلطی کا کفارہ تبھی ادا ہو سکتا ہے کہ آئندہ ملک کے لیڈر چاہے وہ حکومتی ہوں یا اپوزیشن کے ہوں، اُن کے جان و مال کی حفاظت کا فریضہ ریاست پوری ذمہ داری سے ادا کرے، اگر وزیراعظم اور وزراء قوم کے شعور کا اجتماعی اثاثہ ہیں تو اپوزیشن کے لیڈرز کو بھی عوام کی حمایت حاصل ہے۔ وہ بھی اجتماعی اثاثے کا اہم ترین جزو ہیں، اس لئے ریاست، سیاست سے بالاتر ہو کر اپوزیشن لیڈرز کی پوری طرح حفاظت کرے اور اسکے کیے مریم نواز کی جان کی حفاظت بھی اتنی ہی اہم ہو جتنی وزیراعظم عمران خان کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button