افراتفری کی کوشش کی گئی تو گرفتاریاں ہوں گی

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے ، لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی،لیکن اگر افراتفری کی کوشش کی گئی تو گرفتاریاں ہوں گی .
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے 25 مئی کو لانگ مارچ کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے انکا کہنا تھا لانگ مارچ کو اسلام آباد آنے کی اجازت دینی ہے یا نہیں، فیصلہ اتحادی کریں گے، اگر روکنے کا فیصلہ ہوا تو انہیں گھروں سے بھی نہیں نکلنے دیں گے، افراتفری کی کوشش کی گئی تو گرفتاریاں ہونگی، پھر قانون اپنا راستہ بنائے گا۔
انکا کہنا تھا 28 مئی کو یوم تکبیر ہے، آج پاکستان کی بنیاد ایٹمی قوت ہے، اگر پاکستان اسلامی ایٹمی قوت نہ بنتا تو دشمن ہمیں زیر کردیتا، 28 مئی کے جلسہ کی تیاری کے لئے آیا ہوں، وزیر اعظم شہباز شریف، مریم نواز جلسہ سے خطاب کریں گے، اگر حالات مناسب نہ ہوئے تو حمزہ شہباز نمائندگی کریں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا ہمارا کسی کیساتھ اس وقت الیکشن کا الحاق نہیں ہوا، ہم الیکشن کی طرف جانا چاہتے تھے، ملک کا اسوقت بھٹہ بیٹھ چکا ہے، متحدہ اتحادی کا فیصلہ ہے حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے، قانون اپنا راستہ لے گا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا آئی ایم ایف سے غلط معاہدہ کیا گیا، کاش ہمارے لئے بھی کبھی دن کو 12 بجے عدالت لگے، لانگ مارچ کی کال پر اتحادی لیڈروں نے فیصلہ کرنا ہے ، اگر انکو روکنے کا فیصلہ ہوا تو انکو گرفتار بھی کریں گے، سائبر ایکٹ موجود ہے لیکن موثر نہیں، اس قانون کو مل بیٹھ کر تبدیل کرنا ہوگا، بہاولپور صوبہ بحالی کے حق میں ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری کے حوالے سے انکا کہنا تھا شیریں مزاری نے زرعی اصلاحات والی اراضی جعل سازی سے اپنے نام کرالی، گرفتاری تفتیشی افسر کا معاملہ ہے۔
