افغانستان:امن معاہدے کے تحت امریکی فوج کے 5 اڈے ختم

امریکا کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ اہم معاہدہ ‘اگلے مرحلے’ میں داخل ہو گیا ہے جبکہ امریکا نے افغان طالبان پر امن مذاکرات کے لیے بڑھتے ہوئے تشدد میں کمی پر زور دیا ہے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فروری میں دونوں فریقین کے مابین معاہدے میں واشنگٹن نے آئندہ برس کے وسط میں افغانستان سے تمام فوجیوں کے انخلا کا عزم کیا تھا جس کے بدلے میں طالبان نے دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے افغان حکومت سے مذاکرات کا وعدہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت امریکا کا کہنا تھا کہ 135 روز کے اندر فوجیوں کی تعداد کم ہو کر 8 ہزار 600 ہوجائے جبکہ 5 فوجی اڈوں سے فورسز کو مکمل طور پر ہٹادیا جائے گا۔
امریکی نمائندہ خصوصی برائے امن عمل زلمے خلیل زاد جنہوں نے واشنگٹن کی جانب سے امن معاہدے پر مذاکرات کیے تھے، انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئےلکھا کہ معاہدے کے 135ویں روز دونوں فریقین ایک اہم سنگِ میل پر پہنچ گئے ہیں۔ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ امریکا نے معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کا پہلا مرحلہ مکمل کرنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔زلمے خلیل زاد نے خبردار کیا کہ جب معاہدہ اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہوگا تو واشنگٹن کا نقطہ نظر کچھ شرائط پر مبنی ہوگا۔ ہم قیدیوں کی رہائی کی تکمیل، تشدد میں کمی اور بین الافغان مذاکرات کے آغاز اور اس میں پیشرفت کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔
خیال رہے کہ کابل اور طالبان کے درمیان مذاکرات معاہدے میں اتفاق کردہ قیدیوں کے تبادلے کے باعث رکاوٹ کا شکار ہے، یہ تبادلہ مکمل ہونے کے قریب ہے۔
واضح رہے کہ کابل نے 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا تھا تھا جس کے بدلے میں طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز کے ایک ہزار کے قریب مغوی اہلکاروں کو رہا کرنا تھا۔افغان حکومت اب تک 4 ہزار سے زائد طالبان قیدیوں کو رہا کرچکی ہے جبکہ طالبان نے 600 سے زائد افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو آزاد کیا ہے۔
تاہم جب سے یہ معاہدہ طے پایا ہے طالبان نے افغانستان کے بیشتر علاقوں میں حملوں میں اضافہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔زلمے خلیل زاد نے بھی اس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے بڑی تعداد میں افغان شہری مرتے رہے ہیں جبکہ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس معاہدے کے بعد سے اب تک کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا۔
انہوں نے گزشتہ روز افغانستان کی انٹیلی ایجنسی کے دیہی دفتر پر طالبان کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر حالیہ دنوں اور ہفتوں میں بہت زیادہ تشدد ہوا۔گزشتہ روز حملہ سمنگان صوبے کے دارالحکومت ایبَک میں سرکاری کمپاؤنڈ پر کیا گیا تھا جس میں 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ طالبان کا حملہ بین الافغان مذاکرات میں مستقل طور پر جنگ بندی تک تشدد میں کمی سے متعلق ان کے عہد کے منافی ہے۔
