افغانستان: فضائی حملوں میں طالبان سمیت 45 شہری مارےگئے

افغانستان کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی افغانستان میں فضائی حملوں میں طالبان سمیت 45 عام شہری ہمارےگئے۔
مشرقی افغانستان کے صوبہ ہرات کے ضلع ادراسکن کے گورنر علی احمد فقیر یار نے بتایا کہ مرنے والوں میں کم از کم آٹھ شہری شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ‘خام زیارت کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے فضائی حملوں میں اب تک 45 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں طالبان بھی شامل ہیں’۔ یہ واضح نہیں کہ باقی 37 میں سے کتنے عام شہری تھے اور کتنے طالبان کے رکن تھے۔
طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف احمدی نے ایک بیان میں کہا کہ ہرات میں دو فضائی حملوں میں 8 شہری مارے گئے اور 12 زخمی ہوگئے۔ دو مقامی عہدے داروں نے بھی تصدیق کی کہ وہاں دو مرتبہ ہوائی حملے ہوئے ہیں۔ قاری محمد یوسف احمدی نے کہا کہ ‘اس طرح کے حملوں سے حال ہی میں رہا ہونے والے قیدی جو معمول کی زندگی گزارنے کے خواہشمند ہیں، ایک بار پھر دشمن کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے’۔ افغانستان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وہ علاقے میں افغان فورسز کے حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ‘تحقیقات کے نتائج کو عوام اور میڈیا کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، قومی دفاع اور سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کریں اور اس سلسلے میں وہ تمام مواقع اور سہولیات استعمال کرتے ہیں اور کسی بھی کوشش کی کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے’۔ ہمسایہ ضلع گزارا کے ایک مقامی عہدیدار حبیب امینی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی حملے میں 45 افرادمارے گئے اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان فضائی حملوں میں حصہ نہیں لیا۔
ہرات کے گورنر کی ترجمان جیلانی فرہاد نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ فضائی حملوں میں ہرات میں ہونے والے حملوں میں کم از کم چھ اہم طالبان کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ شہریوں کی موت قریب ہی بارودی سرنگ کے دھماکے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ فروری میں طالبان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت امریکا افغانستان سے اپنی فوج کو واپس بلا رہا ہے جس کا مقصد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان باضابطہ امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم طالبان کی جانب سے مطالبہ کیے جانے والے قیدیوں کی رہائی پر اختلاف اور ملک بھر میں بڑھتے ہوئے تشدد نے پیشرفت میں رکاوٹ ڈال دی ہے اور ابھی بات چیت کا آغاز ہونا بھی باقی ہے۔ نازک افغان امن معاہدہ قیدیوں کے تبادلے پر منحصر ہے۔
امریکا اور طالبان کے امن معاہدے کے مطابق مارچ میں تخمینہ شدہ ایک ہزار سکیورٹی فورسز کے بدلے میں تقریباً 5 ہزار طالبان قیدیوں کو سرکاری جیلوں سے رہا کیا جانا تھا۔ تاہم قومی سلامتی کونسل کے مطابق حکومت نے اب تک 4 ہزار 19 طالبان کو رہا کیا ہے جب کہ طالبان نے ان ایک ہزار قیدیوں میں سے نصف کو رہا ہے جن کی رہائی پر اتفاق کیا گیا تھا۔ افغانستان کے خود مختار انسانی حقوق کمیشن نے حال ہی میں کہا ہے کہ اس سال کے پہلے چھ مہینوں میں مجموعی طور پر 880 واقعات میں ایک ہزار 213 شہری مارے گئے اور 1 ہزار 744 زخمی ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button