افغانستان پر طالبان کا قبضہ یقینی کیوں ہوگیا؟

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے دوران ہی طالبان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے بعد اب ملک پر ملا محمد عمر کے ساتھیوں کا دوباتہ قبضہ یقینی دکھائی دیتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ افغانستان میں طالبان جنگجوؤں نے گذشتہ دو ماہ میں جتنے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اتنا وہ 2001 میں اقتدار سے علیحدہ کیے جانے کے بعد سے کبھی نہیں کر سکے تھے۔
افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان جنگجو زیادہ بے خوفی سے پیش قدمی کر رہے ہیں اور انھوں نے متعدد اضلاع سے سرکاری فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ طالبان جنگجوؤں نے ملک بھر میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے جن میں ملک کے شمالی، شمال مشرقی اور وسطی صوبے، غزنی اور میدان وردک شامل ہیں۔ طالبان اب ملک کے بڑے شہروں قندوز، ہیرات، قندہار اور لشکر گاہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔جن اضلاع میں طلبان نے قبضہ کر لیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے ضلعی انتظامی مراکز، پولیس کے ضلعی ہیڈکواٹر اور دیگر ضلعی اداروں کی عماراتوں سے سرکاری اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کو بے دخل کر دیا ہے۔
امریکہ اور نیٹو کی افواج نے شمالی اتحاد اور طالبان مخالف دیگر مسلح گروہوں کی مدد سے نومبر سنہ 2001 میں طالبان سے اقتدار چھین لیا تھا اور کابل کے علاوہ ملک کے وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ طالبان پر الزام تھا کہ وہ اسامہ بن لادن سمیت القاعدہ کی مرکزی شخصیات کو پناہ دیے ہوئے ہیں جن کو گیارہ ستمبر سنہ 2001 میں امریکہ پر دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
لیکن غیر ملکی افواج کی موجودگی اور افغانستان سیکیورٹی فورسز کی تربیت اور اسلح کی فراہمی پر اربوں ڈالر خرچ کیے جانے کے باوجود طالبان کو ختم نہیں کیا جا سکا اور ملک کے دور دراز علاقوں میں ان کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ وہ ان علاقوں میں اپنے آپ کو منظم کرتے رہے اور اپنی طاقت میں اضافہ کرتے رہے۔
ملک کے جن علاقوں میں ان کی سرگرمیاں جاری رہیں اور وہ زور پکڑتے رہے ان میں جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں کے علاوہ شمال میں ہلمند، قندہار، ارزگان اور زابل کے صوبے شامل تھے۔ جنوبی میں فریاب کی پہاڑیوں، شمال مغرب کی پہاڑیوں اور شمال مشرق میں بدخشان کے پہاڑوں میں بھی طالبان کی سرگرمیوں کو نہیں روکا جا سکا۔
سنہ 2017 میں بی بی سی کی طرف سے کرائے گئے تجزیے سے معلوم ہوا تھا کہ طالبان بہت سے اظلاع میں پوری طرح مستحکم ہیں۔ اس سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ وہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی سرگرم ہیں اور ہفتہ وار یا ہر ماہ حملے کرتے رہتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ماضی میں لگائے جانے والے اندازوں سے زیادہ منظم اور مضبوط ہیں۔ملک کی ڈیڑھ کروڑ آبادی جو مجموعی آبادی کا نصف حصہ ہے وہ طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں رہتی ہے، جہاں طالبان کھلم کھلا موجود تھے اور مسلسل سرکاری فورسز پر حملے کرتے رہتے تھے۔طالبان سنہ 2001 کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع علاقے پر قابص ہیں لیکن صورت حال کافی غیر یقینی ہے۔
سرکاری فورسز بہت سے ضلعی مراکز سے پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی ہیں جہاں پر وہ طالبان کے حملوں کا سامنا نہیں کر سکتی تھیں۔ لیکن کچھ علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا گیا ہے۔ جن علاقوں میں سرکاری افواج کو از سر نو منظم کر لیا گیا اور مقامی لوگوں کی حمایت حاصل کر لی گئی ہے ان میں کچھ علاقوں سے طالبان کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے یا وہاں لڑائی جاری ہے۔
امریکی افواج کا انخلا گو کہ جون کے مہینے سے شروع ہو گیا تھا لیکن مٹھی بھر امریکی فوجی اب بھی کابل میں موجود ہیں اور امریکی فضائیہ نے گزشتہ چند دنوں میں طالبان کے ٹھکانوںں کو نشانہ بنایا ہے۔ افغانستان کی سرکاری افواج زیادہ تر ان شہروں اور اضلاع میں اب تک اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں جو میدانی علاقوں میں ہیں یا دریاوں کے ساتھ ترائی اور وادیوں میں واقع ہیں۔ ان ہی علاقوں میں ملک کی زیادہ تر آبادی ہے۔ طالبان کا ان علاقوں پر قبضہ ہے جہاں آبادی کم ہے اور کئی جگہوں پر فی کلو میٹر علاقے میں پچاس سے بھی کم افراد ملتےہیں۔
اشرف غنی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے بڑے شہروں میں، جو طالبان کی پیش قدمی کی زد میں ہیں، فوجی کمک بھیج دی ہے اور تقریباً ملک بھر میں رات کے وقت کا کرفیو نافذ کر دیا گیا تاکہ طالبان کے حملوں کو روکا جا سکا۔
طالبان ہیرات اور قندہار جیسے شہروں کے قریب آتے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک وہ ان پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ اپنے زیر قبضہ علاقوں کو توسیع دینے سے طالبان کی مذاکرات کی میز پر پوزیشن مضبوط ہوتی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ ان علاقوں سے ٹیکس بھی وصول کرتے ہیں۔ اس سال کے پہلے حصے میں ملک میں ریکارڈ تعداد میں شہری ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ اس سال ملک میں 1600 شہریوں کی زیادہ تر ہلاکتوں کا ذمہ دار طالبان اور حکومت مخالف عناصر کو قرار دیتی ہے۔
ملک میں جاری خانہ جنگی سے بچنے کے لیے بہت سے علاقوں سے لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں اور اس سال کے آغاز سے 3 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
