افغانستان کے دفاع کی ذمہ داری افغان سیکیورٹی فورسز کی ہے

 امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی مشن 31 اگست کو ختم ہو جائے گا، افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے، امریکیوں کی دوسری نسل کو 20 سالہ جنگ کے لیے نہیں بھیجیں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے لیے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد قطر روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ طالبان پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ اپنی فوجی کارروائی بند کریں اور سیاسی حل کے لیے مذاکرات کریں۔محکمہ خارجہ نے کہا کہ تین روز کے دوران ہونے والی بات چیت میں حکومتوں اور دیگر تنظیموں کے نمائندے ‘تشدد میں کمی اور جنگ بندی اور طاقت کے ذریعے مسلط حکومت کو تسلیم نہ کرنے کے عزم’ پر زور دیں گے۔

واضح رہے کہ 2001 میں اپنے اقتدار کے خاتمے کے بعد افغان طالبان اپنی حکومت کو دوبارہ نافذ کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں اور انہوں نے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغان حکومت کو شکست دینے کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔گزشتہ روز انہوں نے شمالی صوبے سمنگان کے دارالحکومت ایبک پر قبضہ کر لیا۔ایبک میں قانون ساز ضیاالدین ضیا نے کہا کہ ‘ابھی طالبان پولیس ہیڈ کوارٹر اور صوبائی گورنر کے کمپاؤنڈ پر قبضہ کرنے کے لیے افغان فورسز کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دارالحکومت کے کئی حصے طالبان کے قبضے میں آگئے ہیں۔

باغیوں نے ہفتے کے آخر میں تین صوبائی دارالحکومتوں، جنوبی صوبہ نمروز میں زرنج، اسی نام کے شمالی صوبے سر پل اور شمال مشرقی صوبہ تخار میں تالوقان پر قبضہ کر لیا۔وہ پہلے ہی شمالی صوبائی دارالحکومت قندوز اور صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ حاصل کرچکے ہیں۔پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ امریکا کو اس رجحان پر گہری تشویش ہے تاہم افغان سیکورٹی فورسز باغی گروپ سے لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

کربی نے کہا کہ ‘یہ ان کی افواج ہیں، یہ ان کے صوبائی دارالحکومت ہیں، یہ ان کے لوگ ہیں جن کا دفاع کرنا ہے اور یہ قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے اگر افغان فوج لڑ نہ سکی تو امریکی فوج کیا کرے گی، اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘زیادہ کچھ نہیں۔امریکی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جہاں فوج نے رواں سال کے شروع میں جو بائیڈن کو خبردار کیا تھا کہ فوجیوں کے انخلا کے ساتھ صوبائی دارالحکومت کا کنٹرول طلے جائے گا، تاہم وہ ابھی تک حیران ہیں کہ ان میں سے چند کو طالبان نے کتنی تیزی سے حاصل کیا ہے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ افغان فورسز نے کسی قسم کی مدد نہیں مانگی جب قندوز پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔طالبان کے زیر اثر علاقوں میں اضافے نے غیر ملکی افواج کے انخلا پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے ڈیلی میل کو بتایا کہ گزشتہ سال امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ایک ‘بوسیدہ معاہدہ‘ تھا۔واشنگٹن نے گزشتہ سال سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طے پانے والے معاہدے سے دستبرداری پر اتفاق کیا تھا۔

بین والیس نے کہا کہ ان کی حکومت نے نیٹو کے چند اتحادیوں سے کہا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں اپنی فوجیں رکھیں تاہم حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔انہوں نے کہا کہ ‘چند نے کہا کہ وہ متفق ہیں تاہم ان کی پارلیمنٹ متفق نہیں تھیں، یہ بہت جلد واضح ہو گیا کہ امریکا کے بغیر یہ آپشنز ختم ہو گئے تھے۔

جرمنی کے وزیر دفاع نے طالبان کے قندوز پر قبضے کے بعد اپنے فوجیوں کی افغانستان میں واپسی کے مطالبات کو مسترد کردیا جہاں جرمن فوجی ایک دہائی سے تعینات تھے۔افغان کمانڈوز نے قندوز پر قبضہ کرنے والے طالبان جنگجوؤں کو شکست دینے کی کوشش میں جوابی حملہ شروع کیا تھا۔افغانستان کے مغرب میں ایران کے ساتھ سرحد کے قریب سیکورٹی حکام نے بتایا کہ ہرات کے مضافات میں شدید لڑائی جاری ہے۔

ہرات زونل ہسپتال کے سربراہ عارف جلالی نے بتایا کہ گزشتہ 11 دنوں میں 36 افراد ہلاک اور 220 زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں میں نصف سے زیادہ عام شہری تھے۔یونیسیف نے کہا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران جنوبی صوبے قندھار میں 20 بچے ہلاک اور 130 بچے زخمی ہوئے۔افغانستان میں یونیسیف کے نمائندے نے کہا کہ ‘مظالم دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں’۔

Back to top button