افغانستان کے ساتھ باہمی مسائل کے حل کیلئے امریکہ کی ضرورت نہیں

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکہ-افغان مشترکہ اعلامیے کے تناظر میں کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان سے متعلق تحفظات امریکہ کو شامل کرنے کے بجائے باہمی طور پر حل کیے جائیں گے ۔
اعلامیے کی ایک شق میں کہا گیا کہ ’امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کا وعدہ کیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ دونوں ممالک میں سے کسی کی سیکیورٹی کو دوسری طرف کی سرزمین سے کسی بھی کاروائی کا خطرہ نہ ہو‘۔
شاہ محمود قریشی نے امریکہ کے افغانستان سے فوجی انخلاء کے ارادے کے پیش نظر کہا کہ ’انہیں پاکستان سے براہ راست مذاکرات کرنے چاہیے کیوں کہ امریکہ، انخلا کی منصوبہ بندی کررہا ہے جب کہ ہم ہمیشہ پڑوسی رہیں گے‘۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’اگر مجھے افغانستان سے کوئی مسئلہ ہوا تو میں واشنگٹن سے کردار ادا کرنے کے لیے نہیں کہوں گا‘۔
خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان سالوں سے جھگڑتے آئے ہیں، کابل کی جانب سے سرِ عام پاکستان پر طالبان رہنماؤں کو 2001 میں ان کا اقتدار ختم ہونے کے بعد پناہ فراہم کرنے اور بین الاقوامی اور افغان فورسز کے خلاف حملے کرنے کے لیے محفوظ مقامات بنانے کی اجازت دینے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور افغانستان پر پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کو پاکستان میں حملے کرنے کےلیے پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے اور اس بات کی کابل تردید کرتا رہا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’آپ جانتے ہیں کہ اعتماد کی کمی موجود ہے اور پاکستان نے اعتماد کی اس کمی کو پورا کرنے کےلیے اپنی ہر ممکن کوشش کی ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی طرف دیکھنے کے بجائے ایک ادارہ جاتی میکانزم موجود ہے جس کے ذریعے افغانستان ’کوئی بھی مسئلہ‘ اٹھا سکتا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ دوحہ میں ہونے والے امریکہ- طالبان کبھی نہ ہوتا اگر پاکستان ہر کسی کو اس بات پر قائل نہ کرتا کہ افغانستان میں 18 سال سے جاری تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں۔
