افغانستان پر پاکستانی بمباری: TTP کی بجائے ہدف کون ہے؟

پاکستان فضائیہ کی جانب سے افغانستان میں جاری فضائی بمباری کا بنیادی مقصد اس مرتبہ تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ افغان طالبان اور ان کی فوجی تنصیبات کو براہِ راست ہدف بنانا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق حالیہ تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر باقاعدہ فوجی تنصیبات، اسلحہ ڈپو اور عسکری انفراسٹرکچر کو براہِ راست نشانہ بنایا ہے۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ کے حملوں کا مقصد نہ صرف افغان طالبان کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے بلکہ ایسے امریکی اسلحے کو بھی تباہ کرنا ہے جو افغانستان میں موجود مختلف شدت پسند گروہوں کے ذریعے پاکستان کے لیے سکیورٹی خطرات پیدا کر رہا تھا۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کے مطابق بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان نے اس بار اپنے اہداف واضح طور پر طے کیے ہوئے ہیں اور وہ انہیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بار فضائی کارروائیوں کا مرکزی ہدف ٹی ٹی پی کے ٹھکانے نہیں بلکہ افغان طالبان کی اہم فوجی تنصیبات اور وہ امریکی اسلحہ ہے جو افغانستان میں موجود ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد بڑی مقدار میں جدید امریکی اسلحہ وہاں رہ گیا تھا اور اب ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اس اسلحے کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ یہی اسلحہ پاکستان کے لیے سکیورٹی مسائل پیدا کر رہا تھا۔
سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس حوالے سے امریکہ کی خاموش رضا مندی موجود ہو کیونکہ اس نوعیت کے بڑے اسلحہ ذخائر کو ختم کرنا کسی ایک ملک کے لیے آسان نہیں تھا۔ انکے مطابق افغان طالبان کو سفارتی سطح پر تحریک طالبان کے حوالے سے اپنا واضح موقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں افغان طالبان صرف ایک عسکری گروہ تھے لیکن اب وہ افغانستان میں حکومت چلا رہے ہیں، اس لیے ان پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ثالثی کے ذریعے معاملات طے کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں تو طالبان کو زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔
سمیع یوسفزئی کے مطابق شاید افغان طالبان کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ صورتحال اس حد تک سنگین ہو جائے گی کہ پاکستان ایک بار بمباری شروع کرنے کے بعد اسے مسلسل جاری رکھے گا۔
باخبر عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ کی جانب سے افغانستان میں فوجی تنصیبات پر حملے اس وقت تک جاری رہ سکتے ہیں جب تک افغان طالبان کی عسکری طاقت کو نمایاں حد تک کمزور نہ کر دیا جائے۔ دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کابل پر حملہ کیا گیا تو اس کے جواب میں اسلام آباد کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ افغان طالبان کے سابق سپریم لیڈر ملا محمد عمر کے صاحبزادے ملا یعقوب کا کہنا تھا کہ افغانستان جنگ نہیں چاہتا، تاہم اگر پاکستان اس جنگ کو دس سال تک بھی جاری رکھنا چاہے تو افغان طالبان دس سال تک لڑنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں کسی قسم کا خوف نہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 26 فروری کو شروع ہونے والی جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کر رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ اس تنازع سے کسی حد تک ہٹ چکی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی مسلسل برقرار ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے پانچ سو سے زائد جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ پاکستانی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری روزانہ کی اپ ڈیٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان اب تک افغانستان میں طالبان کی 230 چیک پوسٹس اور تقریباً 200 فوجی ٹینک، توپیں اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کر چکا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے عہدیدار بھی جوابی دعوے کر رہے ہیں۔ طالبان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ہر حملے کے جواب میں انہوں نے پاکستانی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور بڑی تعداد میں پاکستانی فوجیوں کو شہید کیا ہے، تاہم دونوں جانب سے کیے جانے والے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ انہیں پاکستان اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق افغان طالبان کو انتہائی واضح، نمایاں اور قابل تصدیق اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی حمایت نہیں کر رہے۔ عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان بارہا افغان طالبان سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تنظیموں کی قیادت کو پاکستان کے حوالے کریں اور ان کے خلاف ایسے عملی اقدامات کریں جو قابلِ تصدیق بھی ہوں۔ ان کے مطابق جب تک ایسے اقدامات سامنے نہیں آتے پاکستان کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
حال ہی میں پاکستان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے افغانستان میں واقع بگرام ایئر بیس پر افغان طالبان کے اسلحہ اور گولہ بارود کے ایک بڑے ڈپو کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں پاکستان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کا ہدف افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں، تاہم اب تک کسی بڑے ٹی ٹی پی کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق سامنے نہیں آئی اور نہ ہی افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسلام آباد کے تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان کے مطابق پاکستان سرحد کے قریب افغانستان کی ان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی کارروائیوں کو منظم کیا جاتا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان ان سرحدی چوکیوں کو بھی تباہ کر رہا ہے جہاں سے ماضی میں پاکستان کے خلاف فوجی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں اور حالیہ کشیدگی کے دوران بھی انہی مقامات سے پاکستان پر حملے کیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد افغان طالبان کو سرحدی علاقوں میں اس پوزیشن میں لانا ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے لیے سکیورٹی چیلنج نہ بن سکیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے انتہائی منصوبہ بندی اور نپے تلے انداز میں اپنی فوجی کارروائیاں ترتیب دی ہیں اور اس کے اہداف واضح طور پر طے کیے گئے ہیں۔
پاک فضائیہ کی بمباری: طالبان قیادت بنکروں میں چھپنے پر مجبور
عبداللہ خان کے مطابق پاک فضائیہ افغانستان میں اس اسلحہ ذخیرے کو بھی نشانہ بنا رہی ہے جو امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے وقت وہاں چھوڑا گیا تھا اور جس تک مختلف شدت پسند گروہوں کو بھی رسائی حاصل ہو گئی تھی۔ ان کے مطابق یہی جدید امریکی اسلحہ پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کی شدت میں اضافے کا باعث بن رہا تھا۔ اس اسلحے میں جدید کواڈ کاپٹر ڈرونز، رات کے اندھیرے میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے آلات اور لیزر گائیڈڈ ہتھیار شامل ہیں۔
