افغانستان:طالبان کی پیش قدمی روکنے کیلئے کرفیو نافذ

طالبان کی جانب سے شہروں پر کیے جانے والے حملے روکنے کے لیے افغان حکومت نے سنیچر کے روز ملک کے تقریباً تمام علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔دارالحکومت کابل اور دو دیگر صوبوں کے علاوہ ملک میں رات دس بجے سے صبح چار بجے کے درمیان کسی بھی طرح کی نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہو گی۔طالبان اور افغان حکومتی افواج کے مابین گذشتہ دو ماہ کے دوران بین الاقوامی فوج کے ملک سے انخلا کے بعد لڑائی بڑھ گئی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق عسکریت پسند گروپ نے ملک کے آدھے حصے پر قبضہ کرلیا ہے۔یہ جنگجو امریکی فوج کی واپسی کے بعد دیہی علاقوں میں سرحدی گزر گاہوں اور دیگر علاقوں کو واپس لیتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔امریکی زیر قیادت فورسز نے اکتوبر 2001 میں افغانستان میں طالبان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔اس گروپ پر الزام تھا کہ یہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دیگر افراد کو پناہ دے رہا تھا جو 11 ستمبر کو امریکہ پر حملوں سے منسلک تھے۔
لیکن طالبان نے ایک بار پھر ملک میں اہم سڑکیں قبضے میں لے لیں ہیں کیونکہ وہ سپلائی کے راستوں کو منقطع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ طالبان متعدد بڑے شہروں کے قریب آ رہے ہیں لیکن ابھی تک ان پر قبضہ نہیں کر سکے۔امریکی اور ناٹو افواج کے جانے کے بعد طالبان تیزی سے ملک کے دیگر علاقوں پر قبضہ کر رہے ہیں ،افغان وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ’تشدد کو روکنے اور طالبان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے 31 صوبوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ کابل، پنجشیر اور ننگرہار کو استثنیٰ حاصل ہے۔طالبان کی پیش قدمی کے دوران قندھار شہر کے نواح میں رواں ہفتے شدید جھڑپیں ہوئیں۔اس کے جواب میں امریکہ نے جمعرات کے روز اس علاقے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پرفضائی حملہ کیا، چونکہ افغانستان میں امریکی کارروائیوں کا باضابطہ اختتام 31 اگست کو ہونا ہے، اس وجہ سے آئندہ مہینوں کے بارے میں خدشات ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکیوں کا انخلا جائز ہے کیونکہ امریکی افواج نے یہ یقینی بنایا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر غیر ملکی جہادیوں کے مغرب کے خلاف سازشوں کا اڈہ نہیں بن سکتا۔اس ماہ کے شروع میں امریکی فوجی خاموشی سے بگرام ایئر فیلڈ سے روانہ ہوئے، جو ایک وسیع و عریض اڈہ تھا جو افغانستان میں امریکی کارروائیوں کا مرکز تھا اور یہاں کبھی دسیوں ہزار فوجی تھے۔امریکی انٹلیجنس کے کچھ تجزیہ کاروں کو خوف ہے کہ چھ ماہ کے اندر اندر طالبان اپنا کنٹرول واپس سنبھال لیں گے۔
