افغانیوں کی ملک بدری پاکستان کیلئےچیلنج کیسے بن گئی؟

پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے اور یکم نومبر سے ایسے افراد کی املاک ضبط کر لی جائیں گی۔اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مقیم غیر قانونی پناہ گزینوں کو رہائش یا سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور پاکستان افغان تعلقات میں کشیدگی کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا مؤقف ہے کہ جنوری 2023 سے اب تک ملک کے مختلف حصوں میں 24 خود کش حملے ہوئے جن میں سے 14میں افغان شہری ملوث پائے گئے۔
انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں کتنے افغان شہری مقیم ہیں، ان میں سے قانونی کتنے ہیں اور غیر قانونی کتنے؟ کیا انہیں نکالنا اتنا ہی آسان ہے، جتنا حکومت سمجھتی ہے؟ اور افغان پناہ گزینوں کا طالبان سے کیا تعلق ہے؟
یورپی یونین کی ایک رپورٹ کے مطابق افغان پناہ گزینوں اور افغانستان میں موجود شدت پسندوں کی تینوں نسلوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
جب 1978 میں روسی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں اور افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو پہلے سال ہی چار لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان میں داخل ہوئے، جن کی تعداد اگلے 10 سالوں میں بڑھ کر 40 سے 50 لاکھ تک پہنچ گئی۔پاکستان، افغانستان میں برسر پیکار سات گروہوں کی مبینہ طور پر مدد کر رہا تھا۔ انہی گروہوں کو پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن میں کردار دیا گیا، گویا جنہیں اس وقت کے مجاہدین کہتے تھے، انہیں ہی ’مہاجر‘ کا درجہ دے کر کیمپ میں داخل کیا جاتا تھا، جس کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان مخالف افغان عناصر کو ملک میں داخلے سے روکا جائے۔چنانچہ شدت پسندوں کی پہلی سے لے کر تیسری نسل تک کا تعلق پاکستان میں ان کیمپوں سے کسی نہ کسی صورت جڑا ہوا ہے۔وہ یا تو ان کیمپوں میں پلے بڑھے یا پھر انہیں سرکاری چھتری تلے ان مدارس میں تعلیم و تربیت دی گئی، جن کو ’افغان جہاد‘ میں کردار دیا گیا تھا۔ اب اگر پاکستان یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنا ہے تو اسے افغانستان میں برسر اقتدار طالبان گروہوں کے بعض رشتہ داروں کو پاکستان میں نشانہ بنانا پڑے گا جو عرصہ دراز سے پاکستان میں مقیم ہیں جس سے لامحالہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بھی متاثر ہونگے۔۔
اقوام متحدہ کےادارہ برائے پناہ گزین یعنی یو این ایچ سی آر نے اس وقت ہی پاکستان میں اپنا دفتر قائم کر لیا تھا جب روسی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں اور افغان پناہ گزین دھڑا دھڑ پاکستان داخل ہونے لگے لیکن حکومت پاکستان نے پناہ گزینوں کا کنٹرول اپنے پاس ہی رکھا کیونکہ پاکستان نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ وہ صرف انہی پناہ گزینوں کو قبول کرے گا جن کا تعلق ان سات افغان سیاسی جماعتوں سے ہو گا، جنہیں اس نے پاکستان میں داخلے اور قیام کی اجازت دی ہوئی ہے۔اسی پس منظر میں ہر مہاجر کی جانچ پڑتال کی جاتی تھی۔ 2006 تک پاکستان میں مقیم کسی افغان باشندے کے پاس کسی قسم کی کوئی قانونی دستاویزات نہیں ہوتی تھیں۔ پھر اسی سال پاکستان نے فیصلہ کیا کہ وہ یو این ایچ سی آر کے ساتھ مل کر پاکستان میں رہنے والے افغان پناہ گزینوں کو POR کارڈز یعنی پروف آف رجسٹریشن جاری کرے گا اور صرف وہی پناہ گزین تصور ہوں گے جن کے پاس یہ کارڈ ہوگا۔
اس سے پہلے پاکستان میں رہنے والے افغان شہریوں کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک وہ تھے جن کے پاس افغان شناختی کارڈ تھے، دوسرے جن کے پاس کوئی دستاویز نہیں اور تیسرے وہ جن کے پاس ویزہ موجود تھا۔2017 میں پاکستان نے غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کو افغان حکومت اور آئی او ایم کے تعاون سے افغان سٹیزن کارڈ بنا کر دینے شروع کیے اور 2022 تک جن افغان شہریوں کے پاس پی او آر کارڈز تھے، ان کی تعداد 14 لاکھ تھی۔جن کے پاس افغان سٹیزن کارڈز تھے ان کی تعداد آٹھ لاکھ 40 ہزار جبکہ جن کے پاس کسی قسم کی کوئی شناخت نہیں تھی، ان کی تعداد سات لاکھ 75 ہزار تھی۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق پاکستان میں رہنے والے کل افغان شہریوں کی تعداد اب بھی 30 لاکھ ہے۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومت کے حالیہ اعلان سے قبل افغان پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کی کتنی کوششیں ہو چکی ہیں؟2001 میں افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغان بڑی تعداد میں واپس جانا شروع ہوئے۔ صرف 2002 میں 15 لاکھ افغان شہری واپس گئے۔ یہ سلسلہ 2014 تک جاری رہا لیکن پھر اس میں تعطل آ گیا۔پاکستان میں دہشت گردی، جرائم اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ پہلے بھی کئی بار سامنے آ چکا ہے۔فروری 2017 میں پاکستانی کابینہ نے افغان شہریوں کی واپسی کے لیے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا، جس کے تحت افغان سرحد پر امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کو سختی سے یقینی بنایا جانا تھا اور وہ افغان جو واپس جا رہے ہیں، ان سے POR کارڈز لیے جانے تھے تاکہ اگر وہ واپس آنا چاہیں تو ویزہ لے کر ہی آسکیں۔16 دسمبر 2019 کو یو این ایچ سی آر، افغانستان، پاکستان اور ایران نے مل کر پناہ گزینوں کی واپسی اور آباد کاری کے ایک جامع منصوبے پر عمل درآمد شروع کیا لیکن طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد یہ کوششیں رک گئیں بلکہ مزید افغان پناہ گزینوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً آٹھ لاکھ ہے، جن کے پاس کسی قسم کی کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں۔ان لوگوں کو ملک بدر کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا بالخصوص پاکستان کے اپنے انتظامی اور قانونی ڈھانچہ کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہے کہ وہ ایسا کر بھی سکتا ہے یا نہیں۔ دوسری طرف اس عمل سے پاکستان اور طالبان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
