افغان امن معاہدے کے بعد افغان قیادت کا امتحان شروع ہوگیا

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ طالبان امن معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن کی طرف پہلا ٹھوس قدم تھا، پاکستان کی رائے میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے جب کہ کل کے معاہدے کے بعد انٹرا افغان معاہدے کا آغاز ہوگا۔ معاہدے کے بعد افغان قیادت کا امتحان شروع ہوگیا ہے اور امن عمل پر اعتماد برقرار رکھنے کےلیے ضروری ہے کہ بین الافغان مذاکرات میں تاخیر نہ کی جائے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے اور جو تنقید کرتے تھے وہ کل پاکستان کےمعترف تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کی تقریب میں 50 سےزائد ممالک موجود تھے، ایک مسلسل کاوش کے بعد یہ سفر طے کیا گیا۔
پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ اس کی سرزمین میں موجود افغان پناہ گزینوں کی واپسی ہو۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران میں نے کئی اہم اقدامات انہیں تجویز کیے ہیں جو امن معاہدے کو مزید بڑھانے میں مدد دیں گے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسے دراندازوں جو منفی کردار ادا کریں ان کی شناخت کرنے اور ان کو سامنے لانے کےلیے ایک میکانزم تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ عالمی برادری بالخصوص امریکہ کو دراندازوں پر کڑی نظر رکھنی ہوگی اور انہیں امن کی بحالی کے منصوبے میں خلل ڈالنے سے روکنا ہوگا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ پومپیو نے ملاقات میں انہوں نے امن معاہدے سے پیدا ہونے والی رفتار کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریقین باہمی اعتماد سازی کے اقدامات کے طور پر قیدیوں کا تبادلہ کریں، ان کا مزید کہنا تھا کہ بین الافغان مذاکرات میں مزید کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔
افغانستان میں سیاسی غیر یقینی‘ کے حوالے سے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ صرف امریکا دور کرسکتا ہے پاکستان اس سلسلے میں زیادہ کچھ نہیں کرسکتا کیوں کہ یہ افغانستان کا اندرونی معاملہ ہے۔
امریکا کی پاکستان سے توقعات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے فیصلے اپنے مفاد میں کیے ہیں کیوں کہ افغان امن معاہدے سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا، اس سے باہمی اقتصادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تاپی (ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-انڈیا پائپ لائن منصوبے)، کاسا1000(وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا توانائی منصوبے) اور دیگر منصوبوں کی تکمیل کی راہ ہموار ہوگی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے افغان امن معاہدے کا خواہاں تھا لیکن اپنے ملک کے مستقبل کےلیے بنیادی فیصلے افغانوں کو خود کرنے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ‘امن معاہدے سے انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغاز ہوگا، ناروے نے انٹرا افغان ڈائیلاگ کی میزبانی کی ہامی بھری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کےعوام امن چاہتے ہیں انہوں نے طویل جنگ دیکھی ہے، اگر افغانستان میں امن ہوگا تو وہاں کے عوام سکھ کا سانس لیں گے۔
وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی رائے میں معاہدہ اہم پیش رفت ہے، معاہدے پر طالبان اور امریکی حکام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کا فیصلہ افغانیوں نے خود کرنا ہے اب دیکھنا ہوگا معاہدے پر کتنی سنجیدگی دکھائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ایک دوسرے کے اعتماد کو کس طرح بحال کرنا ہے یہ ان کو دیکھنا ہے، افغان عوام امن چاہتے ہیں اب یہ وہاں کی لیڈر شپ کے لیے آزمائش ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ افغان لیڈر شپ مل بیٹھ کر پولیٹکل روڈ میپ کےلیے آمادہ ہوتی ہے اور جو منفی کردار ادا کر رہا ہے اس پر نظر رکھنی ہوگی۔
