افغان صدر کا امن معاہدے پر وار، امریکی شرائط ماننے سے انکار

امریکہ اور افغان طالبان کے مابین حال ہی میں طے پانے والے افغان امن معاہدے کو اس وقت ایک بڑا دھچکا لگا جب
افغان صدر اشرف غنی نے یہ اعلان کر دیا کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ امریکی حکومت نے نہیں بلکہ افغان حکومت نے کرنا ہے اور اس حوالے سے واشنگٹن کی جانب سے طالبان کو دی جانے والی گارنٹی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
طالبان اور امریکہ کے مابین برس ہا برس کے مذاکرات کے بعد حال ہی میں ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے اگلے ہی روز افغان صدر اشرف غنی نے یہ کہہ کر معاہدے کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردئیے ہیں کہ ان کی حکومت نے طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا جیسا کہ دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں کہا گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دراصل افغان صدر امریکہ سے اس بات پر ناراض ہیں کہ افغان طالبان کے ساتھ معاہدے کے عمل سے انہیں کیوں باہر رکھا گیا۔ ان کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ کہیں امریکہ نے افغان طالبان کے ساتھ پس پردہ افغانستان کی اگلی حکومت کا کوئی خاکہ بھی ترتیب نہ دے دیا ہو۔
خیال رہے کہ قطر میں ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے مطابق امریکہ نے وعدہ کیا ہے کہ پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کے بدلے طالبان کے زیر حراست ایک ہزار قیدیوں کو 10 مارچ تک رہا کیا جائے گا۔ تاہم صدر اشرف غنی نے یہ کہہ کر نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے کہ قیدیوں کی یہ رہائی بات چیت کی شرط نہیں ہو سکتی لیکن مذاکرات کا حصہ ضرور ہو سکتی ہے۔ افغان صدر کے اس بیان کے بعد بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اشرف غنی پہلے دن سے ہی طالبان کے ساتھ مفاہمت کے حق میں نہیں تھے اور اب انہوں نے یہ بیان دے کر امریکہ اور طالبان دونوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی ہے۔ اشرف غنی کو ایک تکلیف یہ بھی ہے کہ اس معاہدے میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے جس کے افغان طالبان کے ساتھ نہایت قریبی تعلقات ہیں۔
خیال رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے معاہدے کے بعد ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان میں مکمل جنگ بندی کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے تشدد میں کمی لانے کا سلسلہ جاری رہے گا لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے امریکہ کیساتھ پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔ اشرف غنی نے سات روزہ جزوی جنگ بندی کی حمایت کی ہے لیکن انہوں نے امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے ایک اہم حصے کو مسترد کر دیا ہے جس کے مطابق افغانستان میں قید ہزاروں جنگجوؤں کی رہائی پر زور دیا گیا ہے۔ افغان صدر نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ افغانستان کے عوام کے حق اور مرضی کا معاملہ ہے۔ اسے بین الافغان مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کیا جا سکتا ہے لیکن یہ مذاکرات کی کوئی شرط نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قیدی کی رہائی امریکی اختیار میں نہیں بلکہ افغان حکومت کے اختیار میں ہے۔
دوسری جانب معاہدے کے بعد طالبان رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے امریکا اور اتحادی افواج کو گارنٹی دی ہے کہ ان پر حملے نہیں کیے جائیں گے لیکن کابل حکومت کے ساتھ ان کا سیزفائر نہیں ہوا البتہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کے تحت جنگ بندی ہو سکتی ہے لیکن کابل حکومت کو بھی معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی۔ طالبان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ پیشرفت ضرور ہو گی اور اگر کابل انتظامیہ نے سنجیدگی سے حل تلاش کیا تو یہ امن معاہدہ مکمل قابل عمل ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی کی جانب سے قیدیوں کی رہائی پر سوال افغانستان کے مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کی سختی کی جانب اشارہ ہے جس کے لیے قائدین اہم مسائل پر ایک صفحے پر اکٹھے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ امریکہ نے صدر اشرف غنی کی کامیابی کو ابھی تک واضح طور تسلیم نہیں کیا اور کئی مہینے کی تاخیر کے بعد گذشتہ ہفتے اعلان کیا گیا۔ ایسے حالات میں افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے امن معاہدے کے فوراً بعد طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار کے بعد معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ اشرف غنی نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کو اختیار حاصل نہیں کہ وہ طالبان کی رہائی کے حوالے سے معاہدہ کریں یہ اختیار صرف افغان حکومت اور عوام کے پاس ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کے اس بیان سے امریکہ کو بھی ضرور دھچکا لگے گا کیونکہ اگر معاہدے کے فوراً بعد طالبان کے مطالبے پر کم ازکم پانچ ہزار قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو طالبان کی جانب سے بھی معاہدے کی خلاف ورزی شروع ہوجائے گی جس کے بعد افغانستان میں امن کی آخری امید بھی دم توڑ جائے گی۔
