افغان طالبان میں بھی موروثی سیاست، ملا عمر کا بیٹا اہم ہو گیا

برصغیر کی سیاسی جماعتوں میں رائج نسل در نسل اپنے ہی خاندان میں پارٹی قیادت آگے سونپنے کی موروثی سیاست کا رجحان اب غیر ریاستی عناصر میں بھی سرایت کرتا نظر آتا ہے جس کی ایک تازہ مثال افغان طالبان کا اپنے بانی امیر ملا محمد عمر کے بیٹے ملا محمد یعقوب کو طالبان فوجی کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ ہے۔
سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ملا یعقوب کی نامزدگی کا مطلب یہ ہے کہ وہ مستقبل میں کوئی اہم ترین ذمہ داری بھی سنبھال سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ افغان طالبان میں فوجی کمیشن کا سربراہ دراصل طالبان امیر کا نائب ہوتا ہے۔ اسوقت ملا ہیبت اللہ اخونزادہ افغان طالبان کے امیر ہیں جنہیں ملا منصور کی کوئٹہ میں ایک امریکی ڈرون حملے میں شہادت کے بعد یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ملا یعقعب طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے بڑے بیٹے ہیں اور اس وقت طالبان کے نائب سربراہ بھی ہیں۔ ان کی عمر تقریباً 27 سال ہے اور انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم پاکستان کے مدارس سے حا صل کی ہے۔ ملا یعقوب کی جوان ہونے کی وجہ سے یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید ان کا سیاسی اور جنگی امور میں تجربہ اتنا زیادہ نہیں لیکن ملا محمد عمر کے بیٹے ہونے کے ناطے طالبان کے فوجی کمانڈروں اور سیاسی رہنما ان کی اطاعت خوشی سے کریں گے۔
ملا عمر کے خاندان کے قریب سمجھے جانے والے طالبان کے سابق وزیر خزانہ ملا آغا جان معتصم کاکہنا ہے کہ ملا یعقوب ایک عالم دین ہیں اور گزشتہ 19 برسوں میں وقتا فوقتا امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف جنگی محاذوں پر کارروائیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ آغا جان کا مزید کہنا ہے کہ ملا یعقوب اس لیے بھی جنگی تجربہ رکھتے ہیں کہ ان کے والد ایک فوجی شخصیت تھے اور یعقوب نے اپنے والد سے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ لیکن ملا یعقوب کی نئی ذمہ داری نے اس سوال کو بھی جنم دیا ہے کہ اس تقرری کی کیا ضرورت تھی جب کہ طالبان کی ساری توجہ سیاسی عمل پر ہے۔ انیس سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان کا امریکہ سے معاہدہ ہوچکا ہے، غیر ملکی افواج کے ساتھ جنگ بندی برقرار ہے اور بین الافغانی مذاکرات شروع کرانے کےلیے قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ جاری ہے۔
اس حوالے سے طالبان کے ایک اعلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ طالبان کے سابق سربراہ ملا اختر منصور کے وقت میں فوجی کمیشن ایک تھا لیکن سکیورٹی مشکلات، فوجی کمانڈروں کے اجلاسوں، رابطوں اور کارروائیوں کےلیے اجازت میں مشکلات کی وجہ سے کمیشن کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ لیکن اب ان دونوں حصوں کو ملا یعقوب کی سربراہی میں ایک بار بھر یکجا کیا گیا ہے۔ لیکن سچ یہ یے کہ ملا یعقوب کو افغان طالبان کے اہم ترین فوجی کمانڈرز پر فوقیت دی گئی ہے اور مقصد یہ یے کہ ملا عمر کی وجہ سے شاید فوجی کمانڈرز اور سیاسی رہنما ان کے بیٹے کی بات کو زیادہ اہمیت دیں۔ یعنی طالبان نے بھی کامیابی کے لیے موروثی سیاست اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
طالبان فوجی کمیشن کے سابق سربراہ ملا عبدالقیوم ذاکر اور جنوبی صوبوں کے فوجی امور کے انچارج صدر ابراہیم جیسے سینئر عہدیدار ملا یعقوب کے معاونین مقرر کئے گئے ہیں اور یہ اب ان کے ماتحت ہوں گے۔
ملا ذاکر فوجی امور کے بہترین ماہرین میں سے ایک ہیں لیکن ملا عمر کے بعد انکے کئی مواقع پر اپنی قیادت سے اختلافات بھی رہے اور اختر منصور نے ان کو عہدے سے ہٹا بھی دیا تھا۔ طالبان ذرائع کا یہ بھی کہنا یے کہ ان کی تقرری کا مقصد شاید قطر میں سلطان کے سیاسی دفتر کے عہدیداروں بالخصوص ملا عبدالغنی برادر کو کنٹرول کرنا یا ان کی جانب سے خود ہی اہم ترین فیصلے کرنے سے روکنا ہے۔
طالبان کے ایک اہم عہدیدار کا کہنا ہے کہ رہبری شوریٰ نے ملا غنی برادر کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی تھی جب انہوں نے امریکی مذاکرات کاروں سے غیرملکی افواج کو 14 مہینوں میں نکلنے پر اتفاق کیا تھا کیوں کہ شوریٰ چھ سے نو ماہ میں انخلا کی پیشکش کرچکی تھی۔ شوری نے ملا برادر اور ان طالبان مذاکرات کاروں کی مذمت کی تھی جب انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کے دورے کی دعوت قبول کی تھی۔ شوری نے سیاسی نمائندوں کو امریکہ جانے سے منع کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے خود بھی طالبان کو کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کی دعوت کی تصدیق کی تھی۔ تاہم ستمبر میں کابل میں طالبان خودکش حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کی وجہ سے اچانک دورہ منسوخ کر دیا گیا تھا۔
طالبان شوری کے کہنے پر اس وقت ملا یعقوب اور دوسرے نائب امیر سراج الدین حقانی نے ملا برادر کو خطوط لکھ کر شوریٰ کے ناراضی سے آگاہ کیا تھا۔ ملا یعقوب کا نام پہلی مرتبہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب اس کے چچا عبدالمنان اخوند نے ملا اختر منصور کی سربراہی تسلیم کرنے سے اس وقت انکار کیا تھاجب کئی اور رہنماؤں نے بھی اختر منصور کے انتخاب پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اختر منصور 2015 مئی میں بلوچستان میں ایک امریکی ڈروں حملے میں اس وقت مارے گئے تھے جب وہ ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ بعد میں کئی سینیئر طالبان رہنماؤں کی ثالثی سے ملا عبدالمنان اور ملا یعقوب کو عہدوں کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ لیکن بعد ازاں ملا عمر کے خاندان کو ملا اختر منصور کے قریب لانے میں سراج الدین حقانی کا کرادر اہم رہا تھا جو شدت پسندوں میں خلیفہ کے نام سے مشہور ہیں۔ حقانیوں سے وابستہ ایک کمانڈر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ملا یعقوب کی فوجی کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے تقرری دراصل سراج حقانی کو چیلنج کرنے کا مترادف ہے۔
ایک سابق طالبان عہدیدار کا موقف ہے کہ ملا یعقوب کی تقرری شاید ان فوجی کمانڈروں کے لیے بھی ایک پیغام ہو جن کو امریکہ سے امن معاہدے میں غیرملکی شدت پسندوں کے خلاف ممکنہ اقدامات کے وعدوں پر تحفظات ہیں۔ ملا یعقوب کی تقرری میں طالبان کے امیر شیخ ہیبت اللہ اخوند کے پاس دلائل کوئی بھی ہوں لیکن طالبان کے اکثریت کا خیال ہے کہ ملا عمر کے ناطے طالبان تحریک میں ملا یعقوب اب ایک طاقتور شخصیت کی حیثیت سے سامنے آگئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button