افغان طالبان نے بھارتی دوستی کی پیشکش مسترد کردی

افغان طالبان نے بھارت کی جانب سے بڑھایا جانے والا دوستی کا ہاتھ سختی سے جھٹکتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار ہمیشہ سے منفی رہا ہے اور وہ طالبان مخالف افغان غداروں کا مددگار رہا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں افغان طالبان اور امریکہ کے مابین قطر میں امن معاہدہ طے پانے کے بعد بھارتی حکومت نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ ماضی کی پالیسی کو ترک کرکے افغانستان کی اصل قوت طالبان کے ساتھ سفارتی تعلق قائم کرنا چاہتی ہے۔ تاہم اس پیشکش کے ردعمل میں افغان طالبان نے بھارت سے دوستی کے امکان کو مسترد کردیا ہے اور ایک سخت جواب بھی دیا یے۔ خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے یہ سخت رد عمل اس وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان میں کئی ماہ کی سیاسی غیر یقینی کی صورتحال کو ختم کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبد اللہ کے درمیان شراکت اقتدسر کا معاہدہ بھی طے پا گیا ہے۔اس معاہدے کے تحت اشرف غنی ہی ملک کے صدر رہیں گے جبکہ دونوں رہنما مساوی تعداد میں اپنے اپنے وزیر منتخب کریں گے۔ جبکہ ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رہا تو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی رہنمائی کریں گے۔
بھارت کی جانب سے افغان طالبان کے ساتھ دوستی کی خواہش کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ کیساتھ طالبان کے چیف مذاکرات کار شیر محمد عباس استانکزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار ہمیشہ منفی رہا ہے، اس نے ہمیشہ غداروں کی مدد کی، بھارت گزشتہ 40 سال سے افغانستان میں موجود ہے لیکن اس نے ہمیشہ افغانوں کی بجائے کرپٹ گروپ کیساتھ تعلقات قائم کئے۔
واضح رہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اکٹھے مل کر افغان طالبان کے مقابلے کے لئے داعش کو افغانستان میں سپورٹ کر رہے ہیں جس سے داعش وہاں پر مضبوط ہوئی ہے اور طالبان کو بڑا نقصان ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی افغان طالبان کے لیے داعش سے نمٹنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان قیادت نہیں چاہتی کہ وہ بھارت کے ساتھ دوستی کرے کیونکہ بھارت نے ہمیشہ طالبان کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی جب ملا محمد عمر افغانستان کے حکمران تھے تو بھارت نے ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔
علاوہ ازیں افغان طالبان پر پاکستان کا اچھا خاصا اثرو رسوخ ہے اور بھارتی ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس نے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے اس لئے طالبان سمجھتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ رسمی سفارتی تعلقات قائم کیے جا سکتے ہیں لیکن طالبان اور بھارت کی باقاعدہ پارٹنرشپ نہیں ہوسکتی۔ ایک انٹرویو میں افغان امریکہ امن مذاکرات کے سربراہ شیر محمد عباس استانگزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار ہمیشہ منفی رہا ہے تاہم بھارت اگر افغانستان میں اپنی ماضی کی ذیادتیوں تسلیم کرتے ہوئے مثبت کردار ادا کرے تو افغان طالبان کو ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نئے افغانستان کی تعمیر کے لیے امن مذاکرات میں مثبت کردار ادا کرنا شروع کردے تو طالبان بھی مذاکرات کے لیے تیار ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت گزشتہ 40 سال سے افغانستان میں موجود ہے جہاں وہ افغانوں کی بجائے ایک کرپٹ گروپ کے ساتھ سیاسی، عسکری اور معاشی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب افغان میڈیا کے مطابق افغان امن عمل کے لیے نامزد امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے ھال ہی میں بھارتی قیادت سے ملاقات کی ہے اور زور دیا ہے کہ بھارت بھی افغان امن عمل کا حصہ بنے۔ دریں اثنا واشنگٹن میں پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ اگر بھارت کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں سے بات کرکے امن عمل میں مدد ملے گی تو اسے بات کرنی چاہیے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ہے کہ افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے اب بھارت افغان طالبان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا خواہاں ہے لیکن موجودہ صورتحال میں یہ خاصا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ طالبان کو افغان حکومت اور داعش کا چیلنج درپیش ہے جنہیں بھارت کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے جبکہ دوسری جانب سے طالبان پر پاکستان کا دباؤ ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ محض رسمی تعلقات ہی رکھے کیونکہ بصورت دیگر افغانستان میں پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
