افغان طالبان نے حیران کن کامیابیاں کیسے حاصل کیں؟


افغان طالبان نے پچھلے دس دنوں میں افغانستان میں جو غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں، انہوں نے امریکہ سمیت ساری دنیا کو حیرت زدہ کر کے رکھ دیا ہے۔ صرف چند روز پہلے امریکی انٹیلی رپورٹس میں یہ کہا گیا تھا کہ اگلے تیس دن یعنی ایک ماہ میں طالبان کابل کو ملک بھر سے کاٹ کر محصور کر لیں گے اور تین ماہ میں وہ کابل فتح کر سکتے ہیں۔ تاہم امریکی انٹیلی جنس کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے اور طالبان تیسرے روز ہی کابل تک جا پہنچے اور شہر میں داخل ہو گئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ طالبان جنگجو افغان صدر اشرف غنی اور ان کے قریبی ساتھیوں کے فرار یو جانے کے بعد دارالحکومت کابل میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ افغان اور غیر ملکی شہری انخلا میں مصروف ہیں۔ افغان مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کے ملک چھوڑنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘وہ مشکل وقت میں بھاگ گئے، اللہ ان سے پوچھے گا’۔
تجزیہ کاروں کا اتفاق ہے کہ افغان فوج نے عمومی طو رپر بڑی بزدلی، کم ہمتی، پست حوصلگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ طالبان سے تعداد میں کئی گنازیادہ ہونے اور جدیدترین بھاری ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود انہوں نے لڑنے اور جاں کی بازی لگانے سے گریز کیا۔ کئی جگہوں پر فوجی دستوں نے لڑے بغیر ہی ہتھیار ڈال دئیے۔ سینئر صحافی عامر خاکوانی اس حوالے سے اپنی تازہ تحریر میں لکھتے ہیں کہ ایک معروف عسکری اصول ہے کہ جیتنے کے لئے حملہ آور فوج کو دفاع کرنے والی فوج سے تین گنازیادہ ہونا چاہیے کیونکہ تب وہ انہیں بلڈوز کر کے پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ افغان فوج کی تعداد ڈھائی سے تین لاکھ بتائی جاتی ہے۔ افغان طالبان بمشکل ایک لاکھ ہوں گے۔ لیکن اپنی کم تعداد کے باوجود وہ جیت چکے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ طالبان کو یہ کامیابیاں کیسے ملیں؟عامر خاکوانی کے مطابق اصل وجہ یہ ہے کہ افغان فوج کا مورال بہت پست ہے، فوجی لڑنا ہی نہیں چاہتے ۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اشرف غنی کی افغان حکومت اپنی نااہلی، کرپشن اور بدترین گورننس کی وجہ سے عوام اور افغان فوج میں مقبولیت نہیں رکھتی تھی۔ طالبان مخالف افغان لیڈروں، سفارت کاروں اور سابق جرنیلوں کا کہنا ہے کہ افغان فوج اشرف غنی کے لئے مرنے کو تیار نہیں تھی۔ وہ ایک کمزور، نااہل، خوابوں خیالوں کی دنیا میں رہنے والے شخص کے لئے کیوں اپنی زندگی لٹاتے؟ دوسرا فیکٹر یہ ہے کہ طالبان نے امریکہ کو شکست دی، انہیں افغانستان سے واپس جانے پر مجبور کیا۔ اس اعتبار سے عوام اور حکومتی عہدے داران بھی طالبان کو ایک فاتح کے طور پر دیکھتے ہیں۔انہیں اندازہ ہے کہ آخر کار طالبان ہی نے افغانستان کا اقتدار سنبھالنا ہے۔ جیتے ہوئے فریق سے کوئی بھی دل سے نہیں لڑتا۔ ایک اور فیکٹر یہ ہے کہ پچھلی بار طالبان کے ساتھ لڑنے والے ازبک، تاجک کمانڈروں کو حکومت کرنے کا موقعہ نہیں ملا تھا، ان کے حامیوں کو ان سے حسن ظن تھا۔ اب صورتحال بالکل مختلف ہے۔ تاجک، ازبک، ہزار اور طالبان مخالف پشتون لیڈر بیس سال اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور اربوں پتی بنے جبکہ عوام کی حالت اور بھی غیر ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان مخالف جنگجو سرداروں کو اس بار پہلے جیسی حمایت نہیں مل رہی۔خاکوانی کے مطابق طالبان نے شمال میں خاموشی سے بہت کام کیا ہے۔ ازبک، تاجک اور کچھ ہزارہ بھی طالبان جنگجوﺅں کے ساتھ پچھلے چند برسوں میں شامل ہوئے بلکہ طالبان نے انہیں اپنے تنظیمی سٹرکچر میں اہم ذمہ داریاں دیں۔ افغان حکومت سمجھ ہی نہیں پائی کہ طالبان نے شمال میں نقب لگا لی ہے اور وقت آنے پر وہ یہاں سرپرائز دیں گے۔
طالبان کا ایک اور بڑا کارنامہ افغانستان میں اثر رکھنے والے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ہے۔ طالبان دور حکومت میں ایران ان کا شدید مخالف رہا۔ اب طالبان اور ایران میں کئی برسوں سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ایران کے علاوہ روس، چین، ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان وغیرہ کے ساتھ طالبان کے تعلقات بہتر ہیں، ان میں سے کسی ملک نے طالبان کی مخالفت نہیں کی ۔ امریکی انٹیلی جنس اور افغان انٹیلی جنس لگتا ہے ان فیکٹرز پر غور نہیں کر سکی۔ ان کی تمام تر توجہ پاکستان پر دباﺅ ڈالنے پر مرکوز رہی، جس کا بھاری نقصان اب اٹھانا پڑ رہا ہے۔ خاکوانی کے مطابق طالبان کی جامع اور جارحانہ جنگی حکمت عملی نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بیک وقت کئی محاذ کھولے اور ملک کے شمال، جنوب، مشرق اور مغرب میں حملے کر کے افغان فوج کے فوکس کو منتشر کیا ۔ انہوں نے تیزی کے ساتھ اہم سڑکوں پر قبضہ کیا، سپلائی لائن کاٹ دی اور غیر معمولی سرعت کے ساتھ افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی روٹس پر کنٹرول سنبھالا اور سرحدوں پر اپنے دستے تعینات کر دئیے تاکہ باہر سے افغان حکومت کو فوجی مدد نہ مل سکے۔ اس حکمت عملی نے افغان حکومت کی آپشنز محدود کر دیں اور بھارت جیسے ملک کو بے بسی سے تلملانے پر مجبور کر دیا۔امریکی ماہرین نے افغان فوج کی ٹریننگ پر بہت پیسہ اور وقت خرچ کیا، مگر چونکہ بھرتی کا عمل شفاف نہیں تھا، فوج میں پروفیشنل ازم پیدا نہیں کیا جا سکتا، لوگ صرف تنخواہ کی خاطر نوکر ہوئے، اس لئے مشکل وقت میں وہ بھاگ نکلے ۔ البتہ افغان سپیشل ملٹری دستے اچھے ٹرینڈ تھے اور انہوں نے مزاحمت بھی کی مگر ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی۔ پھر انہیں مختلف جگہوں پر لڑنا پڑ رہا تھا کیونکہ طالبان نے انہیں ہوشیاری سے پھیلا کر منتشر اور کمزور کر دیا۔ لہذا افغان طالبان کی اس موثر حکمت عملی کا نتیجہ انکے کابل پر قبضے کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔
یوں افغانستان میں تحفظ اور استحکام قائم کرنے کی نیٹو اور امریکہ کی کوششیں بھی سوویت یونین کی طرح ناکام ہو گئیں۔

Back to top button