افغان طالبان پاکستان سے کیوں ناراض ہو رہے ہیں؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ اب وقت بدل چکا، افغان طالبان محکوم نہیں بلکہ حاکم بن چکے ہیں لہذا ہماری پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بھی ان سے بات کرتے وقت یاد رکھنا چاہیے کہ اب اگر ہم ان سے ماضی کی بنیاد پر تحکمانہ انداز میں بات کریں گے تو بہت جلد انہیں اپنا دشمن بنالیں گے۔ اب ہمیں طالبان کو انکے حال پر چھوڑ دینا چاہئے اور وہ اپنی مرضی سے جیسا نظام چاہیں، بنانے دینا چاہیے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ پاکستان کے جو بھی خدشات اور تحفظات ہیں، وہ طالبان کے سامنے ایسے انداز میں رکھنا چاہئیں جیسے کسی بھی دوست پڑوسی ملک کے حکام کے سامنے رکھے جاتے ہیں۔ ہاں البتہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان کو کسی عجلت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے چین، روس اور ایران کے ساتھ مل کر فیصلہ کرنا چاہئے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستانی میڈیا حب الوطنی کے جذبے کے تحت ایک سنگین غلطی کا مرتکب ہورہا ہے،جس کا کسی کو احساس نہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستانی میڈیا اپنی ریاست کی رہنمائی کر رہا ہے اور نہ طالبان کی لیکن ایک جشن کا سا سماں بندھ گیا ہے۔  مشرف حکومت کے فیصلے اور عالمی اور سفارتی حوالوں سے ریاست پاکستان آج بھی امریکہ کی اتحادی ہے اور یوں اگر افغانستان میں امریکہ کو شکست ہوئی ہے تو اس کے ہر اتحادی کو بھی شکست ہوئی ہے لیکن ہمارے میڈیا پر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ امریکہ ہار گیا اور پاکستان جیت گیا۔ صافی کے مطابق اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہم روز امریکہ کو اپنے احسانات اور قربانیاں کیوں یاد دلارہے ہیں ؟ بدقسمتی سے ہم افغانستان کو بھی انڈیا کے آئینے میں دیکھ رہے ہیں۔ یقیناً اس حوالے سے پاکستان کو کسی حد تک کامیابی ملی ہے لیکن صرف اس بنیاد پر جشن فتح منانا ٹھیک نہیں۔ 
اس رویے کا پہلا اور فوری نتیجہ تو یہ نکل رہا ہے کہ اس سے افغان طالبان بھی ناراض ہورہے ہیں۔ ان پر اپنے ملک میں اور مغرب میں الزام لگتارہا ہے کہ وہ پاکستان کے پراکسی ہیں۔ اب ان کے سامنے یہ چیلنج ہے کہ وہ افغانوں اور دنیا پر ثابت کریں کہ وہ خودمختار ہیں۔ مدد جس کی بھی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ قربانیاں تو افغان طالبان نے دی ہیں، اور جنگ بھئ انہوں نے لڑی ہے۔
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ گوانتاناموبے اور بگرام بلکہ پاکستانی جیلوں میں جنرل حمید گل، مولانا سمیع الحق مرحوم یا مولانا فضل الرحمٰن یا عمران خان نہیں قید ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی کے رہنما کنٹینروں پر کھڑے ہوکر گرجے ضرور ہیں لیکن وہ طالبان کی طرح جنرل مالک اور جنرل دوستم کے ہاتھوں کنٹینروں میں بند ہوکر قتل نہیں ہوئے۔ اب جب ان کی فتح کو پاکستان کی فتح قرار دیا جاتا ہے تو انہیں بجا طور پر غصہ آتا ہے اور اپنی قوم اور دنیا کی نظروں میں اپنے آپ کو خودمختار ثابت کرنے کا ان کا کام مشکل ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اپنی خودمختاری کو ثابت کرنے کے لئے افغان طالبان کی قیادت کو مجبوراً ایسے بیانات دینے پڑیں گے یاپھر ایسے اقدامات اٹھانا ہوں گے جو پاکستانیوں کو اچھے نہیں لگیں گے۔
سینئیر تجزیہ کار کے مطابق دوسری غلطی جس کا ہمارا میڈیا مرتکب ہورہا ہے یہ ہے کہ ہمارے رپورٹرز اور اینکرز نے کابل پر یلغار کردی ہے۔ مسئلہ یہ درپیش ہے کہ طالبان ابھی اپنا کنٹرول سنبھالنے میں لگے ہوئے ہیں اور ادھر پاکستانی رپورٹر ان کے سامنے مائیک لئے کھڑے ہیں اور طالبان کا جو بھی بندہ ہاتھ آجائے تو عموما دو ہی سوال پوچھتے ہیں۔ ایک ٹی ٹی پی کے بارے میں اور دوسرا انڈیا کے بارے میں اور ان دونوں سوالوں سے طالبان بہت چڑتے ہیں۔ وہ ایک ہی طرح کا جواب دیتے ہیں تو پاکستان کے پراکسی بننے کا تاثر پختہ ہوتا ہے جو کوئی افغان نہیں چاہتا اور دوسری طرح کا جواب دیتے ہیں تو پاکستان ناراض ہوتا ہے۔ صافی کا کہنا ہے کہ اب طالبان مخالف افغان تو پہلے ہی پاکستان سے نفرت کرتے ہیں لیکن اگر ہمارے میڈیا کا یہ رویہ رہا تو خدشہ ہے کہ جلد ہم طالبان کو بھی اپنا دشمن بنالیں گے۔
عالمی برادری اور پاکستانی ریاست کا طالبان سے مطالبہ ہے کہ وہ انکلوسیو اور سب فریقوں پر مشتمل حکومت بنادیں جس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن دوسری طرف وزیراعظم کے بیانات سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ جیسے وہ دنیا سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ایک وزیر کچھ کہتا ہے تو دوسرا وزیر کچھ کہتا ہے۔  وزیر مشیر بغلیں بجاکر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ طالبان کی فتح پاکستان کی فتح اور امریکہ یا انڈیا کی شکست ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ طالبان کو خوش کررہے ہیں لیکن یہ رویہ طالبان کو زہر لگتا ہے۔ جو کمی رہ جاتی ہے وہ ہماری مذہبی جماعتیں پورا کررہی ہیں جیسے جنگ طالبان نے نہیں بلکہ انہوں نے لڑی ہے۔ حکومت اور مذہبی سیاسی جماعتوں کا یہ رویہ بھی طالبان کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ اپنی خود مختاری ثابت کرنے کے لئے پاکستان سے متعلق کچھ ایسے بیانات دیں یا اقدامات کریں جو ہمیں بہت ناگوار گزریں۔ لہذا پاکستان کو بہت احتیاط سے چلنا ہو گا اور اس بات کو بھی سمجھنا ہوگا کہ طالبان اب محکوم نہیں رہے بلکہ فاتح ہیں اور افغانستان کے حکمران ہیں۔

Back to top button