افغان طالبان کی جیت کا مطلب TTPکی واپسی ہے

سینئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان کے افغانستان میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے نتیجے میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ پاکستان میں بھی تحریک طالبان پاکستان دوبارہ سے طاقت پکڑے گی اور طالبانائزیشن کو پھر سے فروغ ملے گا جس سے پاکستان میں دہشت گردی بھی واپس آنے کا امکان ہے۔
سلیم صافی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں لکھتے ہیں کہ پاکستانی عوام اور ریاست کو افغانستان کے فرنٹ پر گمراہ کرنے کی ذمہ داری بڑی حد تک ان ریٹائرڈ جرنیلوں اور سفارتکاروں پر عائد ہوتی ہے جو ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی خود کو ریٹائرڈ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ یہ لوگ دراصل ماضی میں جیتے ہیں، چناچہ بات کرتے وقت اپنے دور کے قصے کہانیوں کو اپنی مرضی کا رنگ دے کر بیان کرتے ہیں اور خود کو عقل کل سمجھ کر یہ تاثر دیتے ہیں کہ آج بھی افغانستان ویسا ہی ہے جیسا 30 سال قبل تھا یا پھر عالمی اور علاقائی کرداروں کا رول آج بھی وہی ہے جو دہائیوں پہلے تھا۔
افغانستان کے حوالے سے اپنے سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ ریٹائیرڈ جرنیل پاکستانی قوم کو ماضی میں یہ پٹی پڑھاتے رہے کہ القاعدہ تو محض بہانہ ہے اور حقیقت میں امریکہ افغانستان پر قبضہ کرکے وسط ایشیا کے وسائل پر تصرف چاہتا ہے لیکن آج وسط ایشیائی ریاستوں کا سرپرست روس بھی کہہ رہا ہے کہ اچانک فوجی انخلا کرکے امریکہ نے افغانستان اور خطے کو بحران میں مبتلا کردیا۔ افسوس کہ یہ ریٹائیرڈ لوگ اب بھی باز نہیں آئے اور پاپولر لائن اپنا کر قوم کو مزید گمراہ کرنے اور پاکستان کی مشکلات بڑھانے کا موجب بن رہے ہیں۔
سلیم صافی کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کو یقین تھا کہ نائن الیون القاعدہ ہی نے کیا ہے۔ وہ القاعدہ کو اپنے لئے خطرہ سمجھ رہا تھا۔ نائن الیون کے بعد وہ باؤلے پن کا شکار بھی ہو گیا تھا چنانچہ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی متفقہ قرار داد کے تحت اپنے اتحادیوں کے لاؤ لشکر کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوا۔ امریکہ کی اس کارروائی کی چین، روس اور ایران سمیت کسی ملک نے مخالفت نہیں کی تھی کیونکہ اس سے قبل یہ سب طالبان کی حکومت کو اپنے لئے خطرہ سمجھ رہے تھے۔ تب چیچن مجاہدین اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کے عسکریت پسند طالبان افغانستان میں تھے۔ روس اور وسط ایشیائی ریاستیں افغانستان میں طالبان کی مذہبی ریاست کی موجودگی کو اپنے لئے خطرہ سمجھ رہی تھیں، اس لئے وہ شمالی اتحاد کی متوازی حکومت کو سپورٹ کررہی تھیں۔ چین کے سنکیانگ صوبے کے علیحدگی پسندوں کی تنظیم ای ٹی آئی ایم کے لوگ بھی افغانستان میں تھے جبکہ وہ بھی اپنے پڑوس میں کٹر مذہبی حکومت سے پریشان تھا۔
اس دور۔میں ایران اور طالبان کے تعلقات تواِس قدر خراب تھے کہ مزار شریف میں اُس کے ڈپلومیٹس کی ہلاکتوں کے بعد وہ اپنی فوج کو افغان بارڈر پر متحرک کر چکا تھا۔ یوں جب امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان حکومت کے خاتمے کے لئے افغانستان پر حملہ آور ہوئے تو یہ سب ممالک خوش تھے لیکن جب امریکہ نے افغانستان کو سنبھالے بغیر عراق پر بھی حملہ کر دیا۔ ایران سے بھی دشمنی برقرار رکھی۔ چین اور روس سے تعلقات بگاڑ لئے اور ان سب ممالک کے مفادات کے خلاف پالیسیاں اپنالیں۔ ایسے میں امریکہ مخالف سب ممالک نے اپنے اپنے طریقے سے طالبان کو سپورٹ کرنا شروع کیا۔ یہی حالت پاکستان کی بھی تھی لیکن امریکہ نے اچانک گیم الٹا دی۔
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی نے بڑی کوششیں کیں کہ طالبان سے مفاہمت کا راستہ نکلے جبکہ پاکستان کی بھی مسلسل یہ کوشش رہی کہ طالبان کسی طرح افغان سسٹم میں جگہ پالیں لیکن امریکہ نے ایسی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ شروع میں وہ طالبان کو بزورِ طاقت کچلنے پر مصر رہا اور جب اسے احساس ہو گیا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا تو اس نے طالبان سے براہِ راست ڈیل کر لی۔ لیکن امریکہ نے طالبان کے ساتھ ایسی ڈیل کی جسکی وجہ سے افغان طالبان فاتح بن کر ابھرے۔ صافی کہتے ہیں کہ اب جس تیزی کے ساتھ افغانستان کے اضلاع طالبان کی جھولی میں گررہے ہیں تو وہ کیوں کر کسی سیاسی نظام کا حصہ بننے پر تیار ہوں گے۔
یہ ساری پیش رفت ایسے انداز میں ہو رہی ہے کہ جس سے شک جنم لے رہا ہے کہ خود امریکہ کی خواہش ہے کہ طالبان افغانستان پر قابض ہو جائیں یا پھر یہاں پر بدترین خانہ جنگی ہو جائے۔ جنوب کی بجائے چین اور وسط ایشیائی ریاستوں سے متصل صوبوں میں کئی اضلاع پر بغیر مزاحمت کے طالبان کے کنٹرول نے اس تھیوری کو مزید تقویت بخشی۔
سلیم صافی کے مطابق اب چین، روس، وسط ایشیائی ریاستوں کے ہاں دوبارہ وہ خدشات جنم لینے لگے کہ جو نائن الیون سے قبل تھے۔ دوسری طرف پاکستان بری طرح پھنس گیا۔ ایک تو طالبان پر اس کا وہ اثر نہیں رہا جو پہلے تھا۔ دوسری طرف امریکہ اور مغربی اتحادی اپنی ناکامی یا پھر خانہ جنگی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے جارہے ہیں۔ ادھر افغان حکومت امریکہ کی بےوفائی کے تذکرے کی ہمت یا اپنی ناکامیوں کے اعتراف کی بجائے سب الزام پاکستان کو دے رہی ہے۔ اسی طرح مزید مہاجرین کی آمد کا خدشہ ہے لیکن سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان دوبارہ قوت پکڑے گی اور یہاں طالبانائزیشن کو پھر سے فروغ ملے گا۔ پاکستان، روس، ایران اور چین اس الجھن کا شکار ہیں کہ وہ اس مرحلے پر طالبان کو ناراض کرنے کا رسک لیں یا پھر انکے آگے سرنڈر کریں۔
وزیراعظم عمران خان کے حالیہ پرو طالبان بیانات سے تو یہی لگتا ہے کہ پاکستان نے طالبان کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن یہ بھی طے ہے کہ ایسا کرنے سے پہلے اس کے سنگین منفی نتائج کے بارے میں نہیں سوچا گیا۔
