افغان طالبان کے مقتول امیر کی جائیداد کی نیلامی شروع

چار برس قبل بلوچستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی کراچی شہر میں تقریباً دس کروڑ روپے مالیت کی ملکیتی جائیداد سامنے آنے کے بعد حکومت پاکستان نے اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت پاکستان کی درخواست پر کراچی کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ملا اختر منصور کی جائیداد کی نیلامی کے لیے اخبارات میں اشتہار جاری کرتے ہوئے یہ حکم بھی جاری کیا ہے کہ جائیداد کی نیلامی سے اکٹھی ہونے والی تمام رقم حکومت پاکستان کے خزانے میں جمع کروا دی جائے۔
یاد رہے کہ طالبان کے بانی امیر ملا محمد عمر کی کی وفات کے بعد ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر منتخب کیا گیا تھا۔ تاہم آج سے چار سال پہلے 2016 میں جب وہ ایران کے بارڈر سے پاکستان میں داخل ہوئے تو ایک امریکی ڈرون نے دالبندین میں انکی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ وہ ایک مقامی ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھا کر جیسے ہی روانہ ہوئے تو چند کلومیٹر دور ڈرون نے ان پر حملہ کیا گیاجس میں وہ ڈرائیور سمیت مارے گئے۔ ملا منصور سے پاکستان کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا تھا جس میں محمد ولی سکنہ بسم اللہ ٹیرس سہراب گوٹھ تحریر تھا، جس پر وفاقی حکومت نے تحقیقات کا حکم جاری کیا تھا۔
یاد رہے کہ امریکہ نے ملا اختر منصور کو مارنے کا فیصلہ تب کیا جب انہوں نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ افغانستان سے فوج کے انخلا کے حوالے سے شروع کیے جانے والے مذاکرات توڑ دیے تھے۔ ان کی موت کے بعد کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملا اختر منصور اور ان کے ساتھیوں کو اشتہاری قرار دے کر ان کی املاک ضبط کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ خیال رہے کہ افغانستان پر امریکی اور اتحادی افواج کے حملے کے بعد ملا منصور پاکستان آ گئے تھے جہاں وہ بڑی کامیابی سے اپنا کاروبار بھی چلا رہے تھے۔ بعد ازاں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستانی تحقیقاتی اداروں کی جانب سے داخل ایک درخواست کے نتیجے میں ملا اختر منصور کے نام پر موجود سیل کی گئی جائیداد بشمول پلاٹ اور فلیٹ نیلام کرنے کا حکم دے دیا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کے مطابق کراچی میں مُلا اختر منصور کی بیمہ پالیسی سمیت 10 کروڑ روپے مالیت کی ملکیتی جایئداد دریافت ہوئی تھی۔ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 2 کی جانب سے مقامی اخبارات میں جاری کردہ اشتہار میں کہا گیا کہ اگر کسی فرد کا ان املاک پر کوئی تنازع ہے تو وہ سات دن کے اندر ثبوتوں کے ساتھ عدالت میں پیش کریں ورنہ ان املاک کو نیلام کر دیا جائے گا۔
گزشتہ سال ایف آئی اے کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ کراچی کے علاقے اسکیم-33 گلزار ہجری میں بسمہ اللہ ٹیرس کا فلیٹ بی-16ملامنصور نے 14 لاکھ روپے میں خریدا ۔ 19 جولائی 2019 کو ملا منصور نے شہید ملت روڈ کراچی پر عمار ٹور میں فلیٹ نمبر بی-6-3 36 لاکھ 20 ہزار روپے کے عوض خریدا۔ اسی طرح کراچی کے شہید ملت روڈ پر گلستان انیس میرج ہال کے قریب سمیہ ریزیڈینسی میں ایک اور فلیٹ جس کا نمبر 801 تھا، ایک کرور 73 لاکھ روپے کی ادائیگی سے خریدا گیا۔
علاوہ ازیں یکم دسمبر 2009 کو ملا منصور نے کراچی کی کے ڈی اسکیم-45 کے علاقے گلشن معمار کے سیکٹر-ڈبلیو، سب سیکٹر-3 میں 441.67 مربع گز کا پلاٹ نمبر بی-65 54 لاکھ روپے میں خریدا، یہ پلاٹ گل محمد کے نام پر رجسٹرڈ تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’فروخت کنندہ ارشد مظہر اور خریدار گل محمد کے درمیان ہوئی خرید و فروخت کی دستاویز میں اس پلاٹ کی مالیت 54 لاکھ روپے کے بجائے 4 لاکھ 86 ہزار 500 روپے ظاہر کی گئی‘۔ اس میں ایک مکان کا بھی ذکر کیا تھا جس کا پتا اے-56 سیکٹر-زی، سب سیکٹر-5، گلشنِ معمار، کے ڈی اے اسکیم-45 کراچی تھا، یہ مکان 29 نومبر 2007 کو ملا منصور نے 47 لاکھ روپے میں خریدا تھا۔ یہ مکان بھی گل محمد کے نام پر رجسٹر تھا جس کے بعد اس کی ملکیت اختر محمد کے نام پر منتقل کردی تھی جو ملا منصور کا ایک اور فرنٹ مین تھا۔
بشمول گلشنِ معمار کے ڈی اے سکیم نمبر 45 میں ایک پلاٹ، ایک گھر اور صنوبر ہائٹس گلشنِ معمار میں ایک فلیٹ، شہید ملت روڈ پر واقع عمار ٹاور اور سامیہ ٹاور میں ایک، ایک فلیٹ اور بسم اللہ ٹیرس، گلزار ہجری میں ایک فلیٹ کا کھوج لگا کر ملا منصور پر جعل سازی کا مقدمہ درج کرنے کے ساتھ سیل کر دیے تھے۔
ایف آئی اے کی ایف آئی آر نمبر 3/2019 کے مطابق ملا منصور نے محمد ولی اور گل محمد کے نام سے جعلی شناختی کارڈ بنوائے تھے اور ان کے جعلی کوائف پر مالی سرگرمیوں میں ملوث ہونا ثابت ہونے پر ملا منصور عرف محمد ولی عرف گل محمد اور ان کے اہم ساتھی عمار کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ مُلا منصور پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے ولی محمد کے نام سے ایک جعلی پاسپورٹ بنوایا ہوا تھا جس پر وہ کئی بار بیرون ملک سفر بھی کر چکے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button