افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری

 افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے ، غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکومتی حکام نے کہا ہے کہ اگر مدد نہ ملی تو ہلمند شہر حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جائے گا جبکہ جھڑپوں نے ہرات کے مغربی علاقوں میں شدت اختیار کر لی ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق غزنی میں طالبان نے داڑھی تراشنے اور اسمارٹ فون کے استعمال سے منع کر دیا ہے۔

 

دوسری طرف افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ جنگی حالات میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور طالبان امن کے لیے بات کریں۔واضح رہے کہ گزشتہ روزطالبان افغانستان کے تین بڑے شہروں میں داخل ہو گئے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغانستان کے تین بڑے شہروں میں طالبان کے حملے جاری ہیں اور طالبان افغانستان کے تین بڑے شہر ہرات، لشکر گاہ اور قندھار میں داخل ہو چکے ہیں۔افغان اسپیشل فورسز کے دستے لشکر گاہ کی جانب بھیجے جا رہے ہیں۔

گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو امن اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دے دیا تھا۔ افغان صدر نے کابینہ کے پہلے ڈیجیٹل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان ہمارے مستقبل کو ماضی جیسا بنانا چاہتے ہیں اور طالبان کی طرف سے جنگ بندی تک انہیں امن عمل میں شامل نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان امن مذاکرات پر مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں اور اگلے 6 ماہ میں افغانستان میں سیکیورٹی صورت حال میں بہتری آئے گی۔

Back to top button