اقلیتی حقوق کمیشن کا وزارت مذہبی امور پر عدم تعاون کا الزام

اقلتیوں کے حقوق سے متعلق ایک رکنی کمیشن نے سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کےلیے کونسل کے قیام سے متعلق عدالت عظمیٰ کے 2014 کے فیصلے پر عملدرآمد میں وزارت مذہبی امور کے عدم تعاون کے سامنے کا اظہار کیا۔
5 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ڈاکٹر شعیب سڈل نے عدالت سے وزرات مذہبی امور کے سیکریٹری سے 19 فروری 2020 کو قومی اقلیتی کمیشن کے قیام کےلیے عدالت کو دیے گئے حلف نامے کی خلاف ورزی پر وضاحت طلب کرنے کی درخواست کی کہ یہ مبینہ حکم عدولی دراصل توہین عدالت ہے۔
کمیشن نے عدالت عظمی سے استدعا کی کہ وزارت مذہبی امور کو عدالت میں جمع کروائے حلف نامے کی خلاف ورزی میں جاری کیے گئے یا جاری کیے جانے والے نوٹی فکیشن کو روکنے یا اس سے دستبردار ہونے کا حکم دیا جائے۔ رپورٹ میں سیکریٹری وزارت صحت کو سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے کے پیراگراف(iv)37 پر اس کی اصل روح اور کمیشن کے ساتھ بامعنی مشاورت کے ساتھ عملدرآمد کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کی گئی۔ مذکورہ کمیشن 9 جنوری 2019 کو اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایات پر سپریم کورٹ کے عملدرآمد بینچ ی جانب سے تشکیل دیا گیا۔
اقلیتی کمیشن کا مقصد 19 جون 2014 کو سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کے جانب سے ازخود نوٹس کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی نگرانی تھا جو 2013 میں پشاور کے ایک گرجا گھر میں بم دھماکے میں 100 افراد کی ہلاکت کے بعد لیا گیا تھا۔ فیصلے کے پیراگراف 37(iv) میں قومی اقلیتی کمیشن کے قیام کو ضروری قرار دیا گیا تھا جو آئین اور قانون کے تحت اقلیتوں کو فراہم کیے حقوق اور تحفظ کے عملی احساس کی نگرانی کرتا۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کونسل کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کےلیے پالیسی تجاوز تیار کرنے کا مینڈیٹ بھی دیا جانا چاہیے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 19 فروری 2020 کو وزارت مذہبی امور کی جانب سے عدالت کو یقین دہانی کے بعد کمیشن نے عدالت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی سے اندرونی مشاورت کی اور قومی اقلیتی کمیشن کے قیام کے لیے مجوزہ بل کو مسودہ تیار کیا۔
بعدازاں کمیشن نے 20 اپریل کو بل کا مسودہ تشکیل کردہ کونسل کے ذریعے وزارت مذہبی امور اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے دیگر اسٹیک ہولڈرز سے معلومات لینے اور سول سوسائٹی کی تنظیموں اور اقلیتی برادریوں کی رائے لینے کےلیے بھیجا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ کمیشن کو توقع تھی کہ وزارت مذہبی امور مجوزہ بل پر اپنی رائے دے گی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا، اس وقت سے لے کر اب تک کمیشن کو حکومت اور اندرون و بیرون ملک موجود سول سوسائٹی آرگنائزیشنز کی جانب سے قیمتی رائے موصول ہورہی ہے لیکن وزارت مذہبی امور نے بل کا مسودہ موصول ہونے سے متعلق آگاہ تک نہیں کیا۔ ‘اس میں مزید کہا گیا کہ کمیشن نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مزید مشاورت کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ میڈیا کے ذریعے کمیشن کو معلوم ہوا کہ وزارت مذہی امور نے پہلے سے موجود اقلیتی کونسل کی دوبارہ تشکیل کےلیے کابینہ میں سمری ارسال کی ہے لیکن وزارت نے 3 اکتوبر 2019 کے حکم سے انحراف کرتے ہوئے سمری بھیجنے سے قبل کمیشن سے مشاورت نہیں کی۔
اس میں مزید کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک اور سمری کے مطابق وزارت مذہبی امور کا تجویز کردہ کونسل 6 سرکاری ارکان اور 12 غیر سرکاری اراکان پر مشتمل ہے جس میں 2 مسلمان اور 10 اقلیتی ارکان شامل ہیں۔
رپورٹ میں موقف اپنایا گیا کہ وزارت مذہبی امور کی تجویز کردہ کونسل 19 فروری 2020 کو عدالت عظمیٰ میں دیے گئے بیان کی خلاف ورزی ہے چونکہ سے کوئی قانونی اعانت حاصل نہیں اور اس کی موجودگی اور تشکیل وزارت کے رحم و کرم پر ہوگی۔ اس میں کہا گیا کہ مجوزہ کونسل بنیادی پر ملک میں موجود انسانی حقوق کے اداروں جیسا کہ نیشنل کمیشن آن اسٹیٹس آف وومن آرڈیننس 2000، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان ایکٹ 2012 اور نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ ایکٹ 2017 سے مختلف ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مجوزہ تشکیل کردہ کونسل کا موثر ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ظاہر کرنے کےلیے ریکارڈ ہی نہیں کہ اقلیتوں کے حقوق کےلیے کچھ کیا گیا، حقیقت میں اقلیتی برادریاں ایسی کسی کمیشن کی تشکیل سے آگاہ تک نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button