مودی کا بھارتی فوج کی حالت سدھارنے کا دعویٰ کھوکھلا نکلا

سیاچن، لداخ اور ڈوکلام میں موجود بھارتی فوجیوں کو خوراک کی کمی، برف پر چمکتی تیز دھوپ سے بچنے کے لیے لگائے جانے والے خاص چشمے اور جوتے تک نہ مل پانے کی خبریں سامنے آنے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے اپنی فوج کی حالت سدھار نے اور بہتری کے کھوکھلے دعووں کا پول کھل گیا۔
18 سے 32 ہزار فٹ بلندی والے سیاچن اور دوسرے برفیلے فارورڈ پوسٹ میں جوانوں کے پاس ان چیزوں کی کمی کی بات ’کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل‘ یعنی سی اے جی کی تازہ رپورٹ میں کہی گئی ہے جسے کچھ دن پہلے ہی ایوانِ بالا میں پیش کیا گیا تھا۔انڈیا میں سی اے جی آڈٹ کا مرکزی سرکاری ادارہ ہے۔ سی اے جی کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوانوں کو جو جوتے مل رہے ہیں وہ پرانے ہیں اور برف کے خاص چشموں کی کمی بھی سنجیدہ معاملہ ہے۔کیونکہ سیاچن پر زندگی بہت سخت ہے اور وہاں صحت مند خوراک اور دیگر سازو سامان کے بغیر رہنا بہت مشکل ہے۔
اس حوالے سے بھارتی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سی اے جی کی رپورٹ میں 2015 اور 16 کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا ہے جو اب پرانی بات ہو چکی ہے ‘میں آپکو یقین دلاتا ہوں کہ آج ہم پوری طرح تیار ہیں۔ اور ہم اس بات کو یقین بنائیں گے کہ جوانوں کی تمام ضرورتوں کا خیال رکھا جا ئے۔
دوسری طرف فوج کے سابق میجر جنرل اشوک مہتہ نے کہا کے سی اے جی کی رپورٹ میں جو کہا گیا ہے وہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کسی بھی غیر متوقع صورتِ حال کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حالانکہ جنرل اشوک مہتہ نے یہ بھی کہا کہ جوانوں کے پاس اس طرح کی چیزوں کی کمی پہلے بھی رہی ہے اور فوج کے پاس ہتھیاروں اور دیگر ساز و سامان کی کمی کا معاملہ واضح طور پر 1999 کی کارگل جنگ کے وقت سامنے آیا تھا۔کارگل کے سولہ سال بعد جنرل وی پی ملک نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ حالانکہ حالات تب سے بہتر ہیں لیکن فوج آج بھی اسلحہ اور دیگر سازو سامان کی کمی سے پریشان ہے۔ان کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی کے سبب فوج کو ان چیزوں کی قلت کا سامنا ہے حالانکہ حکومت ہر سال بجٹ میں فنڈز میں اضافے کا وعدہ کرتی ہے لیکن ایکسچینج ریٹ اورقیمتوں میں اضافے کے سبب فنڈز ناکافی ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں مشہور انگریزی اخبار دی ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارتی مسلح افواج کے 90 ہزار جوانوں کو پیسوں کی کمی کے سبب کئی طرح کی سہولیات نہیں مل سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button