الطاف حسین کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئیں

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں مرکزی ملزم قرار دیے جانے والے ایم کیوایم کے جلاوطن قائد الطاف حسین کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں خصوصی وفاقی حکومت کے اس فیصلے کے بعد کہ انہیں ملک واپس لا کر سزا دی جائے۔
وزارت داخلہ نے بانی ایم کیو ایم کو وطن واپس لانے کیلئے حکومت برطانیہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ الطاف حسین برطانوی شہری ہیں اور ان پر برطانیہ میں کئی مقدمات چل رہے ہیں اس لئے ان کی فوری پاکستان واپسی ممکین نظر نہیں آتی۔ ذرائع کے مطابق عمران فاروق قتل کیس میں وزارت داخلہ کے حکام بانی ایم کیو ایم الطاف حسین، ان کے قریبی عزیز افتخار حسین اورسینئر رہنما محمد انور کی حوالگی کے لیے برطانیہ سے رابطہ کریں گے۔ وزارت داخلہ کےحکام عمران فاروق قتل کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں متعلقہ دستاویزات کے منتظر ہیں۔ ذرائع کے مطابق عدالتی فیصلے کی نقل، اٹارنی جنرل کاخط اور وزارت داخلہ کی دستاویزات برطانیہ بھیجی جائیں گی۔ تاہم وزارت داخلہ حکام نے حکومت کو پیشگی آگاہ کر دیا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمہ قتل میں الطاف حسین کو مرکزی ملزم قرار دیے جانے کے باوجود ان کو پاکستان واپس لانا اور مقدمہ چلا کر سزا دینا انتہائی مشکل نظر آتا ہے کیونکہ وہ برطانوی شہری ہیں۔ اور ان کے خلاف پہلے سے برطانیہ میں کچھ مقدمات چل رہے ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق بانی ایم کیو ایم سمیت تینوں افراد کو انسداد دہشت گردی عدالت نے 18 جون کو عمران فاروق قتل کیس میں سزا سنا رکھی ہے۔ اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 10 برس پہلے برطانیہ میں قتل ہونے والے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمہ قتل کا فیصلہ سناتے ہوئے تین مجرموں عظم علی، محسن علی اور کاشف کامران کو عمر قید کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس قتل کا منصوبہ پاکستان اور برطانیہ میں بنا جس کے اصل کردار بانی متحدہ الطاف حسین، محمد انور اور افتخار حسین تھے۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ عمران فاروق کو قتل کرنے کا حکم بانی متحدہ نے دیا، ایم کیو ایم لندن کے 2 سینئر رہنمائوں نے یہ حکم پاکستان پہنچایا، نائن زیرو سے معظم علی نے قتل کیلئے محسن علی اور کاشف کامران کا انتخاب کیا۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو الطاف حسین کے ساتھ سیاسی اختلافات پیدا ہونے کے بعد اس روز قتل کیا گیا جب بانی متحدہ کی سالگرہ تھی۔ عمران فاروق کی کہانی ان کے قتل کے تین ملزمان کی عمر قید یا الطاف حسین کو مفرورقراردیئے جانے پرختم نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ عدالتی فیصلے کے مطابق قتل کا حکم الطاف حسین نے جاری کیا تھا لہذا جب تک وہ خود انجام کو نہ پہنچ جائیں عمران فاروق کی کہانی ختم نہیں ہوتی۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران فاروق کے قتل کا فیصلہ نہ صرف الطاف حسین کو لے ڈوبا بلکہ اس نے پارٹی کو بھی تباہ کر دیا کیوںکہ ڈاکٹر عمران فاروق بہت ہی تگڑے کنوینر تھے اور تنظیمی معاملات پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ انھوں نے ہمیشہ الطاف کی عزت کی لیکن جب بھی تنظیمی معاملات کی بات آئی تو انہوں نے مضبوط موقف اپنایا چایے وہ بانی کو ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔ ایم کیو ایم کے ایک سینئر رہنما نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ عمران فاروق کے الطاف حسین سے اختلافات تین معاملات پر تھے۔ ڈاکٹر عمران فاروق بار بار چین آف کمانڈ میں تنظیمی تبدیلیوں پر خوش نہیں تھے۔ وہ پارٹی میں کرپشن اور مختلف سطحوں پر فنڈز کے غلط استعمال کی بڑھتی ہوئی شکایات پر بھی نالاں تھے اوران دونوں نے ایک دوسرے پر اعتماد کھونا شروع کردیا تھا۔ ان معاملات ہر اختلافات کے باعث ان کی رکنیت کئی بار معطل ہوئی جس کے بعد سے انہوں نے ہمیشہ کے لئے پارٹی سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا فیصلہ آنے اور الطاف حسین کو اس کا ماسٹر مائنڈ قرار دیے جانے کے بعد اب سوال یہ ہے کہ بانی ایم کیو ایم کو ملک واپس لاکر سزا کیسے دی جائے۔ وفاقی وزارت قانون کے ذرائع کے مطابق الطاف کو ملک واپس لاناآسان نہیں ہوگا کیونکہ ایک تو وہ برطانوی شہری ہیں اور دوسرا انھیں پہلے ہی ایک ’نفرت انگیز تقریر‘ کرنے کے کیس کا سامنا ہے۔
