نذیر چوہان کا سافٹ ویئر کپتان نے خود اپ ڈیٹ کیا

معلوم ہوا ہے کہ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان کی ترین کے خلاف بغاوت کے پیچھے وزیراعظم عمران خان کا ذاتی ہاتھ ہیں جنہوں نے خود فون پر نذیر چوہان سے گفتگو کی اور ان کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کر دیا جس کے بعد انہوں نے پہلے مرحلے میں بیرسٹر شہزاد اکبر سے معافی مانگیں اور دوسرے مرحلے میں جہانگیر ترین کو چارج شیٹ کرتے ہوئے ان کا گروپ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ترین گروپ سے اعلان لاتعلقی کرتے وقت نذیر چوہان نے ترین کے بارے میں جو سخت ترین گفتگو کی ہے اس کا بنیادی مقصد بھی عمران خان کو خوش کرنا ہے۔ نذیر چوہان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین نے ان کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا اور پھر ان کا حال تک نہ پوچھا لہذا انہیں شرم آنی چاہیے۔ تاہم دوسری جانب ترین گروپ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ نذیر چوہان کی پہلی ضمانت بھی جہانگیر ترین کی کوشش سے ممکن ہوئی تھی اور وہ بعد میں بھی ان کے ساتھ رابطے میں رہے، لیکن چوہان نے ضمانت ہو جانے کے باوجود ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے سے انکار کر دیا اور جیل جا کر ہیرو بننے کی کوشش کی۔ یہ اور بات کے وہ جیل میں تین روز بھی نہ گزار پائے اور پھر وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان کے ساتھ مذاکرات کے بعد وزیراعظم عمران خان سے رابطے میں آ گئے اور اپنا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کروالیا۔
جیل سے نکلتے ہی نذیر چوہان نے نہ صرف ترین گروپ سے اعلان لا تعلقی کیا بلکہ جہانگیر ترین کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔
یاد رہے کہ نذیر چوہان میڈیا کی خبروں میں اس وقت آنا شروع ہوئے جب انہوں نے جہانگیر ترین کے خلاف بننے والے ایف آئی اے کے مقدمات کا ذمہ دار وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو ٹھہرایا۔ جب جہانگیر ترین کے گھر پر پہلی بار ان کے ہم خیال ارکان اسمبلی اکٹھے ہوئے تو ان میں بھی نذیر چوہان صف اول میں تھے۔ شہزاد اکبر نے ان کے خلاف انہی دنوں میں ایک مقدمہ درج کروایا جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ نذیر چوہان کے بیانات سے ان کی اور ان کے خاندان کے افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔اس مقدمے میں گرفتاری کے بعد ان پر یکے بعد دیگرے تین مقدمات بنائے گئے۔ اسی دوران ہی انہوں ںے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے شہزاد اکبر سے معافی مانگ لی جبکہ شہزاد اکبر نے ان کے خلاف مقدمات واپس لے لیے جس کے نتیجے میں ان کی رہائی ممکن ہوئی۔
نذیر چوہان کی گرفتاری کے بعد جہانگیر ترین کے گھر پر ہم خیال اراکین کا دو مرتبہ اکٹھ ہوا جس میں انہوں نے اس گرفتاری کی مذمت کی تاہم اسی دوران ہی نذیر چوہان نے اس گروپ سے لاتعلقی کر دیا اور اس گروپ کے ساتھ وابستگی کو سیاسی غلطی قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نذیر چوہان کے ترین گروپ سے لاتعلقی کے اعلان کے بعد اس گروپ کی پارٹی کے اندر حیثیت کمزور ہوئی ہے۔ سیاسیات کے پروفیسر رسول بخش رئیس کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں فصلی بٹیروں کی ہمیشہ ہی اکثریت رہی ہے۔ اور یہ افراد اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی فیصلے کرتے ہیں۔ نذیر چوہان کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ترین گروپ کا مستقبل ویسا نہیں ہے جیسا انہوں نے سوچا تو وہ بس ایک بہانے کی تلاش میں تھے موقع ملتے ہی انہوں نے اعلان برات کر دیا۔ ان کی سیاست بس اتنی ہی ہے۔‘
تحریک انصاف کے ایک رہنما نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’فیاض الحسن چوہان نے شہزاد اکبر اور نذیر چوہان کی صلح میں اہم کردار ادا کیا۔ اور ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ وہ واپس آ گئے۔ پارٹی نے بھی خیر سگالی کا مظاہرہ کیا۔ صلح کی کوشش ان کی دوبارہ گرفتاری کے بعد شروع ہوئی۔ ایف آئی اے حراست میں انہوں نے شہزاد اکبر سے متعدد بار فون پر بات بھی کی۔‘ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نذیر چوہان کو گرفتار کیے جانے کے فورا بعد اینٹی کرپشن پنجاب اور ایف بی آر کی خصوصی ٹیموں نے ان کے کاروباری دفاتر پر چھاپے مارے تھے جس وجہ سے وہ دباؤ میں آگئے اور اپنا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کروانے پر اظہار آمادگی بھی کردیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’نذیر چوہان کے یو ٹرن سے ترین گروپ کو شدید زک پہنچی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب یہ گروپ وجود میں آیا تو ٹی وی پروگراموں میں موقف لینے کے لیے جب گروپ سے رابطہ کیا جاتا تو آگے سے نذیر چوہان کا نام دیا جاتا کہ وہ نمائندگی کریں گے۔ وہ تو ترین گروپ کے ماوتھ پیس تھے۔ ترین گروپ کی تیسری میٹنگ میں تمام اراکین اسمبلی سے قرآن پر وفاداری کے حلف لیے گیے تھے تو اس کی تصدیق بھی میڈیا کو نذیر چوہان نے ہی کی تھی۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چاہے مقدمات کا دباؤ ہو یا مستقبل میں کوئی اہم عہدہ ملنے کی یقین دہانی، وجہ کوئی بھی ہو کپتان نے اپنے پتے ٹھیک کھیلے ہیں اور اس کا انہیں فائدہ ہوا ہے۔ لیکن اس سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ عمران خان اور جہانی ترین کے مابین تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں اور کپتان نے ان کے خلاف شوگر سکینڈل کیس کو صرف اپنی حکومت بچانے کے لیے سردخانے میں ڈال رکھا ہے۔
دوسری جانب ترین کے قریبی رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے کہا ہے کہ نزیر چوہان اپنی مرضی سے گروپ میں آئے تھے، اور کوئی انہیں زبردستی نہیں لایا تھا۔ راجہ ریاض کے مطابق نذیر چوہان دودھ پیتے بچے نہیں کہ ان کو کسی نے گمراہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں منع کیا تھا کہ مذہبی معاملات پر بیان بازی سے گریز کریں کیونکہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ تاہم وہ ہیرو بننے کے چکر میں باز نہیں آئے لیکن جب ڈنڈا گھوما تو فوری طور پر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کروا کر جہانگیر ترین کو چار شیٹ کر دیا۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ نذیر چوہان کی جانب سے جہانگیر ترین پر الزامات لگانے اور پھر انکا ساتھ چھوڑنے سے جہانگیر ترین گروپ کی کمزوری کا تاثر ابھرا ہے۔
