الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل منظور

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے الیکشن ایکٹ 2017 کی بیشتر شقوں میں ترمیم سے متعلق بل کی منظوری دے دی۔
پارلیمانی امور سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس مسلسل دوسرے دن رکن قومی اسمبلی مجاہد علی کی زیر صدارت ہوا۔ پینل نے آئندہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کےلیے حکومتی عہدیداروں کی توجہ انتخابی اصلاحات کی طرف مبذول کروانے کی حکومتی کوششوں کو سراہا ہے۔ مجوزہ انتخابی اصلاحات قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کےلیے نامزدگی فیس، حد بندی، انتخابی فہرستوں، سینیٹ انتخابات کےلیے اوپن رائے شماری، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حق رائے دہی اور انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال سے متعلق ہیں۔ انتخابات (ترمیمی) بل 2020 کو قومی اسمبلی میں 16 اکتوبر 2020 کو پیش کیا گیا۔ اہم تجویز کردہ تبدیلیوں میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (سیکشن 11 (2)) کی مزید مالی خود مختاری سمیت آبادی کے بجائے ووٹرز کی مساوی تعداد کی بنیاد پر حد بندی (سیکشن 17 اور 20)، حد بندی کی فہرستوں پر کسی بھی شخص کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپیل (سیکشن 21 (5) شامل ہیں۔ علاوہ ازیں اہم تجویز کردہ تبدیلیوں میں حد بندی میں زیادہ سے زیادہ 5 فیصد تغیر (10 فیصد کی بجائے) (سیکشن 20)، ای سی پی کے ذریعے انتخابی رول سے متعلق حصے کو خارج کرنا(24 ، 26 ، 28-34 ، 36-42 ، 44)، انتخابی فہرست نادرا کے شناختی ڈیٹا کی رجسٹریشن جیسا (سیکشن 25)، کسی حلقہ کے باہر سے افسران / عملہ کے درمیان پولنگ عملے کی تقرری (سیکشن 53)، تقرری کے 15 دن کے اندر پولنگ افسران/ عملہ کی تقرری کو چیلنج کرنے کی دفعات (سیکشن 15)، قومی اسمبلی کےلیے نامزدگی کی فیس 30 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کےلیے 20 ہزار روپے سے 30 ہزار روپے تک اضافہ (سیکشن 61) سمیت دیگر تبدیلیاں شامل ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے مجوزہ ترامیم پر غور کیا اور سفارش کی کہ اجلاس میں ارکان کی اکثریت کے ساتھ بل پاس کیا جائے۔ بل کو منظور کیا گیا جب کہ اپوزیشن اراکین نے اپنے اختلافی نوٹ میں ریمارکس دیے کہ یہ ایک بہت ہی حساس مسئلہ ہے جس کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن نے کہا کہ کمیٹی کو جلد بازی میں اس بل کو پاس کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اجلاس میں علی بخاری، رخسانہ نوید، طل ہما، محمود بشیر، مہیش کمار ملانی، شاہین ناز سیف اللہ، مولانا عبد الکبر چترالی، پارلیمانی امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان اور پارلیمانی امور کی وزارت کے نمائندوں اور ای سی پی نے بھی شرکت کی۔
