الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل منظور

الیکٹرانک ووٹنگ مشین اوراوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ سے متعلق سابق حکومت کی ترامیم کو ختم کرنے کا بل قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، بل وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے پیش کیا، الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کا قاعدہ معطل کرنے کی تحریک بھی منظور کر لی گئی۔
متحدہ قومی موومنٹ کے صابر قائم خانی کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط الیکشن کمیشن اور مضبوط قانون کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے، ہم ہمیشہ الیکشن میں اس معاملے میں متاثر رہے ہیں، جو ترامیم لائی گئی ہیں وہ وقت کی ضرورت تھی۔
صابر قائم خانی کا کہنا تھا جن جماعتوں کی اس ایوان میں نمائندگی نہیں ان سے بھی رائے لینا ضروری ہے، 2017 کا منظور کردہ بل اگر واپس آ رہا ہے تو اس کی حمایت کریں گے، وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کرانے کی ترمیم کی گئی۔
ای وی ایم پر الیکشن کمیشن میں بہت سے اعتراضات اٹھائے، بہت کم فرق سے اس بل کو قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا، یہ بل سینیٹ میں آیا تو اس کو کمیٹی میں بھیجا گیا۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا ہم نے اس کے اوپر بہت سے اجلاس کیے، رولز کو بلڈوز کرتے ہوئے اس بل کو منظور کیا گیا لیکن پورے ملک میں ایک ہی وقت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ایجنڈا کافی طویل ہے، قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی بل بھی آج منظور کرایا جائے گا جبکہ انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے، کمیٹی میں صرف وہ شامل نہیں جو باہر درختوں اور املاک کو آگ لگا رہے ہیں۔
قومی اسمبلی اجلاس میں الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے بل کی شق وار منظوری لی گئی، اور بل کی منظوری کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ سے متعلق سابق حکومت کی ترامیم ختم ہو گئیں۔
