الیکشن جیتنے والے 9 مئی کے ملزمان کا انجام قریب آ گیا؟

تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے خیبر پختونخوا کے بعد پنجاب میں بھی 9 مئی کے مطلوب روپوش ملزم میاں اسلم اقبال کو پنجاب میں پارٹی کا وزارت اعلیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق میاں اسلم اقبال کا وزیر اعلیٰ بننا تو کجا اسمبلی آنا بھی ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ میاں اسلم  9 مئی کی شرپسندانہ کارروائیوں میں سیکیورٹی اداروں کو مطلوب ہیں تاہم 9 مئی کے بعد سے وہ روپوش ہیں اس لئے وہ گرفت میں نہیں آسکے ہیں تاہم جیسے ہی وہ سامنے آئیں گے انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ 14 فروری کے روز عمران خان نےسانحہ 9 مئی کے ایک اور مطلوب روپوش ملزم علی امین گنڈاپور کو خیبرپختونخواہ کیلئے پی ٹی آئی کا امیدوار نامزد کیا تھا۔ علی امین گنڈا پور کے بعد میاں اسلم اقبال کی نامزدگی عمران خان کی طرف سے سیاسی حریفوں، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے خلاف مزاحمت کا واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ الیکشن میں بڑی تعداد میں سیٹیں لینے کے باوجود تحریک انصاف کو کسی قسم کا ریلیف ملتا دکھائی نہیں دیتا۔ علی امین گنڈاپور اور میاں اسلم اقبال کی وزرائے اعلیٰ کے طور پر نامزدگی بھی انھیں 9 مئی کے مقدمات میں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔

واضح رہے کہ سانحہ نو مئی میں ملوث پی ٹی آئی کے 50 سے زائد امیدواروں نے عدالتوں سے ضمانت حاصل کرکے الیکشن میں حصہ لیا۔ تاہم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں سمیت دیگر ماتحت عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات کے چالان اور ٹرائل شروع ہونا باقی ہیں۔ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد امیدوار دہشت گردی کے مقدمات میں نامزد ہونے کے باوجود عام انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر کھڑے ہوئے۔  پی ٹی آئی کے ان امیدواروں کے خلاف مختلف تھانوں میں 30 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے ان امیدواروں نے عدالتوں سے ضمانت حاصل کیں۔ تاہم ان کے خلاف مقدمات انسداد دہشت گردی سمیت ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ بیشتر مقدمات میں ابھی پولیس کی جانب سے حتمی چالان جمع کرانا باقی ہے۔ پولیس چالان آنے کے بعد مذکورہ ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی اور پھر گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔ مذکورہ عمل مکمل ہونے کے بعد وکلائے طرفین کی جانب سے حتمی دلائل دیئے جائیں گے اور اس کے بعد ہی مقدمات کے فیصلے آنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب سیکیورٹی اداروں نے نو مئی کے مقدمات میں مطلوب اشتہاریوں کو کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ جس کے بعد عام انتخابات میں منتخب ہونے والے 9 مئی کے اشتہاریوں کی گرفتاری کے لیے حکمت عملی تشکیل دیدی ہے۔ذرائع کے مطابق 9 مئی کے حوالے سے درج  مقدمات میں ملوث 22 اشتہاری رہنماء 282 کارکن تاحال انتہائی مطلوب ہیں۔حالیہ الیکشن کے کامیاب امیدوار میاں اسلم اقبال ، علی امین گنڈا پور، امتیاز شیخ بھی نو مئی کے واقعات میں لاہور پولیس کو مطلوب ہیں۔ عدالت کی جانب سے انہیں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق اشتہاریوں کے روابط کا تعین کرنے کے لیے جیوفینسنگ ، موبائل ٹریکنگ اور آئی پی ایڈریس ٹریک کر لیے ہیں۔ تاہم انتخابات میں سیٹ حاصل کرنے والے اشتہاریوں کی گرفتاری قانون کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔اشتہاریوں کی لوکیشن معلوم کرنے اور گرفتاری کے لیے ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی مدد لی جارہی ہے۔

دوسری طرف جناح ہاؤس میں جلاؤ گھیراؤ کے مقدمہ میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نو مئی کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملوث 30 روپوش ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ اے ٹی سی لاہور نے تھانہ شادمان نذرآتش کیس میں حسان نیازی ، حماد اظہر اور مراد سعید سمیت کچھ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جائیداد قرقی کا حکم بھی دے دیا۔ دوسری طرف بھکر میں سمیرا نامی خاتون کو نو مئی کے مقدمے میں 9 سال کی سزا سنا دی گئی۔

لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد نوید اقبال نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملوث 30 روپوش ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ سنایا۔اے ٹی سی لاہور میں تھانہ شادمان نذرآتش کیس کی سماعت ہوئی۔ جج محمد نوید اقبال نے 7 اشتہاری ملزمان کی جائیداد قرقی کا حکم دے دیا۔عدالت نے جن افراد کی جائیداد قرقی کا حکم دیا ان میں میاں اسلم اقبال، محمد زبیرخان نیازی، جمشید چیمہ، مسرت چیمہ، حسان نیازی، حماد اظہراور مراد سعید شامل ہیں۔ان تمام ملزموں کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اور ان کا شمار اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ حماد اظہر سابق گورنر اور 8 فروری کے انتخابات میں ایم این اے منتخب ہونے والے میاں اظہر کے بیٹے ہیں۔ مراد سعید سابق وفاقی وزیر اور بانی پی ٹی آئی کے قریبی ترین مشیر ہیں، میاں اسلم اقبال لاہور میں پی ٹی آئی کے اہم رہنما ہیں اور عمراں خان کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار ہیں، مسرت جمشید چیمہ پی ٹی آئی کے سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی ترجمان رہی ہیں اور جمشید چیمہ ان کے شوہر ہیں۔ حسان نیازی بانی پی ٹی آئی کا بھانجا ہے، زبیر خان نیازی پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کے مشیر اور وزیر اعظم شکایات سیل کے چئیرمین رہے ہیں۔ یہ تمام ملزم 9 مئی کے سانحہ کے بعد سے مسلسل روپوش ہیں، ان مین سے بعض کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں کہ وہ بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

Back to top button