الیکشن کمیشن نے حکومت کی بجائے اپنی مرضی کا سیکرٹری چن لیا


معلوم ہوا ہے کے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تین حاضر سروس سرکاری افسران پر ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو فوقیت دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا نیا سیکرٹری لگانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ کسی حکومتی دباو کے بغیر آزادانہ اپنے فرائض سر انجام دے سکے۔ بتایا گیا ہے کہ اس عہدے کے لیے جیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے دیگر چار ممبران نے چار امیدواروں کے انٹرویو کیے جن میں سے 3 حاضر سروس جبکہ ایک ریٹائرڈ تھے۔ لیکن چاروں افسران کی قابلیت کا جائزہ لینے کے بعد الیکشن کمیشن کے اعلی عہدے داروں نے سیکریٹیریٹ گروپ کے ریٹائرڈ افسر عمر حمید کو نیا سیکرٹری الیکشن کمیشن لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے بالکل درست فیصلہ کیا ہے کیونکہ ریٹائیرڈ سیکرٹری الیکشن کمیشن اپنے سروس کیرئیر کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو جواب دہ نہیں ہوگا اور اسکے دباؤ میں نہیں آئے گا۔ یوں حکومت الیکشن کمیشن کے سامنے جوابدہ ہو گی نہ کہ ای سی پی حکومت کو جواب دہ ہو جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا اور ای سی پی کے چار ارکان نے سیکرٹری ای سی پی کے عہدے پر تعیناتی کے لیے تین حاضر سروس اور ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ کا انٹرویو کیا ہے۔ یاد رہے کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کا عہدہ چیف الیکشن کمشنر کے بعد سب سے اہم ہوتا ہے اور اس کی تقرری کے عمل میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، لیکن اسکے باوجود انٹرویو کے لیے تین حاضر سروس افسران کے نام حکومت نے ہی کمیشن کو بھجوائے تھے۔ ذرائع کا کہنا یے کہ ریٹائیرڈ بیوروکریٹ عمر حمید کا نام حکومت نے تجویز نہیں کیا تھا اور اسی کو نیا سیکرٹری لگایا جا رہا ہے۔ نئے ممکنہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کا عمر حمید حال ہی میں گریڈ 22 میں بطور آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی ریٹائیرڈ ہوئے ہیں۔ اس پہلے عمر حمید بطور سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے عہدے پر کام کر رہے تھے لیکن وزیر اعظم نے انہیں ہٹا دیا تھا۔ انکا زیادہ تر تجربہ فنانس اور اکنامکس کی وزارتوں میں کام کرنے کا ہے۔ عمر حمید ماضی میں رجسٹرار کو آپریٹو اسلام آباد بھی رہ چکے ہیں۔ عمر حمید نے کیرئیرکے دوران سیکرٹری فنانس ،سیکرٹری بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام، سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ، اور ایڈیشنل سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن فرائض انجام دیئے ہیں جبکہ بطور سینئر جوائٹ سیکرٹری داخلہ، سینئر جوائنٹ سیکرٹری اکنامک افیئر ڈویژن بھی کام کرتے رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہنہے کہ عمر حمید ماضی میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے پرسنل اسٹاف آفیسر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں لیکن انکے تعلقات اچھے نہیں تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے عمر حمید کو ان کے تجربے اور اصول پرستی کی وجہ سے سیکریٹری الیکشن کمیشن کےعہدے کے لیے شارٹ لسٹ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے سیکرٹری کے عہدے کے لیے جن تین دیگر حاضر سروس سرکاری افسران کے انٹرویو کیے ان میں ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے گریڈ 21 کے احمد حنیف اورکزئی بھی شامل ہیں۔ ان کا تعلق اسی سروس بیچ سے ہے جس سے موجودہ چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کا تعلق ہے لیکن ان کا نام حکومت نے تجویز کیا تھا۔ اورکزئی فی الحال فیڈرل لینڈ کمیشن کے رکن ہیں۔ دوسرے حاضر سروس سرکاری افسر ڈی ایم جی گروپ کے شکیل ملک ہیں جو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے بیج میٹ ہیں۔ وہ فی الحال وزارت پارلیمانی امور کے ایڈیشنل سیکرٹری کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کے عہدے کے لئے انٹرویو دینے والے تیسرے حاضر سروس سرکاری افسر کا نام ایوب چودھری ہے جو فی الحال وزارت داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم اطلاعات یہی ہیں کہ الیکشن کمیشن نے اپنی آزادی اور خود مختاری برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے تجویز کردہ تینوں حاضر سروس سرکاری افسران کو انترویو میں فیل کرتے ہوئے ریٹائرڈ سرکاری افسر عمر حمید کو نیا سیکرٹری الیکشن کمیشن لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اعلان اگلے چند روز میں کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ کہ چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان کوئی دباو نہ لینے کی وجہ سے موجودہ حکومت کو دل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں اور یہ کوشش کی جارہی تھی کہ سیکرٹری کے اہم ترین عہدے پر کوئی ایسا شخص آ جائے جو حکومتی مفادات کی نگہبانی کر سکے۔ خیال رہے کہ اگلے انتخابات موجودہ چیف الیکشن کمشنر اور نئے سیکریٹری کی زیر نگرانی ہوں گے جس سے پہلے الیکشن کمیشن نے کئی اہم کیسز کے فیصلے بھی کرنے ہیں جن میں وزیراعظم عمران خان کی تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس بھی شامل ہے۔

Back to top button