الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دیدیا

سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دیا لہٰذا انہیں پارٹی چیئرمین رہنے کا حق نہیں ہے، مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے کنور دلشاد کا کہنا تھا، نواز شریف کو بھی نااہلی کے بعد پارٹی سربراہی سے بھی نااہل قرار دیا گیا تھا۔
سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے مزید کہا کہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی نااہلی کا خطرہ ہے، اگر وکلاء صحیح دلائل دیں تو ممکن ہے کہ معاملہ ختم ہو جائے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو دیکھ کرہی رائے دینی ہے، قوانین کے مطابق جو شخص قومی اسمبلی کا ممبر بننے کا اہل نہ ہو پارٹی سربراہ بھی نہیں بن سکتا۔
اسلام آباد میں نجی مال سیل کرنے کے حوالے سے وفاقی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سمیت مجھے اس بات کا علم نہیں تھا، رانا ثنا اللّٰہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جب مال کے معاملے کا پتہ چلا تو شہباز شریف نے فوری مال ڈی سیل کرنے کے احکامات دیئے۔وزیر داخلہ کے مطابق وزیراعظم کے خطاب کے دوران ہوئے واقعے کے بعد نجی مال سیل کرنے کا معاملہ اتفاقیہ ہے یا شاید انتظامیہ میں کسی نے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی بات کی ہو۔
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی سینیٹر اعظم سواتی نے جو بیانات دیے وہ بیان دینا کسی کو زیب نہیں دیتا، شہباز شریف خود کو حکمران کہلوانا پسند نہیں کرتے۔رانا ثنا اللّٰہ نے صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق کہا کہ حکومت کو ارشد شریف قتل پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر کوئی اعتراض نہیں، سپریم کورٹ کا ہیومن رائٹس کمیشن بھی ارشد شریف قتل کیس کو دیکھ رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار تھا، ہمیں لگا کہ شاید سپریم کورٹ ہیومن راٹس کمیشن سے کوئی ڈائریکشن آئے۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ایسے کیسز میں انویسٹی گیشن جے آئی ٹی کرتی ہے جس کا فیصلہ ہو چکا، جے آئی ٹی میں قابل افسران رکھے جائیں گے، تمام ایجنسیز کے لوگ شامل ہوں گے۔
