الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ سکروٹنی کمیٹی کی ساکھ پر سوال اٹھا دیا

تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنر اکبر ایس بابر کی جانب سے سکروٹنی کمیٹی پر لگائے گئے جانبداری اور نااہلی کے الزامات کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پانچ اراکین کے ان ریمارکس سے تقویت ملتی ہے جن میں کمیٹی کی پیش کردہ پراگرس رپورٹ کو نہایت غیر تسلی بخش اور نامکمل قرار دے کر مسترد کر دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے خلاف مبینہ ممنوعہ فارن فنڈنگ کے الزام کی چھان بین کے لئے بنائی گئی خصوصی سکروٹنی کمیٹی نے 17 اگست 2020 کو الیکشن کمیشن میں ایک رپورٹ جمع کروائی تھی جس کو الیکشن کمیشن کے پانچوں اراکین نے غیر تسلی بخش اور نامکمل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا اور کمیٹی کو ہدایت کی تھی کہ وہ چھ ہفتوں کے اندر ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات تسلی بخش طریقے سے مکمل کر کے تفصیلی رپورٹ جمع کروائے۔
الیکشن کمیشن کے ممبران نے اپنے تحریری حکم نامے میں قرار دیا تھا کہ نہ تو سکروٹنی کمیٹی نے کیس کے شواہد کو پرکھا اور نہ ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ سکروٹنی کمیٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال کرے اور معاملے کہ تہہ تک پہنچے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ اسکے بعد سکروٹنی کمیٹی کو اپنا کام 6 ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ لیکن فارن فنڈنگ کیس میں دی گئی چھ ہفتوں کی نئی ڈیڈ لائن کو گزرے بھی چار ماہ سے زائد کا عرصہ بیت گیا ہے لیکن اب تک کمیٹی اس ٹاسک کو مکمل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔
فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنز اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ سکروٹنی کمیٹی جان بوجھ کر تاخیری حربے آزما رہی یے تاکہ اس اہم ترین کیس کا فیصلہ نہ ہو پائے۔ انکا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین پر مبنی سکروٹنی کمیٹی تحریک انصاف حکومت کے دبائو میں کام کرر ہی ہے اور عین حکومتی ہدایات کے مطابق معاملے کو طور دے کر مسلسل کیس کو الجھا رہی ہے۔اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ جب گریڈ 18 گریڈ 19 یا گریڈ 20 کے سرکاری ملازم ملک کے وزیراعظم کے خلاف کیس کی تحقیقات کریں گے تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ قانون کے مطابق وزیراعظم اور ان کی جماعت کے خلاف انصاف ہر مبنی کوئی فیصلہ ہو سکے۔ اکبر ایس بابر کے مطابق یہ کیس الیکشن کمیشن اور سکروٹنی کمیٹی کے پاس آنے کے بعد سے اب تک ڈیڑھ سو سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں۔ اس دوران نہ صرف پی ٹی آئی کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کئے گئے بلکہ غیر تصدیق شدہ اور جعلی دستاویزات جمع کروا کر گلو خلاصی کروانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی دباو کی وجہ سے سکروٹنی کمیٹی نہ تو انہیں تحریک انصاف کی جانب سے جمع کروائے گئے شواہد اور ثبوتوں کی کاپیاں فراہم کرر ہی ہے اور نہ ہی ممنوعہ فسرن فنڈنگ سے متعلق تفصیلات اور چھپائے گئے 23 بینک اکائونٹس سے متعلق کچھ بتانے پر راضی ہے۔ یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن حکام کو ایسا کرنے سے روکا ہوا ہے۔ اکبر ایس بابر کا موقف ہے کہ سکروٹنی کمیٹی درست طریقے سے کام نہیں کر رہی۔ کمیٹی ناکام ہو چکی ہے جو سکروٹنی ہو رہی ہے وہ بالکل شفاف نہیں۔ اگر تحریک انصاف کا پیش کرہ تمام ریکارڈ مجھے نہیں دکھایا جائے گا تو میں کیسے کمیٹی کی کارروائی پر اعتماد کا اظہار کرسکتا ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اس کیس کے شکایت کنندہ کے طور پر قانونی لحاظ سے بھی پی ٹی آئی کے جمع کروائے گے ریکارڈ تک رسائی کا مجاز ہوں لیکن مجھ سے شواہد چھپائے جا رہے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ میرے پاس تحریک انصاف کو ممنوعہ فارن فنڈنگ دیے جانے کے ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں لیکن جب تک مجھے ریکارڈ تک رسائی نہیں ملتی، میں اپنا مواد کیوں پیش کروں۔؟
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 29 مارچ 2018 کو تشکیل دی گئی سکروٹنی کمیٹی کا بنیادی کام تحریک انصاف کو ہونے والی مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کی چھان بین اور پارٹی اکائونٹس کی تصدیق کرنا تھا۔ اس ضمن میں 10 اپریل 2018 کو تفصیلی ٹرمز آف ریفرنسز یا ٹی اور آر بھی جاری کئے گئے تھے۔سکروٹنی کمیٹی کے لیے جاری کیے گئے ٹرم آف ریفرنس کی پہلی شق یہ تھی کہ مذکورہ کمیٹی تحریک انصاف اور پٹیشنر اکبر ایس بابر اور ان دونوں کے وکلا کی موجودگی میں اکاؤنٹس کی سکروٹنی کا فریضہ انجام دے گی۔دوسری شق کے مطابق سکروٹنی کمیٹی کی زمہ داری بنتی ہے کہ تحریک انصاف کو 2009 سے لے کر 2013 تک ہونے والی غیر ملکی فنڈنگ، ان کے ذرائع اور پارٹی کے مالی معاملات میں پائے جانے والے تضادات اور خامیوں سے متعلق چھان بین کرے۔کمیٹی کی ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ تحریک انصاف کے خلاف درخواست دہندہ اکبر ایس بابر کی جانب سے فارن فنڈنگ کے لگائے گئے الزامات کے حوالے سے پٹیشنر کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات اور ثبوتوں کے معیار اور ساکھ کا بغور جائزہ لے۔ ٹی او آر کی چوتھی شق کے مطابق سکروٹنی کمیٹی کو پابند کیا گیا کہ یہ پٹیشنر اکبر ایس بابر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی چھان بین کرتے ہوئے تحریک انصاف کو ملنے والے مبینہ ممنوعہ فنڈز کا کھوج لگائے۔ سکروٹنی کمیٹی سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ ضروری سمجھے تو تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس دائر کرنے والے اکبر ایس بابر یا جواب دہندہ تحریک انصاف سے مزید وضاحت طلب کرسکتی ہے تاکہ کیس سے متعلقہ اکاؤنٹس کے بارے میں چھان بین آسان ہو۔ ٹی او آرز کے آخر میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ سکروٹنی کمیٹی یہ سارا عمل تیس دن کے اندر اندر مکمل کرکے اس کی رپورٹ الیکشن کمیشن کو جمع کروائے۔
لیکن واضح اور جامع ٹی او آرز طے ہونے کے باوجود ہوا یہ کہ سکروٹنی کمیٹی کے کام میں بار بار مداخلت کی گئی اور تحریک انصاف کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کئے گئے جس کے نتیجے میں ایک مہینے کی بجائے سترہ ماہ بعد 17 اگست 2020 کوسکروٹنی کمیٹی نے الیکشن کمیشن کو اپنی رپورٹ جمع کروائی جسے نامکمل اور بے نتیجہ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا اور یہ حکم بھی دیا گیا کہ کم از کم ہفتے میں تین دن سکروٹنی کمیٹی کا اجلاس ہو تاکہ اس معاملے کو جلد از جلد نمٹایا جا سکے۔ اس کے جواب میں الیکشن کمیشن کا 27 اگست 2020 کو جاری اپنے حکم نامے میں کہنا تھا کہ یہ انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ فارن فنڈنگ کی تحقیقات کے معاملے کو 29 ماہ گزر جانے کے باوجود سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے زیر تفتیش معاملے پر کوئی ٹھوس رائے نہیں دی گئی۔ حکمنانے میں یہ بھی کہا گیا کہ سکروٹنی کمیٹی نے جمع کروائی گئی رپورٹ میں نا مکمل تفصیلات فراہم کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کی دستاویزات اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال نہیں کی۔ الیکشن کمیشن کا اپنے جاری کردہ حکم نامے میں کہنا تھا کہ سکروٹنی کمیٹی نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کرتے ہوئے دستاویزات کی صداقت، قابل اعتبار ہونے اور ساکھ کی میرٹ پر جانچ پڑتال نہیں کی حالانکہ سکروٹنی کمیٹی کے پاس متعلقہ فورمز کے علاوہ تمام ذرائع استعمال کرنے کی سہولت موجود تھی، کمیٹی نے نا ہی درست طریقہ کار اختیار کیا بلکہ اپنی رپورٹ میں کوئی نتیجہ بھی اخذ نہیں کیا۔الیکشن کمیشن حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی دستاویز قابل قبول نہیں تو اسکی وجوہات بھی بتائی جائیں۔ دستاویزات کی تصدیق کیلئے کمیٹی ہر متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتی ہے۔ ان اعتراضات کے ساتھ الیکشن کمیشن نے معمالہ دوبارہ سکروٹنی کمیٹی کو بھجوادیا تھا۔ ساتھ ہی یہ تاکید بھی کی تھی اب اسے جلد از جلد منطقی انجام تک پہچایا جائے لیکن اس میں 6 ہفتوں سے زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے مگر اب چار ماہ سے زائد عرصہ بیت گیا ہے اور سکروٹنی کمیٹی نے رپورٹ جمع نہیں کروائی۔
دوسری جانب درخواست گزار اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کمیٹی کو چارج شیٹ کیا ہے کیونکہ اس نے جس طرح سے ریکارڈ اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کرنا تھی، وہ نہیں کی گئی۔ اب بھی کمیٹی ٹی اور آرز کے برخلاف اور تحریک انصاف حکومت کی منشا کے عین مطابق کرر ہی ہے جو انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے لہذا مجھے اس معاملے میں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔
