کیا فیصل واوڈا الیکشن کمیشن سے بھی زیادہ طاقتور ہو چکا ہے

اپنے خلاف دائر کردہ دوہری شہریت نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن سے پچھلے ایک برس سے بہانے بازی کرتے ہوئے تاریخ پر تاریخ حاصل کرنے والے وفاقی وزیر فیصل واوڈا 9 فروری کو ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے انکاری رہے جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے واوڈا پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کرکے گونگلوں سے مٹی جھاڑ دی اور کیس کی سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی۔

اس موقع پر عمران خان کے فارن فندنگ کیس کو لٹکانے والے چیف الیکشن کمشنر نے یہ حکم بھی دیا کہ وفاقی وزیر فیصل واوڈا اگلی پیشی پر الیکشن کمیشن کے سامنے ذاتی حیثیت میں پیش ہوں اور اپنی امریکی شہریت کے حوالے سے صورتحال واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ کیس کی گزشتہ سماعت پر الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو اپنی امریکی شہریت پر موقف دینے کا موقع دیا تھا حالانکہ الیکشن کمیشن کے پاس 2018 الیکشن کے وقت کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت فیصل واوڈا کے امریکی شہری ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے رویے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومتی وزیر کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں ورنہ وہ کیس کی اگلی سماعت دو ہفتے بعد نہ رکھتے۔ 9 فروری کے روز اس کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت واؤڈا کے وکیل محمد بن محسن کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور انکے معاون نے ھسب معمول یہ بہانہ بنایا کہ وہ لاہور کی عدالت میں ایک اور کیس میں مصروف ہیں، لہٰذا آج کے لیے کیس سے التواء دیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے فیصل واؤڈا کے وکیل کی جانب سے التواء کی درخواست پر اظہارِ برہمی کیا۔ اس موقع پر ممبر الیکشن کمیشن الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ کیس کی سماعت پر التواء مانگنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں، التواء کی درخواست کے ساتھ کوجی ثبوت نہیں لگایا گیا کہ وکیل کہاں مصروف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور کی عدالت کا کیس، الیکشن کمیشن کے کیس سے منسلک نہیں ہے، اور فیصل واؤڈا کے وکیل کو لاہور کی عدالت کے ساتھ اپنا ٹائم مینج کرنا چاہیئے تھا۔
ممبر الیکشن کمیشن ارشاد قیصر نے معاون وکیل حسنین علی چوہان سے استفسار کیا کہ آپ پاور آف اٹارنی نہیں رکھتے تو کس حیثیت سے کمیشن میں میں آئے ہیں؟

معاون وکیل حسنین چوہان نے جواب دیا کہ ہم ایک ساتھ کام کرتے ہیں، اور میں دوست کی حیثیت سے پیش ہوا ہوں۔ اس پر فیصل واوڈا کے خلاف درخواست گزار قادر مندوخیل نے حسنین چوہان کو کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ آپ واؤڈا کے کراچی میں کوآرڈینیٹر ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن اس معاملے پر خاموش رہا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے اتنا ضرور کہا کہ کیس پہلے ہی بہت بار التواء کا شکار ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے وکیل سے پچھلی بار پوچھا تھا کہ واؤڈا نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں دہری شہریت کے خانے میں ناقابلِ اطلاق کیوں لکھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے واؤڈا کے وکیل سے یہ بھی پوچھا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت کب تک تھی اور کب چھوڑی تھی؟

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جوابدہ کی جانب سے بار بار تاخیر الیکشن کمیشن کو قابلِ قبول نہیں، اور فیصل واؤڈا کی عدم پیشی پر ہم انہیں 50 ہزار روپے کے اخراجات بطور جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے یہ بھی کہا کہ اگر جوابدہ نے مزید تاخیر کی تو کیس کی آئندہ سماعت پر الیکشن کمیشن امریکی قونصلیٹ کو خود خط لکھے گا تاکہ واوڈا کی امریکی شہریت کے معاملے پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ اگلی سماعت پر فیصل واؤڈا خود الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوں ۔ اسکے بعد نااہلی کیس کی سماعت 24 فروری 2021 تک ملتوی کر دی گئی۔

تاہم اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ناقدین کا کہنا یے کہ تمام تر حقائق سامنے ہونے کے باوجود فیصل واوڈا نااہلی کیس کا فیصلہ کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن نے دوہری شہریت نااہلی کیس میں انصاف کا دوہرا معیار اپنا رکھا ہے اور لمبی لمبی تاریخیں ڈال کر معاملہ لٹکایا جا رہا ہے. یاد رہے کہ فیصل واوڈا کے خلاف دوہری شہریت پر نا اہلی کیس کی سماعت الیکشن کمیشن کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی جاری ہے اور وہاں پر بھی وہ لمبی لمبی تاریخی لینے میں مصروف ہیں۔ کیس کی آخری سماعت پر 14 جنوری کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے واوڈا کی رسی ایک مرتبہ پھر دراز کرتے ہوئے انہیں جواب داخل کرانے کے لئے مزید ایک مہینے کی مزید مہلت دی تھی حالانکہ اس کیس میں واوڈا کی دونمبری کھل کر سامنے آ چکی ہے۔

بظاہر تاخیری حربوں کے ذریعے فیصل واوڈا ابھی تک الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو اپنے خلاف نا اہلی کیس میں فیصلہ کرنے کا موقع نہیں دے رہے۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ واڈا کے پاس وہ کونسی طاقت ہے جو انہیں اس کیس میں بچائے چلے جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عدلیہ اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے لئے انصاف کا دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہے جو ملک کے نظام انصاف کے لئے بالکل نیک شگون نہیں ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ برس 12 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصل واوڈا نے اپنا حتمی جواب جمع کروانے کی بجائے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ اپنا وکیل تبدیل کرنے جا رہے ہیں اس لیے انہیں اس مقصد کے لیے ایک مہینے کا وقت دیا جائے اور کیس کی سماعت ملتوی کی جائے۔ چنانچہ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت ایک مہینے کے لئے ملتوی کردی تھی۔ اس سے پہلے اس کیس کی 4 نومبر کی سماعت پر بھی واوڈا کے تاخیری حربوں سے تنگ آکر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے تھے کہ فیصل واڈا الیکشن کمیشن کے روبرو نااہلی کیس میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں لگا ہوا ہے اور جب یہاں ان سے پوچھا جاتا ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ میرا کیس تو الیکشن کمیشن کے پاس زیر سماعت ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نااہلی کیس میں فیصل واوڈا کی طرف سے جواب داخل نہ کرنے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل کھیلنا چھوڑ دیں۔ عدالت سے سیدھی بات کریں، یہ نہ ہو کہ عدالت موکل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا 2018ء کے عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت امریکی شہری تھے اور ان کا الیکشن کمیشن میں جمع کرایا جانے والا حلف نامہ جعلی تھا کیونکہ اسمیں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ 11 جون 2018ء کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔ کاغذات کی اسکروٹنی کے وقت بھی ان کی امریکی شہریت برقرار تھی۔ فیصل واوڈا نے اپنے کاغذات نامزدگی میں حلفاً کہا تھا کہ وہ صرف پاکستانی شہری ہیں تاہم دستاویزات سے ثابت ہوا جب انہوں نے کاغذات جمع کرائے وہ امریکی شہری تھے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ثابت ہوجائے کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے تو واوڈا نااہل ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ 2018 میں سپریم کورٹ نے ن لیگ کے سینیٹرز سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت پر نااہل قرار دیا تھا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ واضح کر دیا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امیدواروں کے پاس غیر ملکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہئے۔ اسی بات پر سپریم کورٹ نے کئی ارکان پارلیمنٹ کو نا اہل قرار دیا تھا اس لئے فیصل واوڈا کو بھی سیٹ چھن جانے کا ڈر لگا ہوا ہے جس سے بچنے کے لئے وہ غیر مرئی قوتوں کی مدد سے مسلسل تاخیری حربے استعمال کرکے مہلت حاصل کئے جا رہے ہیں اور حیران کن طور پر انہیں من چاہی ڈھیل مل بھی رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button