الیکشن کمیشن کا PTI کے دباؤ میں آنے سے صاف انکار

https://youtu.be/jY77Okp_A0I
فارن فنڈنگ کیس میں جلد فیصلے کے پیش نظر عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف کی جانب سے مسلسل مظاہروں اور احتجاج سے بے نیاز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی آئینی ذمہ داریاں کسی خوف اور دباؤ کے بغیر انجام دینے کا عزم ظاہر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایسا کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ عمران کی کال پر اگلے روز تحریک انصاف کے ورکرز نے ٹولیوں کی صورت میں الیکشن کمیشن کے دفاتر کے باہر احتجاج کیے لیکن اسلام آباد میں کمیشن کے مرکزی دفتر کے باہر مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد تین درجن سے زائد نہیں تھی۔ چنانچہ اب پریشان کپتان نے اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ کو الیکشن کمیشن کے خلاف آن لائن مہم شروع کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
عمران خان نے لاہور میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے دوبارہ چیف الیکشن کمشنر کو غیر جانبدار قرار دیتے ہوئے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور آئینی ذمے داریوں کو غیر جانبدارانہ طریقے سے ادا کر رہا ہے اور کسی خوف اور پسند نا پسند کے بغیر ایسا کرتا رہے گا۔ الیکشن کمیشن نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے عمران خان کا مطالبہ سختی سے مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے دباؤ میں لانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ کمیشن نے کہا کہ ہر کیس کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیسز کے بارے میں کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس بارے اپنی رپورٹ دسمبر 2021 میں پیش کر دی تھی جو اب اپنے حتمی مرحلے میں ہے۔ کمیشن نے کہا کہ گزشتہ سات برس سے لٹکے ہوئے اس کیس میں پی ٹی آئی کی طرف سے دلائل جاری ہیں جنہیں مکمل کرنے کے لیے بدھ سے جمعہ تک سماعت ہو گی۔ کمیشن نے کہا ہے کہ اسکروٹنی کمیٹی 9 مئی کو مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے خلاف بھی غیر ملکی فنڈنگ کیسز کی سماعت کرے گی اور اس مقصد کے لیے کچھ ضروری ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کے چیئرمین سے بھی کہا ہے کہ وہ 28 اپریل تک ان کیسز پر رپورٹ پیش کریں، کمیشن نے فارن فنڈنگ کے مقدمات کی کارروائی میں تاخیر کے لیے متعلقہ سیاسی جماعتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
الیکشن کمیشن کے باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عامر محمود کیانی نے 20 جنوری 2020 کو پی ٹی آئی سمیت 101 سیاسی جماعتوں کے سال 2014 سے 2018 تک کے اکاؤنٹس کے آڈٹ کے لیے درخواست دائر کی تھی، جانچ پڑتال کی مشق کے بعد کمیشن نے 3 فروری 2020 کو 18 سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کیے تھے اور کیس کی باقاعدہ سماعت کے لیے 18 فروری 2020 کی تاریخ مقرر کی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان فریقین کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے جنہوں نے نہ تو جواب جمع کرائے اور نہ ہی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔
الیکشن کمیشن کے ایک سینئر اہلکار نے عمران خان کے فوری الیکشن کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے قبل از وقت الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا تو کمیشن اکتوبر کے آخر تک انتخابات کرانے کے لیے آرام دہ پوزیشن میں ہو گا، انہوں نے کہا کہ اس صورت میں ہم تازہ مردم شماری کا انتظار نہیں کریں گے جو کہ حکومت اگست 2023 میں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں انتخابات 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر جاری حد بندی کے مطابق ہوں گے، محض مردم شماری کا آغاز کسی بھی صورت میں اسنیپ پولز کی راہ میں قانونی رکاوٹ نہیں بنے گا۔

Back to top button