الیکشن کے بعد مخلوط حکومت بننےکا راستہ کون روک سکتا ہے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروردی نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشی بحران کا حل یہ ہی ہے کہ ایک ہی جماعت حکمران ہو اسی سے سوال ہو اور وہ ہی جوابدہ بھی ہو ۔ آئیندہ انتخابات کے بعد اگر مخلوط حکومت بنی تو یہ عمل پاکستان کے معاشی مفاد میں نہیں ہوگا ۔ ووٹروں کو اجتماعی طور پر کسی ایک جماعت کو مینڈیٹ دینا ہو گا تا کہ وہ جماعت پاکستان کے مسائل حل کرنے کے لیے مکمل طور پر ذمے دار بن سکے۔ مخلوط حکومت میں کوئی ذمے دار نہیں ہوتا لہذا چوں چوں کا مربہ حکومت بننے کا راستہ روکنا ہوگا۔ اپنے ایک کالم میں مزمل سہروردی لکھتے ہیں کہ اگلے دس دن میں انتخابی مہم عروج پر پہنچ جائے گی۔ حلقوں میں سیاسی جلسے اور کارنر میٹنگ شروع ہو جائیں گی۔ سیاسی جماعتیں اور امیدواران ووٹ مانگنے نکل پڑیں گے۔ 2024ء کے انتخابات میں پاکستان کے ووٹرز کو بہت سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالنا ہوگا۔ ایک رائے یہ ہے کہ اس الیکشن کے نتیجے میں بھی کسی ایک جماعت کی حکومت بننا مشکل ہے اور آئیندہ مخلوط حکومت بنے گی تاہم یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ مخلوط حکومت میں کوئی ذمے دار نہیں ہوتا۔۔ اس لیے ووٹر کو اس بات کو سامنے رکھنا ہوگا کہ پاکستان اب کسی مخلوط حکومت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ جمہوریت میں مخلوط حکومت کی گنجائش موجود ہے۔ جب ایک جماعت کے پاس مکمل حکومت آجاتی ہے تو وہ سیاسی حکومت فاشسٹ حکومت بننے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ وہ کسی کو جوابدہ ہی نہیں ہے۔ وہ اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر پارلیمنٹ کو بلڈوز کرتی ہے۔وہ مشاورت کو ختم ہی کر دیتی ہے۔ وہ اپوزیشن کی بات نہیں سنتی۔ جس سے ملک میں جمہوریت کے بجائے بادشاہت کا تاثر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف آپ یہ بھی دیکھیں کہ مخلوط حکومت چوں چوں کا مربہ بن جاتی ہے۔ ایک دن ایک ناراض ہو گیا تو دوسرے دن دوسرا ناراض، سب کو خوش رکھنے کے چکر میں عوام کے لیے کوئی کام ہی نہیں ہوتا۔ مزمل سہروردی یاد دلاتےھیں کہ گزشتہ مخلوط حکومت کی دوسری بڑی پارٹی جس کے پاس وزیر خارجہ کا عہدہ بھی تھا وہ اپنی حکومت کی کارکر دگی کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہی نہیں۔ تیسرے بڑی جماعت جس کے پاس بھی وزارتیں تھیں وہ بھی کہتی نظر آتی ہے کہ ہم تو عدم اعتماد کے ہی خلاف تھے۔ اس لیے ہم اس کے نتیجے میں بننے والی مخلوط حکومت کے ذمے دار نہیں ہیں۔ حالانکہ سب کو مل کر ذمے داری لینی چاہیے۔ جب سب نے حکومت کے مزے لیے ہیں تو سب کو مل کر ذمے داری بھی لینی چاہیے۔ یہ صرف پی ڈی ایم کا ہی رویہ نہیں ہے۔ عمران خان جو تحریک انصاف کی حکومت میں وزیر اعظم تھے۔ وہ بھی اپنی حکومت کی چار سال کی کارکردگی کا دفاع کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ سارا وقت اتحادیوں کو منانے میں گزر گیا۔ حالانکہ پی ڈی یم کے مقابلے میں ان کی ایک مضبوط حکومت تھی۔ان کی حکومت کا عددی اعتبار سے چھوٹی سیاسی جماعتوں پر انحصار تھا۔ جن کا حکومت میںحصہ بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ لیکن وہ بھی کہتے نظر آئے کہ پورا مینڈیٹ نہیں تھا اس لیے کام نہیں کر سکے۔ جو بھی کرنا چاہتے تھے اتحادی نہیں مانتے تھے۔ حالانکہ ان کے دور میں اپوزیشن کو دیوار سے لگایا ہوا تھا۔ ان کے سامنے ایک کمزور اپوزیشن تھی۔ ۔ صرف پیپلزپارٹی ایک جماعت ہے جو آج بھی چاہتی ہے کہ ملک میں اگلے انتخابات کی نتیجے میں ایک مخلوط حکومت قائم ہو جائے۔ وہ ایک ایسی پارلیمنٹ کی خواہش کرتے نظر آرہے ہیں جس میں کسی کے پاس بھی مکمل اکثریت نہ ہو۔ اس لیے وہ حکومت بنانے کے لیے ان کا محتاج بن جائے۔ اسی لیے وہ یہ نہیں کہتے کہ وہ اگلی حکومت بنائیں گے۔بلکہ وہ کہتے نظر آتے ہیں کہ کوئی بھی ان کے بغیر حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ جس کے ساتھ وہ شامل ہونگے وہ حکومت بنائے گا۔ اب کوئی ان سے سوال کرے کہ جب آپ کسی کے ساتھ ملکر دوبارہ حکومت بنائیں گے تو پھر اس حکومت کی کارکردگی کے ذمے دار ہوں گے یا نہیں؟ مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ اگر وزارت عظمیٰ پیپلزپارٹی کو دے بھی دی جائے تو ان کے پاس ووٹ تو پورے نہیں ہونگے۔ پھر بھی وہ کیسے کام کریں گے۔ بڑی جماعت اپنے ووٹوں پر ان کو حکومت کیسے کرنے دے گی۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔ اس لیے ووٹر کو یہ بات سمجھنی ہے کہ اس نے ووٹ پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کے لیے دینا ہے صرف ووٹر ہی پاکستان میں مخلوط حکومت کا راستہ روک سکتا ہے۔ سیاسی تقسیم کو ختم کر سکتاہے۔ سیاسی مسائل کا حل کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ زیادہ بڑا مسئلہ معاشی مسائل اور معاشی بحران ہے۔ موجودہ معاشی بحران میں مخلوط حکومت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس لیے بڑے صوبوں کے ووٹرز کی زیادہ بڑی ذمے داری ہے کہ وہ ایسے ووٹ دیں کہ مخلوط حکومت کا راستہ رک جائے۔ پنجاب مخلوط حکومت کا راستہ روک سکتا ہے۔ کے پی اور سندھ بھی مخلوط حکومت کا راستہ روک سکتے ہیں۔ بلوچستان میں بے شک سیٹیں کم ہیں لیکن وہاں سے بھی جس جماعت کو سیٹیں ملتی ہیں وہ اس کی عددی اکثریت میں اضافہ کرتی ہے۔ اس لیے ووٹر کو مخلوط حکومت کا راستہ روکنا ہے۔ یہی ہدف ہونا چاہیے۔

Back to top button