الیکشن 2018 میں RTS سسٹم ناکام ہوا یا کیا گیا؟

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عام انتخابات 2018 میں بذریعہ دھاندلی مینڈیٹ اور ووٹ بنک چوری کرنے کیخلاف مسلسل صدائے احتجاج بلند کرنے کے نتیجے میں 22 ماہ بعد بالآخر الیکشن کمشن نے آر ٹی ایس یعنی رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کی ناکامی کی انکوائری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن انتخابات کا تمام ریکارڈ ضائع کر چکا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے متعلقہ حکام کو آر ٹی ایس کی ناکامی کی وجوہات کا تعین کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بتایا جائے کہ کروڑوں روپے کے اخراجات سے تیار ہونے والا رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کیوں اور کیسے ناکام ہوا؟
واضح رہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انتخابی نتائج کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کرتے ہوئے نادرا کے اشتراک سے آر ٹی ایس سسٹم تشکیل دیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بار انتخابات کی شب دو بجے تک تمام نتائج جاری کر دیے جائیں گے تاہم یہ محض دعویٰ ہی رہا۔ اسی ضمن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے انتخابی نتائج کی بروقت دستیابی اور اشاعت کے لیے رزلٹ مینیجمنٹ سسٹم بھی متعارف کروایا۔تاہم 25 جولائی 2018 کو ووٹنگ کی شب رات دو بجے تک کسی بھی صوبائی یا قومی اسمبلی کے حلقے کا ایک نتیجہ بھی سرکاری طور پر سامنے نہیں آیا تھا۔ جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل سمیت متعدد جماعتوں کی جانب سے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور دھاندلی کے الزامات لگنا شروع ہو گئے تھے۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے الیکن کمیشن آ ف پاکستان کے سیکرٹری نے رات کے آخری پہر پراسرار حالات میں ٹی وی پر آکر قوم کو بتایا کہ آرٹی ایس نے کام کرنا چھوڑدیا ہے اس لیے ریٹرننگ افسران روایتی طریقہ اپنائیں۔ دوسری طرف نادرا کے سینئر ترین افسران جنہوں نے آرٹی ایس موبائل ایپ تیار کی تھی سراپا احتجاج تھے کہ آرٹی ایس کے بارے میں غلط اعتراف کیوں کیا کیونکہ یہ مکمل فعال ہے۔ نادرا نے اپنے سسٹم کو دیکھا اور بتایا کہ وہ مکمل طور پر درست کام کررہا ہے اور نتائج موصو ل ہورہے ہیں لیکن الیکشن کمشن آف پاکستان کی جانب سے نادرا کو بتا یاگیا کہ انہوں نے خود آرٹی ایس کا استعمال ترک کیا ہے کیونکہ وہ مشکلات پیدا کررہا تھا لیکن اس معاملے پر قومی مفادکو خاطر میں رکھتے ہوئے نادرا حکام نے چپ سادھ لی۔ اس دوران اوپر سے ہدایات ملنے کے بعد الیکشن کمیشن نے مبینہ طورپر تمام ریٹرننگ آفیسرز کو بذریعہ فون مطلع کر دیا تھا کہ آرٹی ایس کا استعمال ترک کردیا جائے کیونکہ اس میں تکنیکی مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسطرح الیکشن کمیشن نے تمام تر ذمہ داری نادرا پر ڈال دی۔
ذرائع کے مطابق آرٹی ایس اور آرایم ایس دو علیحدہ نظام تھے جنہیں ایک ساتھ نہیں ملایا جاسکتا۔ الیکشن کمشن آف پاکستان کو اور نادرا کو براہ راست پچاسی ہزار پولنگ اسٹیشنوں سے ایک لاکھ ستر ہزارنتائج کے یعنی فارم 45 وصول ہوئے تاہم نادرا نے 50 فیصدیعنی چوراسی ہزار نتائج آرٹی ایس پر وصول کیے ۔ الیکشن کمشن آف پاکستان نے نادرا کے اس دعویٰ کو مسترد کردیا اور کہا کہ الیکشن کی رات آرایم ایس میں کچھ رکاوٹ آگئی ہوگی لیکن دراصل آر ٹی ایس مکمل طورپر غیر فعال ہوگیا تھا۔ یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ نادرا اپنی کمزوریوں کو چھپانے کیلئے جھوٹے دعوے کررہاہے حالانکہ آر ٹی ایس کے ذریعے تما م آر اوز صاحبان نے رزلٹ ارسال کرنے تھے لیکن سسٹم غیر فعال ہونے کی وجہ سے پریزائڈنگ آفیسر اپنے متعلقہ آر اوز کے دفتر گئے اور روایتی طریقے سے نتائج فراہم کیے اس طرح نتائج کی فراہمی میں تاخیر ہوئی الیکشن کمشن اور نادرا کے درمیان اختلاف اب بھی موجود ہے۔ دونوں ادارے اپنے موقف پر ڈٹے ہیں اور ہر قسم کی تحقیقات کا سامنا کرنے کیلئے تیارہیں۔ تاہم اب چیف الیکشن کمشنر نے اس حوالے سے تحقیقات کر کے حقائق سامنے لانے کا حکم دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ عام انتخابات 2018 میں ملک بھر میں قائم 85 ہزار سے زائد پولنگ سٹیشنز سے انتخابی نتائج الیکشن کمیشن تک پہنچانے کے لئے الیکشن کمیشن نے نادرا کے اشتراک سے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم یا آر ٹی ایس تشکیل دیا تھا۔ اس سسٹم کے تحت پولنگ سٹیشنز پر تعینات پریزائڈنگ افسران ایک موبائل ایپلی کیشن میں انتخابی نتائج اور فارم 45 کی تصویر اپلوڈ کرتے ہی وہ ڈیٹا الیکشن کمیشن کے سرور پر منتقل کیا جانا تھا۔ بظاہر یہ ایک آسان اور تیز رفتار سہولت تھی لیکن انتخابات کی شام جب ملک بھر میں عوام انتخابی نتائج کے انتظار میں تھے اس سسٹم نے کام کرنا چھوڑ دیا جس کے باعث یہ انتظار طویل سے طویل تر ہوتا گیا۔ پاکستان میں 25 جولائی کو عام انتخابات میں ہونے والی پولنگ کے بعد اس وقت مایوسی پھیل گئی جب الیکشن کمیشن کی جانب سے نئے تیار کردہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم یعنی آر ٹی ایس نے مبینہ طور پر کام کرنا بند کر دیا تھا۔ اُسی رات مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے سمیت ملک کی کئی سیاسی جماعتوں نے آر ٹی ایس میں مبینہ خرابی اور نتائج میں تاخیر پر سوالیہ نشان اٹھایا۔ تمام اپوزیشن جماعتیں اب بھی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر متحد نظر آتی ہیں۔
واضح رہے کہ رزلٹ مینیجمنٹ سسٹم یا آر ایم ایس ایک کمپیوٹر پروگرام ہے یہ الیکٹرانک فارمز پر کام کرنے والا سسٹم ہے جس میں ریٹرننگ افسر کو رپورٹ کرنے والے ڈیٹا انٹری آپریٹرز تمام معلومات یعنی امیدواروں کے نام، رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد، پولنگ سٹیشن کا نام اور نمبر، ہر امیدوار کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد وغیرہ۔ درج کر سکتے ہیں اس کے بعد ٹھوس نتائج کے فارم رزلٹ مینیجمنٹ سسٹم میں سکین کیے جاتے ہیں اور الیکش کمیشن کو بھیج دیے جاتے ہیں جو وہ اپنی ویب سائٹ پر شائع کرتے ہیں۔ آر ٹی ایس ار ایم ایس کی ناکامی بارے اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ سیاسی جماعتوں کا ووٹ بنک چوری کرنے کیلئے رزلٹ مینجمنٹ اور رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کی خرابی کا ڈرامہ رچایا گیا جس بارے حقائق سامنے لائے جانے چاہیں۔
تاہم یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات 2018 کا تمام ریکارڈ ضائع کیا جا چکا ہے۔ الیکشن کمیشن ستمبر 2019 میں اپنے تمام صوبائی دفاتر کو یہ ہدایات جاری کر چکی ہے کہ الیکشن 2018 سے متعلقہ تمام ریکارڈ ضائع کردیا جائے۔ الیکشن کمیشن کی ہدایات پر قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کا انتخابی مواد ضائع کیا گیا ہے ریکارڈ میں غیر متنازعہ حلقوں کے بیلٹ پیپرز، کاونٹر فائلز، فارمز شامل ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ 22 ماہ کی تاخیر اور ریکارڈ ضائع ہونے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے تحقیقات کا حکم کیا رنگ لاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button