الیکشن 2018 کی حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں میں نقائص تھے

الیکشن کمیشن نے 2018 کے انتخابی جائزے پر مبنی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ الیکشن 2018 کی انتخابی فہرستیں اور حلقہ بندیاں نقائص سے بھرپور تھیں اور رہی سہی کسر رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم یا آرٹی ایس نے پوری کردی جو الیکشن کی رات بیٹھ گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ آئندہ عام انتخابات سے پہلے نئی لازماً حلقہ بندیاں کروائی جائیں۔ آر ٹی ایس اور ووٹر لسٹوں سے متعلق نادرا سے معاملات درست کرنے کا کہا جائے۔ اس کے علاوہ حکومت سے کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل نئی مردم شماری رپورٹ کی اشاعت بھی شروع کروائی جائے۔ حالیہ عام انتخابات 2018 کی جائزہ رپورٹ الیکشن کمیشن پاکستان نے حکومت کو فراہم کردی ہے تاہم یہ رپورٹ اب تک پارلیمان میں نہیں لائی جا سکی۔
تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آر ٹی ایس یعنی رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کوترک کرنے، پرانی حد بندی کو غلط قرار دیتے ہوئے نئی حد بندی کرنے، پچھلی انتخابی فہرستیں ناقص ہونے کے باعث نئی انتخابی فہرستیں بنانے، انتخابات کے انعقاد کے موجودہ تین ماہ تا چھ ماہ کے دورانیے میں مستقبل میں توسیع دینے اور اگلے عام انتخابات میں تجربہ کار ریٹرننگ افسران کی تقرری کی تجویز دی ہے۔ یہ سفارشات 2018ء کے انتخابات کے بعد از پہلے جائزے میں دی گئی ہیں جو وفاقی حکومت کو جمع کرائی گئی الیکشن کمیشن کی سالانہ رپورٹ کا حصہ بن گیا ہے۔ اس رپورٹ کو اس کی قانونی ذمہ داری کی خلاف ورزی کرکے پارلیمان میں پیش نہیں کیا گیا جسے الیکشن کمیشن سے وصولی کے بعد ساٹھ روز کے اندر اند پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ آر ٹی ایس کے حوالے سے رپورٹ کا کہنا ہے کہ تمام پولنگ اسٹیشنوں میں اس پر عملدرآمد ایک ایسے وقت میں بہت بڑا چیلنج تھا جب اس علاقے میں انٹرنیٹ کوریج محض 60 فیصد تک محدود تھی۔ اس کے علاوہ 85 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں پر آر ٹی ایس میں اسمارٹ فون کے استعمال کا بندوبست ایک بہت بڑا کام تھا جس میں کافی رقم شامل تھی۔ ٹیکنالوجی سے نا آشنا پریذائڈنگ افسران کی آر ٹی ایس کے حوالے سے تربیت بھی ایک اور بڑا چیلنج تھا۔ مذکورہ بالا معاملات کے باعث رپورٹ میں توجہ دلائی گئی کہ نئی ٹیکنالوجی کا تعارف فول پروف ہونے اور میدان میں عملی ہونے تک قانون کے تحت لازمی نہیں ہونا چاہیے۔ پارلیمان ان چیلنجز کے پیش نظر الیکشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 13 (2) کی شق پر دوبارہ غور کرسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ریوینیو ڈپارٹمنٹس کی جانب سے فراہم کئے گئے غلط نقشوں کے باعث ناقص حد بندی کے حوالے سے تفصیل سے لکھا ہے۔ غلطی سے پاک حد بندی کیلئے نقشوں کی درستگی ضروری ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریوینیو ریکارڈ میں بے ربطگی ایک اور چیلنج تھا۔ جائزے کے مطابق ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی جانب سے فراہم کئے گئے نقشوں اور ریوینیو ریکارڈ کے درمیان بعض سنجیدہ بے ربطگیاں تھیں۔
مذکورہ وجوہات کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے ایک سال کے اندر پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت مکمل ہونے سے قبل تازہ حد بندی کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مردم شماری رپورٹ کی سرکاری اشاعت کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ بلدیاتی حکومت کے انتخابات کی حد بندی وقت پر ہوجائے۔ انتخابی فہرستوں کے حوالے سے ای سی پی کے جائزے میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس اور نادرا پر الزام لگایا گیا ہے۔ پی بی ایس پر ضروری مردم شماری کے اعداد و شمار دسمبر 2017 میں فراہم کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ توقع تھی کہ وہ جون میں یہ اعداد و شمار شیئر کرے گا، لہٰذا وقت کی رکاوٹوں کے باعث یہ عمل بہت زیادہ مشکل ہوگیا۔ نادرا نے شناختی کارڈز میں نامکمل پتے ظاہر کئے اور یہی انتخابی فہرستوں میں نظر آیا جس سے تصدیقی افسران کے لیے اس طرح کے ووٹرز کو ڈھونڈنا یا حتیٰ کہ مناسب اور متعلقہ سینسس بلاک کوڈ (سی بی سی) متعین کرنا مشکل ہوگیا۔ انتخابی فہرستوں میں صنفی فرق کے لیے خواتین کو شناختی کارڈز جاری نہ کرنا بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
مذکورہ بالا وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ایکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کی سفارش کی ہے تاکہ ای سی پی کی مشاورت سے سینسس بلاک کوڈ اسکیم میں ترمیم کے لیے پی بی ایس کو پابند بنایا جائے تاکہ عام عوام، امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو درست حد بندی اور انتخابی فہرستیں فراہم کی جائیں۔ اس کے علاوہ شناختی کارڈ کی رجسٹریشن کراتے وقت درخواست گزاروں کے درست پتے حاصل کرنے کیلئے حکومت سے نادرا کیلئے ہدایت مانگی گئی ہے۔جائزے میں بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے چیلنج کی بھی شناخت کی گئی جہاں اس بات کا انکشاف ہوا کہ 100 سے زائد حلقوں کے بیلٹ پیپرز کو وقت پر نہیں چھاپہ گیا جس سے کمیشن کیلئے ٹرانسپورٹیشن کے مسائل پیدا ہوئے۔ پرنٹنگ پریسوں کی اپ گریڈیشن کے علاوہ ای سی پی نے انتخابات کے انعقاد کیلئے وقت کی مدت میں 60 تا 90 دن کی توسیع کا کہا ہے۔ اس کے علاوہ ای سی پی نے مقامی اوپن مارکیٹ سے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے لیے اجازت مانگ لی جیسا کہ سرکاری پریسوں کی چھپائی کی گنجائش ناکافی ہے۔ ریٹرننگ افسران کے بارے میں جائزے کا کہنا ہے کہ جنہوں نے پہلی مرتبہ فرائض سر انجام دئیے انہوں نے انتخابی سرگرمیوں کا انتظام کرنے میں مخصوص مشکلات کا سامنا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button