الیکشن 2024 میں انٹرنیٹ بندش کا خدشہ کیوں ہے؟

پاکستان میں مذہبی اور قومی تہواروں پر سیکیورٹی تھریٹس کی وجہ سے انٹرنیٹ بندش معمول بن گئی ہے، اہم مواقعوں پر امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی جاتی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ سیکیورٹی تھریٹس کو مد نظر رکھتے ہوئے انٹرنیٹ کو بند کرنا مجبوری ہے۔ اور اب یہ قدم روایت کا حصہ بن چکا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ برس ملک میں پہلے 6 ماہ میں 3 بار انٹرنیٹ بندش کی گئی۔ اس کے علاوہ 17 دسمبر کو ایک بار پھر سے پاکستان تحریک انصاف کے ورچوئل جلسے کے دوران صارفین کو انٹرنیٹ بندش کا سامنا کرنا پڑا، سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس، یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک سمیت تمام سوشل میڈیا ایپس کی بندش دیکھنے میں آئی۔پاکستان میں متعدد بار انٹرنیٹ کی بندش کے بعد ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک کمپنی ‘سرف شارک’ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2023 کے پہلے 6 ماہ میں پاکستان، ایران اور بھارت کے بعد انٹرنیٹ کی بندش کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر رہا۔ انٹرنیٹ بندش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی آزادی پر نظر رکھنے والے ادارے ’بولو بھی‘ کے ڈائریکٹر اسامہ خلجی نے بتایا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ بندش پرانی روایت ہوچکی ہے۔ مذہبی تیوہاروں میں انٹرنیٹ بندش کو ہمیشہ لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ میں انٹرنیٹ بندش سیاسی سرگرمیوں کی بنا پر بھی ہوتی رہی ہے، جیسا کہ اگست 2022 میں لیاقت باغ میں عمران خان کی جلسے میں جو تقریر تھی وہ تمام لوگ جو آن لائن اس تقریر کے منتظر تھے نہیں سن پائے، کیونکہ اس وقت انٹرنیٹ تھروٹلنگ کی گئی۔ اور ’انٹرنیٹ تھروٹلنگ‘ میں انٹرنیٹ کی رفتار جان بوجھ کر کم کر دی جاتی ہے۔اسامہ خلجی نے مزید کہا کہ مئی 2010 میں بھی انٹرنیٹ بندش کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں کچھ دیر کے لیے فیس بُک کو بلاک کیا گیا تھا، ’مئی 2023 میں انٹرنیٹ کی بندش مسلسل 4 دن تک ہوئی، اس کے علاوہ گزشتہ ماہ بھی 2 بار انٹرنیٹ بندش کا سامنا کرنا پڑا، مذہبی (محرم، ربیع الاؤل وغیرہ) اور قومی (14 اگست، 23 مارچ) تیوہاروں پر انٹرنیٹ کی بندش بہت معمولی بات ہے لیکن انٹرنیٹ بندش سے سیکیورٹی کے حالات مزید خراب ہوتے ہیں، کیونکہ رابطہ منقطع ہو جاتا ہے، کوئی بیمار ہے تو ایمبولینس نہیں بلا سکتے، اور معلومات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے نہیں پتا ہوتا کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 2024 میں بھارت، پاکستان، موریطانیہ، افریقہ، مالی، مالوی، چاڈ، ایران اور بنگلہ دیش وہ ممالک ہیں جن میں انتخابات کے دوران انٹرنیٹ کی پابندیوں کی تاریخ ہے جس کی وجہ سے وہ آئندہ انتخابات میں بھی مزید رکاوٹوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔اس حوالے سے سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی اعزاز سید کہتے ہیں کہ ’میں نے کچھ پروگرامز میں یہ بات کہی تھی کہ ٹیبل پر یہ بات ہوئی ہے کہ انٹرنیٹ الیکشن والے دن یا ایک، 2 دن پہلے بند کیا جا سکتا ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق حکومت سنجیدگی سے اس پر غور کر رہی ہے۔ کیونکہ حکومت سمجھ رہی ہے فیک نیوز اور پروپیگنڈہ کے طور پر اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔انتخابات کے دوران انٹرنیٹ کی بندش کے جمہوریت پر اثرات کے حوالے سے اعزاز سید کہتے ہیں کہ جس طرح کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں اس کا جمہوریت پر کیا اثر ہوگا۔ باقی انٹرنیٹ بندش کی وجہ سے واقعی جمہوریت پر بہت برا اثر پڑے گا۔اسی بارے میں بات کرتے ہوئے اُسامہ خلجی نے بتایا کہ انتخابات میں اگر انٹرنیٹ بندش ہوتی ہے تو اس کا بہت برا اثر ہوگا، کیونکہ معلومات تک رسائی اور اظہار رائے جمہوری حق ہے اور انہی دونوں حقوق کو چھینا جا رہا ہے۔

Back to top button