امریکا سے معاہدے کیلئے مکمل طور پر پرعزم ہیں

طالبان کے ڈپٹی لیڈر سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ افغان باغی واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کےلیے ‘مکمل طور پر پرعزم’ ہیں۔
طالبان کے نائب سربراہ سراج الدین حقانی نے امریکی اخبار کےلیے ایک مضمون لکھا ہے۔ اس مضمون کا شہ سرخی ‘طالبان کیا چاہتے ہیں’ ہے جو امریکا کے ساتھ مذاکرات کے مہینوں میں گروپ کی جانب سے سب سے اعلیٰ سطح کے بیان کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ یہ اظہار خیال ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ مانا جارہا ہے کہ اس معاہدے پر دستخط پر بس کچھ دن کی دوری پر ہیں جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ امریکا اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ فوجیوں کے انخلا کا آغاز کرے گا۔
اس کے علاوہ یہ بھی مانا جارہا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سراج الدین حقانی جو حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سے بالاتر سمجھے جاتے ہیں، انہوں نے انگریزی میں اس طرح کا طویل بیان دیا۔
خیال رہے کہ حقانی نیٹ ورک امریکا کی جانب سے نامزد کردہ ایک خطرناک دہشت گرد گروپ ہے جو افغانستان میں افغان اور امریکی سربراہی میں نیٹو فورسز سے لڑ رہا ہے۔
اس سے قبل وہ زیادہ تر آڈیو پیغامات جو عموماً پشتو میں ہوتے تھے اس کے ذریعے بات چیت کرتے تھے اور طالبان کی ویب سائٹ پر ان کا سب سے حالیہ بیان جون 2017 کی تاریخ کا موجود ہے۔
تاہم مضمون میں سراج الدین حقانی نے مذاکرات سے متعلق طالبان کے بہت سارے نکات دہرائے جن میں یہ بھی شامل ہے کہ خواتین کو اسلام میں دیے گئے حقوق کس طرح دیے جائیں گے، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے مبصرین نے گروپ کے عقیدے کی جابرانہ تشریح کی ہے۔
مسلسل خودکش حملوں کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنانے کےلیے مشہور اس گروپ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ ‘قتل اور معذوری کو ختم ہونا چاہیے’۔
یاد رہے کہ طالبان اور امریکا کے درمیان 2018 سے براہ راست مذاکرات جاری ہیں جس کا مقصد ایک معاہدہ کرنا ہے جس میں واشنگٹن وہاں سے اپنی فوجیوں کا انخلا شروع کرے گا جبکہ بدلے میں اسے عسکریت پسندوں کی جانب سے سکیورٹی کی ضمانت دی جائے گی اور وعدہ کیا جائے گا کہ وہ کابل میں حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کا آغاز کریں گے۔
سراج الدین حقانی نے لکھا کہ اگرچہ معاہدے کی تاریخ ابھی منظرعام پر نہیں لائی گئی ہیں تاہم یہ معاہدہ 29 فروری سے پہلے سامنے آسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم امریکا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں اور ہم اس کی ہر ایک شق پر من و عن عمل کرنے کےلیے مکمل پرعزم ہیں’۔
تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ گروپ کسی بھی طریقے سے ممکنہ طور پر طالبان کے اقتدار میں آنے سے متعلق ‘خدشات اور سوالات سے باخبر’ تھا۔
خیال رہے کہ بہت سے افغانوں نے خود کو مذاکرات سے ایک طرف کرنے پر غصے کا اظہار کیا اور وہ عسکریت پسندوں کے زیر اثر زندگی کی واپسی پر نالاں نظر آرہے ہیں تاہم بہت سے دیگر افراد صرف سیکیورٹی اور تشدد کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
سراج الدین حقانی نے لکھا کہ طالبان ایک ایسے نئے اور جامع سیاسی نظام کےلیے تیار ہین جس میں ہر افغان کی آواز نظر آئے اور جہاں کوئی افغان خود کو علیحدہ محسوس نہ کرے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان سے متعلق خدشات کو غیرملکی عسکریت پسند گروپس کی جانب سے استعمال کیا گیا تاکہ ‘علاقائی اور عالمی خطرات’ کو ‘بڑھایا’ جائے۔
تاہم معاہدے میں شامل ہونے والے وعدوں میں ایک وعدہ یہ بھی شامل ہونے کا امکان ہے کہ طالبان افغان سرزمین پر غیرملکی گروپس پر پابندی عائد کریں۔
یاد رہے کہ القاعدہ کی جانب سے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکا نے افغانستان پر دھاوا بول دیا تھا جب کہ اس وقت طالبان مہمان تھے۔
سراج الدین حقانی کے والد جلال الدین عربی بولتے تھے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے قریبی تعلقات استوار کیے تھے۔
اس کے علاوہ اس نیٹ ورک پر اعلیٰ افغان حکام کے قتل اور غیر ملکی شہریوں کو تاوان کےلیے اغوا کرنے کا الزام بھی ہے، جس میں امریکی سپاہی بوئے برگدل بھی شامل ہیں جنہیں 2014 میں رہا کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button