امریکا میں یہود یوں پر حملوں میں ریکارڈ اضافہ

ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس امریکا میں یہود مخالف حملوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا جن میں جسمانی حملے شامل ہیں۔ اینٹی ڈیفی میشن لیگ (اے ڈی ایل) نے اپنی سالانہ رپوٹ میں بتایا کہ 2019 میں امریکا میں یہودیوں کے خلاف 2 ہزار ایک سو 7 حملے ریکارڈ کیے گئے جو 1979 میں اس حوالے سے ریکارڈ رکھے جانے کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔
خیال رہے کہ مذکورہ تنظیم اے ڈی ایل یہودیوں کے تحفظ کےلیے کام کرتی ہے۔
اے ڈی ایل کے چیف ایگزیکٹو افسر(سی ای او) جوناتھن گرین بلاٹ نے ایک بیان میں یہ وہ سال تھا جب غیر معمولی یہود مخالف سرگرمی دیکھی گئی، ایسے وقت میں ملک میں اکثر یہودیوں کو براہ راست نفرت انگیز حملوں کا سامان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملوں کے باعث ہماری برداریوں میں خوف و ہراس کی فضا میں اضافہ ہوا۔ آڈٹ کے مطابق یہود مخالف حملوں میں 12 فیصد اضافہ ہوا جب ایک ہزار 8 سو 79 حملے ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 2017 کے مقابلے میں بدتر تھا جب ایک ہزار 9 سو86 یہود مخالف حملے ریکارڈ کیے گئے تھے۔ یہودیوں کے خلاف ہائی پروفائل حملوں میں گزشتہ برس اپریل میں یہودی عبادت گاہ میں حملہ، اسی برس دسمبر میں نیوجرسی میں گروسری اسٹور میں فائرنگ کی گئی اور اسی ماہ نیویارک میں یہودی ربی کے گھر پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا۔ اے ڈی ایل کی رپورٹ کے مطابق 2019 میں جسمانی حملوں میں 56 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اس میں مزید کہا گیا کہ یہود مخالف تشدد کے نتیجے میں 5 لوگ ہلاک ہوئے اور دیگر 91 افراد پر جسمانی حملے کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق نصف سے زائد حملے نیویارک شہر میں کیے گئے جہاں اسرائیل کے باہر یہودیوں کی سب سے بڑی آبادی مقیم ہے۔ اس کے مطابق سال 2019 میں الاسکا اور ہوائی ریاستوں کے علاوہ تمام امریکی ریاستوں میں حملے رپورٹ ہوئے تھے۔
ان میں حملوں کی سب سے زیادہ تعداد نیویارک، نیو جرسی، کیلیفورنیا، میساچوسٹس اور پنسلوانیا میں ریکارڈ کیے گئے۔ اے ڈی ایل نے کہا کہ ان میں سے 270 حملے انتہاپسند نظریے سے متاثر مشہور انتہاپسند گروہوں یا افراد کی جانب سے کیے گئے۔
