امریکا ’وائرس سراغ‘ پر سیاست نہ کرے

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے گزشتہ روز میڈیا بریفنگ میں امریکا پر زور دیا کہ وہ کورونا وائرس کے ماخذ کا سراغ لگانے سے متعلق سیاست بند کرے اور چین پر الزام تراشیوں سے گریز کرے۔
واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وبائی صورتحال کے حوالے سے چین کے ردعمل میں شفافیت کا فقدان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین نے وائرس سراغ کے معاملے پر ہمیشہ آزاد اور شفاف رویہ برقرار رکھا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کو تحقیق کےلیے دو مرتبہ چین مدعو کیا گیا ہے۔
رواں سال مارچ میں ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کی جاری کردہ ’’ٹریس ایبلٹی ریسرچ رپورٹ‘‘ مستند اور سائنسی ہے۔
وانگ وین بین مزید کہا کہ وائرس کے سراغ سے متعلق امریکی الزامات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا جھوٹ بولا گیا تھا۔
یاد رہے کٰہ حال ہی میں متعدد امریکی سیاستدانوں نے کورونا وائرس کے ماخذ کے بہانے چین پر دوبارہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں تک کہ اپنے جاسوسی اداے کو اس کی تحقیقات کے احکامات دیئے ہیں۔ پوری دنیا اس عمل کی مذمت کررہی ہے۔چینی ذرائع کے مطابق، کوئی بھی عام شخص یہ جانتا ہے کہ وائرس کے سراغ لگانے میں صرف سائنس دانوں سے ہی مدد مانگی جاسکتی ہے، کسی خفیہ ادارے سے نہیں۔ امریکی سیاست دانوں نے وبا کے خلاف غیر مؤثر اقدامات کی ذمہ داری چین پر ڈالنے کےلیے جو منصوبہ بنایا ہے وہ خالصتاً ایک سیاسی تماشا ہے جو سائنس کے مروجہ اصولوں کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔

Back to top button