امریکا کا اصل ہدف ایٹمی و میزائل پروگرام ہے یا ایرانی حکومت؟

 

 

 

امریکا اور اسرائیل نے ایران میں حکومتی تبدیلی کے خواب کی تعبیر کے لیے پورے خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ سفارت کاری کے پردوں کے پیچھے ہونے والی سرگوشیاں اب میزائلوں کی گھن گرج میں بدلتی دکھائی دے رہی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایران۔امریکا مذاکرات کے دور، امن بورڈز کا قیام اور سفارتی بیانات محض سراب تھے، جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب کا حقیقی ہدف تہران میں “رجیم چینج” تھا؟ انہی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی نصرت جاوید اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں لکھتے ہیں کہ حالیہ جارحانہ حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اب امریکا اور ایران کے مابین معاملات کا مذاکرات کے ذریعے حل ہونا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ ان کے بقول جب کسی ریاست کی اعلیٰ ترین قیادت کو نشانہ بنایا جائے تو سفارت کاری کی گنجائش عملاً ختم ہو جاتی ہے اور تصادم ایک ناگزیر راستہ بن جاتا ہے۔

 

نصرت جاوید کے مطابق اگر امریکا واقعی مستقل امن کا خواہاں ہوتا تو وہ مرحلہ وار مذاکرات کی حکمت عملی اپناتا۔حالانکہ حالیہ مذاکراتی ادوار میں ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام پر غیر معمولی لچک دکھائی، افزودگی کی سطح کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور یہ مؤقف دہرایا کہ ایٹمی ہتھیار اس کی پالیسی کا حصہ نہیں۔حتیٰ کہ مذہبی فتوے کا حوالہ دے کر ایٹمی ہتھیاروں سے لاتعلقی کا یقین دلایا۔ مگر اس لچک کے باوجود اسرائیل کی تشویش کم نہ ہوئی، کیونکہ اسرائیل کا اصل خوف ایران کے میزائل پروگرام سے جڑا ہوا ہے۔ اسرائیل کی نگاہیں صرف افزودگی پر نہیں، بلکہ ایران کے میزائل پروگرام پر جمی رہیں۔ اسی وجہ سے  نیتن یاہو نے اسرائیل کی بقاء کے بارے میں دہائی مچاتے ہوئے واضح انداز میں یہ اعلان بھی کردیا کہ اگر امریکا ایران کے میزائل پروگرام کو محدود سے محدود تر کرنے میں ناکام رہا تو وہ ایران کی تباہی کے لیے ازخود جارحانہ عمل اٹھانے کو مجبور ہوجائے گا۔نصرت جاوید کے بقول اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو طویل عرصے سے ایران کے میزائلوں کو اپنے ملکی بقا کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔

 

نصرت جاوید کا مزید کہنا ہے کہ ٹرمپ ایران سے صلح کا واقعتا خواہش مند ہوتا تو وہ ایٹمی پروگرام پر ایران سے زیادہ سے زیادہ رعایتیں لینے کے بعد مذاکرات کو مرحلہ وار جاری رکھتے ہوئے میزائل پروگرام پر بھی کسی سمجھوتے کو پہنچ سکتا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے لیے مرحلہ وار رویہ اپنانے کے بجائے امریکی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے میزائل پروگرام کو نہ صرف یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات بلکہ یورپ اور حتیٰ کہ امریکا کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دے دیا اوریہ دعویٰ بھی کردیا کہ ایران جلد ہی ایسے میزائل بھی تیار کرلے گا جو امریکا تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ نصرت جاوید کے بقول یہ بیانیہ محض دفاعی تشویش نہیں بلکہ ایک بڑی حکمت عملی کا واضح اعلان تھا تاکہ ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کرتے ہوئے اس کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو جائز ٹھہرایا جا سکے۔

 

نصرت جاوید یاد دلاتے ہیں کہ 2003ء میں عراق پر حملے سے قبل بھی اسی نوعیت کا بیانیہ تشکیل دیا گیا تھا۔ عراق پر حملوں کی ابتدا ہتھیاروں کے شبہے سے ہوئی جبکہ اس جنگ کا انجام ایک مکمل رجیم چینج پر ہوا۔ مگر اس کے بعد جو عدم استحکام پیدا ہوا، اس نے پورے خطے کو دہائیوں تک اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ نصرت جاوید کا مزید کہنا ہے کہ  ایران رقبے، آبادی اور جغرافیائی پیچیدگی کے اعتبار سے عراق سے کہیں بڑا اور مضبوط ملک ہے۔ وہاں کسی بھی ممکنہ رجیم چینج کے لیے صرف فضائی حملے کافی نہیں ہوں گے؛ زمینی کارروائی ناگزیر ہوگی، جس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔

 

نصرت جاوید کے مطابق امریکا کی حالیہ خارجہ حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات بھی اہم ہیں، جن میں عالمی سیاست کو طاقتور ممالک کے حلقۂ اثر میں تقسیم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ یہ تصور ایک نئے عالمی نظم کی نشاندہی کرتا ہے جہاں خودمختار مگر مزاحم ریاستوں کے لیے گنجائش کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ نصرت جاوید خبردار کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی وسیع تر عسکری مہم کا ردعمل محدود نہیں رہے گا بلکہ اس تصادم میں خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈے، عرب و عجم کی تاریخی تقسیم اور مسلکی حساسیتیں ایک بڑے علاقائی تصادم کو جنم دے سکتی ہیں۔ اگر ایران اسے اپنی بقا کی جنگ سمجھ کر بھرپور عسکری جواب دیتا ہے تو یہ تنازع تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

خامنہ ای کے قتل کے منصوبے کی خفیہ تفصیلات سامنے آ گئیں

نصرت جاوید کے بقول ایران، امریکہ اور اسرائیل تنازع اب ایٹمی پروگرام تک محدود نہیں رہا بلکہ اس جاری جنگ کا اصل  ہدف ایرانی ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور بالآخر اسے تبدیل کرنا دکھائی دیتا ہے۔ نصرت جاوید کا مزید کہنا ہے کہ ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کا خاتمہ ہی امریکا اور اسرائیل کی واحد ترجیح نہیں رہی۔ ’رجیم چینج‘ بھی ان کے اہداف میں سرِفہرست ہے۔ اس ارادے کے اظہار کے بعد ایرانی قیادت مجبور ہے کہ اپنی بقاء یقینی بنانے کے لیے اپنے پاس موجود ہر نوعیت کے میزائل استعمال کرے اور اس ضمن میں وہ عمل پیرا ہوا نظر آرہاہے۔نصرت جاوید کے بقول امریکہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے نظام تو بدلے جا سکتے ہیں لیکن طاقت سے کسی خطے میں امن و استحکام لانا ممکن نہیں ہوتا۔ نصرت جاوید کے مطابق ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی شطرنج کا میدان بن چکا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار مہرہ ایران ہے۔ایک ایسا ملک جو نہ جغرافیائی اعتبار سے چھوٹا ہے اور نہ سیاسی طور پر تنہا۔ اگراس بار بھی امریکہ کا ایجنڈا ایران میں “رجیم چینج” ہے تو اس کی قیمت صرف تہران نہیں بلکہ پورا خطہ ادا کرے گا۔

 

Back to top button