امریکہ طالبان کے افغانستان پر تیزی سے کنٹرول پر حیران

طالبان کی جانب سے افغانستان پر تیزی سے کنٹرول پر امریکہ حیران رہ گیا ہے ، امریکی صدر سمیت حکومت کے اعلیٰ عہدیدار اپنی حکمت عملی کے متعلق سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔
طالبان کے افغانستان پر انتہائی برق رفتاری سے کنٹرول نے امریکی صدر جوبائیڈن اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام کو حیران کردیا، امریکی صدر جوبائیڈن کے لیے بطور کمانڈر ان چیف افغان حکومت کا خاتمہ ایک اہم امتحان تھا جس پر ریپبلکن کی جانب سے جوبائیڈن پر شدید تنقید کی گئی ہے۔
امریکی صدر جوبائیڈن بطور ماہر بین الاقوامی تعلقات یہ بات باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ افغانستان میں طالبان کا اثرورسوخ کم ہورہا ہے، اس کے علاوہ اس بات پر بھی بضد رہے کہ تمام امریکی 20 سالہ جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، امریکا کے لیے یہ ایک ایسا تنازع رہا جس میں پیسہ اور فوجی طاقت کا استعمال صرف اس لیے کیا گیا تاکہ افغانستان کے لوگوں پر مغربی طرز کی جمہوریت تھوپی جا سکے تاہم افغان معاشرہ اس کو قبول کرنے لیے کبھی تیار نہ ہوا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلکن کا کہنا ہے کہ افغان فورسز ملک کے دفاع میں ناکام رہے جب کہ افغان صورتحال انتہائی تیزی سے بدلی جس کا ہم کو اندازہ بھی نہیں تھا۔پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حامد کرزئی ائیرپورٹ کی سیکیورٹی کے لیے حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاکہ امریکی اور اتحادی شہریوں کو بحفاظت افغانستان نے ناکالا جاسکے۔
