امریکہ: مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد عین وقت پر معطل

امریکہ کی ایک عدالت نے وفاق کی تحویل میں موجود ایک مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد پھر روک دیا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے یہ حکم پیر کو ایسے وقت دیا جب مجرم کی سزا پر عمل درآمد میں محض چند گھنٹے باقی تھے۔
اکتالیس سالہ ڈینئل لوئس لی ریاست انڈیانا کی ایک جیل میں قید ہے جسے پیر کی شام چار بجے زہریلا انجیکشن دے کر موت کی نیند سلایا جانا تھا۔ تاہم عدالتی فیصلے کے بعد مجرم کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔یہ دوسرا موقع ہے کہ ڈینئل کی سزائے موت پر عدالتی فیصلے کی وجہ سے عمل درآمد روکا گیا ہے۔
اس سے قبل ایک ایپلیٹ کورٹ نے اتوار کو ہی مجرم ڈینئل کی سزائے موت پر ایک ذیلی عدالت کا حکمِ امتناع کالعدم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کی بحالی کا حکم دیا تھا۔امریکہ میں ڈینئل سمیت وفاق کی تحویل میں موجود تین مجرموں کو رواں ہفتے سزائے موت دی جانا تھی جس پر اب واشنگٹن ڈی سی کی عدالت کے فیصلے کے بعد عمل درآمد نہیں ہوسکے گا۔امریکہ میں وفاق کی تحویل میں موجود قیدیوں کو سزائے موت دینے کا سلسلہ 2003 سے معطل ہے۔ لیکن رواں برس اپریل میں ایک وفاقی عدالت نے زہر کے انجیکشن کے ذریعے امریکی وفاق کی تحویل میں موجود مجرمان کی سزائے موت پر عمل درآمد کی اجازت دے دی تھی۔
پیر کو واشنگٹن ڈی سی کی عدالت نے ڈینئل کی موت کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ سزائے موت پر عمل درآمد کی راہ میں اب بھی کئی قانونی مسائل موجود ہیں۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ قیدی نے شواہد پیش کیے ہیں کہ موت کی سزا پر عمل درآمد کے لیے ‘پینٹوباربیٹل’ نامی دوا کا استعمال کیا جائے گا جس کا استعمال غیر قانونی ہے اور یہ شدید ‘درد’ کا باعث بنتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ میں مجرموں کو موت کی سزا کے لیے پینٹو باربیٹل ڈرگ دی جاتی ہے جو تیزی سے انسان کے اعصاب کو مفلوج کر کے موت کی وجہ بنتی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے سپریم کورٹ سے معاملے میں مداخلت کی درخواست کی ہے جب کہ محکمۂ انصاف نے ڈسٹرکٹ کولمبیا کی ایپلیٹ کورٹ میں فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے۔ ڈینئل کے اہلِ خانہ نے بھی سزائے موت پر عمل درآمد کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
ڈینئل نے 1996 میں اسلحے کے ایک تاجر کو ان کی اہلیہ اور بیٹی سمیت قتل کردیا تھا۔ مجرم کے وکیل شان نیلن نے کہا ہے کہ سزائے موت سے متعلق کئی قانونی سوالات کے باوجود حکومت قیدیوں کی موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہے۔
سزائے موت کے مخالفین پیر کو ریاست انڈیانا کی ٹیری ہاٹ جیل کے باہر جمع ہوئے جہاں ڈینئل قید ہے۔ مظاہرین نے ڈینئل کی سزائے موت روکنے کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حکومت سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے جلد بازی اور غیر ضروری طور پر سزائے موت پر عمل درآمد کرانا چاہتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال کے بعد قومی سطح پر فوجداری قانون اور اس میں اصلاحات کا معاملہ 2020 کے صدارتی انتخابی مہم میں زیرِ بحث آ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button