امریکہ نکل جانے والی گلالئی اسماعیل کے والدین ایجنسیوں کے نشانے پر

ڈیڑھ برس پہلے پاکستان سے نکل کر امریکہ پہنچ جانے والی پشتون تحفظ موومنٹ کی حامی سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کے والد پروفیسر محمد اسماعیل خان کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور اب ان کو ایک مرتبہ پھر انسداد دہشت گردی کی عدالت سے عبوری ضمانت منسوخ ہونے پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تاہم عدالت نے اتنی مہربانی ضرور کی کہ گلالئی اسماعیل کی والدہ کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی۔ پروفیسر محمد اسماعیل اور ان کی اہلیہ کے وکیل فضل الہی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ 2 فروری کو پشاور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت مکمل ہونے کے بعد اسماعیل خان کی عبوری ضمانت منسوح کر دی گئی جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ فضل الٰہی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انھوں نے یکم فروری کو عدالت میں اپنی بحث مکمل کر لی تھی جبکہ آج سرکاری وکیل نے اپنے دلائل مکمل کیے ہیں جس کے فورا بعد پروفیسر اسماعیل کو گرفتار کر لیا گیا حالانکہ اس مقدمے میں اس سے پہلے عدالت نے دونوں میاں بیوی کو بری کر دیا گیا تھا اور سرکاری وکیل سے کہا تھا کہ اگر اس بارے میں سرکار کو مزید شواہد ملتے ہیں تو دوبارہ عدالت سے رجوع کر لے۔
چنانچہ چند ماہ بعد سرکار کی جانب سے پروفیسر اسمعیل کے خلاف مزید شواہد اور دیگر واقعات میں ان کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد دوبارہ عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔ فضل الٰہی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اب پولیس پروفیسر اسماعیل کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرے گی اور ریمانڈ کی استدعا کرے گی جبکہ ان کی کوشش ہوگی کو پروفیسر اسماعیل کو جیل بھیج دیا جائے جہاں وہ ان کی ضمانت کے لیے پھر سے عدالت سے رجوع کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ پروفیسر اسماعیل اور ان کی اہلیہ کے خلاف درج مقدمات کے خلاف انھوں نے پشاور ہائی کورٹ میں بھی پیٹیشن دائر کر رکھی ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر 2019 میں گلالئی کے بیرون ملک چلے جانے کے بعد سے ان کے والدین ایجنسیوں کے نشانے پر ہیں۔
گزشتہ سال اکتوبر میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گلالئی اسماعیل کے والدین پر فرد جرم عائد کی تھی۔ اس مقدمے میں سال 2013 اور سال 2015 میں تشدد کے واقعات میں معاونت کی دفعات درج کی گئی تھیں جن میں انسداد دہشت گردی کے قانون 11 این، جو دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے بارے میں ہے، جبکہ 120 بی اور 124، جو ریاست کے خلاف بغاوت کے متعلق ہیں، لگائی گئی ہیں۔ وکلا کے مطابق ان پر پشاور میں 2013 میں چرچ پر حملے اور 2015 میں حیات آباد میں مسجد پر حملے میں حملہ آوروں کی معاونت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک کا واسطہ نہیں۔ فضل الٰہی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ گزشتہ دنوں پروفیسر اسماعیل خان اور ان کی اہلیہ میں کورونا وائرس مثبت آیا تھا جس وجہ سے انھیں عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا لیکن اب جیسے ہی ان کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا انھیں عدالت میں طلب کیا گیا۔
دوسری طرف گلالئی اسماعیل نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’آج میرے والد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آج والدین کی عبوری ضمانت کنفرم ہونی تھی، والدہ کی ضمانت کنفرم ہو گئی ہے۔‘ انھوں نے کہا ہے کہ والدین کے خلاف دہشت گردی کے دفعات کے تحت درج آیف آئی آر پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ گلالئی کا کہنا تھا کہ یہ سب ایک سنگین مذاق ہے اور ان کے والدین پر لگائے گئے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔
پروفیسر اسماعیل اور ان کی اہلیہ کے وکیل شہاب خٹک ایڈووکیٹ نے بتایا کہ گلالئی اسماعیل کے والدین نے فرد جرم سے انکار کیا تھا اور اب یہ مقدمہ آگے چلے گا۔ شہاب خٹک ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ ‘یہ ایک پرانا مقدمہ ہے جسے عدالت نے ایک مرتبہ خارج کر دیا تھا اور انھیں بری کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اب ایک مرتبہ پھر سی ٹی ڈی نے مزید الزامات کے تحت چالان پیش کیا ہے۔ پشاور میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق یہ مقدمہ جولائی سال 2018 میں درج کیا گیا تھا اور اس میں کہا گیا تھا کہ اس بارے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے اسلام آباد کی جانب سے مراسلہ موصول ہوا تھا۔ اگرچہ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کے قانون کی دفعات درج ہیں لیکن وکلا کے مطابق بعد میں اس میں دیگر دفعات بھی شامل کر دی گئیں۔ بنیادی طور پر یہ مقدمہ ٹیرر فنانسگ یا دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مالی معاونت کا تھا۔
اس ایف آئی آر میں الزام تھا کہ گلالئی اسماعیل ’اویئر گرلز‘ اور ’سٹینڈ فار پیس‘ نامی غیر سرکاری تنظیموں کی آڑ میں ملک دشمن عناصر اور دیگر تنظیوں کے لیے کام کرتی ہیں اور ان کے بینک اکاؤنٹس میں رقوم بیرون ممالک سے آتی ہیں اور وہ فلاحی کاموں کی بجائے ملک دشمن عناصر اور دیگر تنظیوں کو فراہم کر دی جاتی ہیں۔ یاد ریے کہ گلالئی ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔ گلالئی اسماعیل نے 16 سال کی عمر میں ‘اویئر گرلز’ نامی غیر سرکاری تنظیم کی بنیاد رکھی تھی تاکہ نوجوان لڑکیوں کو اُن کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا سکے۔ 2013 میں انھوں نے ایک سو خواتین پر مشتمل ایک ٹیم بھی تشکیل دی جس نے گھریلو تشدد اور کم عمری کی شادیوں جیسے معاملات پر کام کیا تھا۔ وہ اپنے کام کے لیے عالمی سطح پر کئی ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ 2016 میں انھیں فرانس میں ژاک شیراک فاؤنڈیشن نے کانفلکٹ پریونشن پرائز سے نوازا تھا۔ اس سے قبل انھیں 2015 میں دولتِ مشترکہ کے یوتھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا جبکہ 2014 میں انھیں انٹرنیشنل ہیومنسٹ ایوارڈ بھی ملا تھا۔ تاہم وہ تو بیرون ملک چلی گئیں لیکن ان کے والدین ایجنسیوں کے عتاب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
