امریکہ نے امن معاہدے کے عوض TTP رہنما مارنا شروع کردیئے

پاکستان کی جانب سے امریکہ اورافغان طالبان کے مابین امن معاہدہ میں اہم ترین کردار ادا کرنے کے بعد واشنگٹن نے اسلام آباد کا برسوں پرانا مطالبہ مانتے ہوئے افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی طالبان کو چن چن کر مارنا شروع کر دیا ہے.
اس بات کی تصدیق حال ہی میں افغانستان میں اوپر تلے ہونے والی پاکستانی طالبان کے عام رہنماؤں کی ہلاکتوں سے ہوتی ہے۔ اب کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے بھی باقاعدہ افغانستان میں حالیہ ہفتوں میں یکے بعد دیگرے اپنے کئی اہم رہنماؤں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ انہیں امریکی فوج پاکستان کو خوش کرنے کےلیے نشانہ بنا رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں ہزاروں افراد کو سینکڑوں دہشت گرد حملوں میں مارنے کی ذمہ دار تحریک طالبان پاکستان کے تین مرکزی رہنماوں کی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ان رہنماؤں میں شیخ خالد حقانی، قاری سیف اللہ یونس اور شہریار محسود شامل ہیں۔ ٹی ٹی پی حلقہ محسود کی جانب سے شائع کردہ ایک تازہ ترین کتاب میں افغانستان کے صوبے پکتیکا میں تنظیم کے درجنوں رہنماؤں کی ہلاکتوں کا اعتراف کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے ایما پر امریکی سکیورٹی اداروں کی جانب سے ٹی ٹی پی کے رہنماؤں اور ہمددروں کو افغان صوبے میں ڈرون اور زمینی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن میں ان کے اہل خانہ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں پر حملوں میں تیزی اس وقت دیکھنے میں آئی جب افغان طالبان اور امریکہ کے مابین امن معاہدے کے حوالے سے مذاکرات شروع ہوئے جس میں پاکستان کی حمایت بھی شامل رہی۔ کتاب میں دیگر تنظیمی امور کے ساتھ ساتھ تفصیل میں افغانستان کے صوبے پکتیکا میں ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کی ہلاکتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوران ہجرت افغانستان میں محسود مجاہدین پر امریکی چھاپوں کی روداد‘ کے عنوان سے مضمون میں لکھا گیا ہے کہ جون 2014 میں آپریشن ضرب عضب شروع ہوتے ہی پاکستان طالبان کے دہشت گرد اپنے خاندانوں سمیت افغانستان کے صوبے پکتیکا میں آباد ہوئے جہاں وہ زیادہ تر ضلع برمل میں مقیم تھے۔ کتاب میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ ’تنظیم نے افغانستان میں اپنی سرگرمیاں مکمل ترک کی ہوئی ہیں مگر وہاں سے سرحد پار پاکستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں مگر اس کے باوجود پاکستانی فوج کو خوش کرنے کےلیے امریکی اور افغان سکیورٹی ادارے تنظیم کے رہنماؤں کو اپنا ہدف بنا رہی ہیں۔‘
خیال رہے کہ سرحد پار سے ٹی ٹی پی کے حملوں کے بعد پاکستان نے متعدد بار افغان حکومت سے سرحدی صوبوں میں ٹی ٹی پی کے قائم ٹھکانوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ سال اگست میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے باضابطہ طور پر افغان حکومت کو سرحد کے ساتھ ساتھ واقع ٹی ٹی پی کے کیمپوں کے مقامات سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ افغان حکومت ان علاقوں میں اپنی افواج تعینات کریں۔ تحریک طالبان پاکستان حلقہ محسود کے اہم رہنما مولوی خاطر، جنہوں نے سید خان سجنا کی ہلاکت کے بعد حلقہ محسود کی امارت کاعہدہ لینے سے انکار کیا تھا، دسمبر 2019 میں قندوز میں ایک حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والے ٹی ٹی پی حلقہ محسود کے دیگر اہم رہنماؤں میں حلقہ محسود کے کمانڈر انور شاہ، ملک شائی عرف مکین، حلقہ محسود کے رابطہ کار مولانا ضیا اللہ، حلقہ جاٹرائے کے کمانڈر عبدالرحمٰن اور عالم دین مولوی عالم شیر شامل تھے۔
کتاب میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اپریل 2019 میں پکتیکا کے علاقے لموستائی میں ٹی ٹی پی کے ایک فدائین کیمپ پر بھی حملہ ہوا جس سے استشہادی فورس کے متعدد اراکین ہلاک اور زخمی ہوئے۔ کتاب میں 2018 میں صوبہ کنڑ میں ڈرون حملوں میں ٹی ٹی پی سربراہ مولانا فضل اللہ اور مالاکنڈ ڈویژن کے امیر فاتح خان کی ہلاکتوں کو تنظیم کے لیے بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
پشاور میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ 2014 میں آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد شمالی وزیرستان میں طالبان گروپوں کے ٹھکانے ختم ہوئے تو جنوبی اور شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طالبان رہنما پکتیکا جبکہ سوات، باجوڑ اور دیگر قریبی علاقوں کے ٹی ٹی پی کے شدت پسند کنڑ منتقل ہوگئے تھے۔ ان کاکہنا ہے کہ افغانستان کے علاقوں میں امریکیوں کے ہاتھوں ٹی ٹی پی رہنماؤں کی ہلاکتوں کے بعد پاکستان میں بھی سرحد دہشت گردی کی واقعات میں نمایاں کمی رونما ہوئی ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اہم رہنماؤں کی حالیہ ہلاکتوں سے ٹی ٹی پی تیزی سے کمزور ہورہی ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی جانب سے بھی امریکی حکومت پردباؤ ڈالا جارہاہے کہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ٹی ٹی پی کے ٹھکانے ختم کریں اور یہی وجہ یہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے رہنماؤں پر حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان نے بھی افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ٹی ٹی پی اورالقاعدہ کے رہنماؤں کو افغانستان سے پاکستان میں حملے نہ کرنے کا پیغام دیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button