امریکہ کا پاکستان کے ابابیل اور شاہین میزائل پروگرام پر بڑا وار

امریکہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر ایک بڑا وار کرتے ہوئے ایک چینی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور کئی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جو پاکستان کے میزائل پروگرام کے لیے آلات اور ٹیکنالوجی فراہم کر رہی تھیں۔

امریکی محمکہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ یہ پابندیاں آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ اور ایکسپورٹ کنٹرول ریفارم ایکٹ کے تحت چین کے تین اداروں، ایک چینی شخصیت اور ایک پاکستانی ادارے پر بیلسٹک میزائل کے پھیلاؤ کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے عائد کی جا رہی ہیں۔امریکہ کا الزام ہے کہ بیجنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آٹومیشن فارمشین بلڈنگ انڈسٹری بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ان کی ترسیل میں ملوث ہے اور اس نے شاہین تھری اور ابابیل میزائل سسٹمز اور ممکنہ طور پر اس سے بھی بڑے سسٹمز کے لیے راکٹ موٹرز کی جانچ کے لیے آلات کی خریداری کے سلسلے میں پاکستانی ادارے نیشنل ڈویلپمنٹ کامپلیکس کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ امریکہ نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ یہ ادارہ بڑے سسٹمز کے لیے آلات خریدنے میں بھی ملوث ہے۔ جن دیگر کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ان میں چار چینی کمپنیوں کے علاوہ ایک پاکستانی کمپنی انوویٹیو ایکوئپمنٹ بھی شامل ہے۔ امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے چینی شخص کا نام لوو ڈونگمی ہے۔

یاد رہے اس سے قبل امریکہ نے رواں برس اپریل میں چین کی تین اور بیلاروس کی ایک کمپنی جب کہ اکتوبر 2023 میں پاکستان کو بیلسٹک میزائل پروگرام کے پرزہ جات اور سامان فراہم کرنے کے الزام میں چین کی تین مذید کمپنیوں پر اسی طرح کی پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کے علاوہ دسمبر 2021 میں امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کے الزام میں 13 پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کا وہ میزائل پروگرام جو حالیہ امریکی پابندیوں کا نشانہ بن رہا ہے، وہ کیا ہے؟ دراصل پاکستان کے میزائل پروگرام میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بلیسٹک میزائل شاہین تھری اور ابابیل شامل ہیں جو ملٹیپل ری انٹر وہیکل یا ایم آر وی میزائل کہلاتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کے میزائل ہتھیاروں میں یہ سب سے بہترین صلاحتیوں والے میزائل ہیں۔ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان نے 2017 میں ابابیل میزائل کا پہلا تجربہ کرنے کے بعد گذشتہ برس 18 اکتوبر 2023 کو بھی زمین سے زمین پر درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے ابابیل میزائل کی ایک نئی قسم کا تجربہ کیا تھا جس کے بعد رواں برس 23 مارچ کو پاکستان ڈے پریڈ کے موقع پر پہلی مرتبہ اس کی نمائش کی گئی۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی ایشیا میں پہلا ایسا میزائل ہے جو 2200 کلومیٹر کے فاصلے تک متعدد وار ہیڈز یا جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مختلف اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اس پروگرام پر بڑا حملہ کر دیا ہے۔دفاعی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ابابیل میزائل تین یا اس سے زائد نیوکلیئر وار ہیڈز یا جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایم آر وی میزائل سسٹم ہے جو دشمن کے میزائل سسٹم کو تباہ کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اس میزائل میں موجود ہر وار ہیڈ ایک سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انڈیا تقریباً ایک دہائی سے روس کی مدد سے بلیسٹک میزائل سسٹم پر کام کر رہا ہے اور وہ ناصرف اس کے تجربات کرتا ہے بلکہ عوامی سطح پر اس کے بارے میں بات بھی کرتا یے لیکن پاکستان ایسا پروگرام تیار کرے تو اس پر امریکہ کو تکلیف ہو جاتی ہے۔ انڈیا نے حال ہی میں اگنی فائیو میزائیل سسٹم کا تجربہ کیا ہے جس کی رینج کم از کم 80000 کلومیٹر ہے اس کے مقابلے میں ابابیل کی رینج محض 2200 کلومیٹر ہے اور یہ پوری دنیا میں سب سے کم رینج تک مار کرنے والا ایم آر وی ہے۔

چیف جسٹس کی توسیع کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کا اعلان

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابابیل میزائیل صرف اور صرف انڈیا کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے لیکن امریکہ کو 2021 سے جس میزائل پر تشویش ہو رہی ہے وہ شاہین تھری میزائل ہے جس کی رینج 2740 کلومیٹر ہے۔ دراصل ابابیل شاہین تھری میزائل کی اگلی جنریشن ہے۔ یاد رہے کہ شاہین تھری کے تجربے کے وقت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے کہا تھا کہ ’یہ میزائل صرف اور صرف انڈیا کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد انڈیا میں اہم سٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانا ہے تاکہ انڈیا کو چپھنے کے لیے کوئی جگہ نہ مل سکے اور یہ غلط فہمی نہ رہے کہ انڈیا میں ایسی جگہیں ہیں جہاں وہ کاؤنٹر سٹرائیک کے لیے اپنے سسٹمز چھپا سکتا ہے اور پاکستان ان مقامات کو نشانہ نہیں بنا سکتا۔

Back to top button